Daily Mashriq

پختونخوا ، انتخابات اور وسائل

پختونخوا ، انتخابات اور وسائل

سب سے پہلے ، اہم اور ناگزیر دعا و تمنا یہ ہونی چاہیئے کہ پاکستان قائم ودائم اور شادوآباد رہے اس کے بعد دیگر سارے معاملات چلتے رہیں گے اور کچھ لاینحل اورکچھ حل ہوتے رہیں گے ۔ گزشتہ ستر برسوں میں اگرچہ پاکستان کی آدھی عمر مارشل لاء شریف کے نیچے گزری ہے اور آدھی ایک دوکے سوا ٹوٹے پھوٹے جمہوری نظام کے تحت بسر ہوئی ہے ۔ اگرچہ جمہوریت پسند اور مارشل لاء والے ایک دوسرے پر طعن تشنیع اور الزام و استہزا کے مواقع ضائع نہیں کرتے ، اور پاکستان کی پسماندگی کا الزام اور ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ اچھے اور ترقی کے کام دونوں ادوار میں ہوتے رہے ہیں ۔ تربیلا اور منگلا ڈیمز جیسے میگا پراجیکٹس ایوب خان مارشل ہی کا کارنامہ ہے تو پاکستان سٹیل مل اور ٹیکسلا اورواہ کینٹ کے پراجیکٹس بھٹو کے عوامی جمہوری دور کی یاد گارہیں ۔ اس طرح موٹرویز اور لاہور کی ترقی اور گرین اور اورنج بسیں اور ٹرینیں وغیرہ نوازشریف کی یاد لاتے رہیں گے ۔ مشرف کے دور میںاگرچہ حالات بہت گمبھیر ، پیچیدہ اور متنازعہ رہے لیکن بہرحال غازی بروتھا جیسا کام پاکستان کی زراعت کو ترقی اور وسعت دینے میں یاد کیا جاتا رہے گا ۔
لیکن جب ہم صوبوں کی بات کرتے ہیں تو اس میں شک نہیں کہ چھوٹے صوبوں کو وسائل کی تقسیم اور ترقی کے حوالے سے ہمیشہ شکایات رہی ہیں ۔ بنگلہ دیش کے قیام میں اگرچہ ہندواساتذہ نے نئی نسل کو غلط راہ پر ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ، لیکن بہر حال اُس کے لئے معاشی عدم مساوات کی بنیاد موجود تو تھی اسلام آباد کی سڑکوں کو سونگھ کر مجیب الرحمن نے جب کہا کہ مجھے ان ترقی یافتہ شہر کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آرہی ہے ، یہ بات مشرقی پاکستان میں محاورہ اور ضرب المثل کے طور پر کی جاتی تھی ۔ پاکستان میں ایک عرصے سے خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان ، پنجاب کی سیاسی ومعاشی بالادستی کے خلاف شکایت کناں رہے ہیں ، یہاں تک کہ ایک زمانے میں سندھودیش ،گریٹر بلوچستان اور پختونستان کی کچڑ یاں بھی پکتی رہی ہیں ۔ ان چیزوں میں حقیقت ہونے کے ساتھ پاکستان مخالف قوتوں کا مبالغہ آمیز پروپیگنڈہ بھی شامل ہوتا رہا ہے ، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ تینوں چھوٹے صوبے پنجاب کے مقابلہ میں پسماندہ اور محروم ہیں اگرچہ اس میں کچھ ہاتھ فطرت کا ، کچھ سرداروں ، وڈیروں اور خوانین کا ہے اور کچھ کچے پکے جمہوری نظام کا ہے ۔ لیکن بھوکا اور پیاسا تو بہر حال روتا اور بلکتا ضرور ہے ۔ چھوٹے صوبوں کے پرزور اصرار پر اٹھارہویں ترمیم منظور ہوئی تو بہت سارے اختیارات وسائل اور معاملات وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے اور سیاسی رہنمائوں نے اس پر اطیمنان کا اظہار کیا ۔ لیکن کئی سال بعد اٹھارہویں ترمیم کی موجودگی میں جب تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اکٹھے میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے تو میں حیرانگی کے ساتھ پریشان بھی ہوا ۔ اس لئے کہ اگرصوبوں کی خود مختاری کے بعد وفاق سے گلے شکوے اور احتجاجات جاری ہیں تو یہ نظام حکومت و ملک کے لئے کوئی نیک شگون نہیں اور ضرور کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا عدل وانصاف کی بنیاد پر حل کرنا، سوچنا اور روبہ عمل لانا نا گزیر ہے ۔ یہ صورت حال صوبوں کے درمیان تو ہے ہی ، صوبوں کے اندر بھی یہی حالات ہیں ۔ سرائیکی بیلٹ کیوں تخت لاہور سے الگ صوبہ بنانے پر مصر ہے ۔ یہی حال کراچی اور اندرون سندھ اور کوئٹہ اور بلوچستان کے دور پار کے اضلاع کے درمیان بھی ہے ۔ پچھلے دنوں یہی مسئلہ روزنامہ مشرق کے کالموں کے مستقلقاری ، کرک کے پڑھے لکھے متمول تاجر اورسیاست میں عملی دلچسپی رکھنے والے غفار خٹک نے اپنے طویل الیکٹرانک میسج کے ذریعے آنے والے انتخابات کے تناظر میں یاد دلایا ۔ انہوں نے لکھا کہ کرک پسماندہ ہونے کے سبب گونا گو ں مسائل کا شکار ضلع ہے ۔ زندگی کی بنیادی ضروریات بجلی ، پانی اور گیس سے اس کے باوجود محروم ہے کہ یہ ضلع تیل وگیس کی صورت میں وطن عزیز کو سالانہ اربوں روپوں کی آمدنی دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود یہ ضلع وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نظر کرم سے محروم ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کرک کے دو ایم پی ایز اور ایک ایم این اے اُس صلاحیت سے محروم دکھائی دیتے ہیں کسی کوجو ملک و قوم کی خدمت کے قابل بناتی ہے ۔ ترقی کے لئے ضروری وسائل میں پانی بجلی گیس اور تعلیم شامل ہیں ۔ کرک گیس کی پیداوار کے باوجود ڈیرہ بگٹی کی طرح گیس سے محروم ہے اگر کہیں ہے تووہاں پریشر کا مسئلہ ہے ۔ بجلی توشاید شب وروز ہی چار پانچ گھنٹے آتی ہوگی ۔ خوشحال یونیورسٹی کو قائم ہوئے عشرہ مکمل ہونے کو ہے لیکن ابھی تک مستقل جگہ کی فراہمی سے محروم ہے ۔ شعبہ جات میں پڑھانے کے لئے ماہر تجربہ کار اساتذہ کی کمی اس لئے ہے کہ وسائل کی کمی کے باعث باہر سے آنے والے ماہرین وہاں قیام کرنا پسند ہی نہیں کرتے ۔ یونیورسٹی کے لئے بجلی گیس اور پانی کی فراوانی والی جگہ کا فوری انتخاب اس علاقے کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے ۔ کرک کے عوام سے بھی پر زور اپیل ہے کہ برادری مسلک اور چھوٹے چھوٹے مفادات اور آپس کی سیاسی رقابتوں اورچپقلشوں کو پس پشت ڈال کر ایسے لوگوں کو آئندہ انتخابات میں منتخب کرلیں جو صوبائی وقومی اسمبلی میں بیٹھ کر وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ سے اس مردم خیز اور وسائل سے مالا مال ضلع کے لئے اپنا حق قانون اور دلیل کی بنیاد پرشائستگی کے ساتھ حاصل کر سکیں ۔

اداریہ