Daily Mashriq


میں انصاف چاہتی ہوں

میں انصاف چاہتی ہوں

قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے بجٹ نے کتنی ہی آراء کو جنم دیا ہے۔ جا بجا تبصرے اور تجزیے بھی ہو رہے ہیں۔ ان تجزیوں کی زبانی کتنی ہی کہانیاں جنم لیں گی۔ لوگ اچھے برے اثرات کا تعین کریں گے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اس بجٹ دستاویز کے تجزیے سے کچھ پہلے اس کیفیت کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے جو اس بجٹ دستاویز کی وجہ بنی ہے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ ہم اپنے اپنے حصے کی بجٹ دستاویز اٹھا کر اس کا ایک ایک صفحہ کھنگال کر یہ سمجھنا چاہیں گے کہ اس بجٹ کا اس ملک کو کتنا فائدہ اور کس قدر نقصان ہے۔ ہم یہ بھی بات کرنا ضروری سمجھیں گے کہ اس ملک میں جہاں گرمیوں میں پنکھا چلانے کی بجلی نہیں' انڈسٹری چلانے کی بجلی نہیں وہاں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنے' ان کے چارجنگ پوائنٹس پر عائد ڈیوٹی کم کرنے کا مطلب اور فائدہ کیا ہے؟ہم یہ بھی ضرور سمجھنا چاہیں گے کہ وہ پارٹی جس نے کبھی سرکاری ملازم کو ایک روپیہ کا فائدہ نہ دینے کی قسم کھا رکھی ہے وہ بھلا سرکاری ملازمین کو فائدہ دینے کی بات کیوں کر رہے ہیں۔ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ وہ پی ایس ڈی پی کیسے اس ملک کی ضروریات کا نگہبان ہوگا جس میں وفاق نے صوبوں کی مرضی پوچھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ ایسے بے شمار سوالات ہیں جن کا جواب ہم سب چاہتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو پی ایس پی پی کے نام سے بھی واقف نہیں لیکن اس ملک میں رہتے ہوئے مسلسل مختلف قسم کی وائرل بیماریوں سے عہدہ برآء ہے اور اپنے بچوں کو قسم قسم کی دوائیاں کھلانے پر مجبور ہے۔ لوگ جو کینسر بھگت رہے ہیں' جو سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں' یہ ضرور جاننا چاہتے ہیں کہ آخر حکومت ان ترقیاتی منصوبوں میں ہی کیوں دلچسپی لیتی ہے جس کے بعد شہروں میں سے درخت کٹ جاتے ہیں اور صحت کی بنیادی سہولتوں کے فقدان کی کسک اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔ لوگ حکمرانوں سے سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کیا محض سڑکیں بنانا ہی ترقی کا اصل پیمانہ ہے۔ پھر تو یورپ میں کہیں ترقی ہی دکھائی نہ دے کیونکہ اتنی سڑکیں تو وہاں بھی نہیں۔ لیکن ابھی یہ سب باتیں کرنے کا وقت نہیں' ابھی ہم میں سے کسی کو یہ فرصت بھی نہیں کہ عدالت کے پاس درخواست لے کر حاضر ہوکہ جناب میرے بچے ماحولیاتی آلودگی کے باعث مسلسل بیمار رہتے ہیں اور میں اس سب کا براہ راست ذمہ دار اس حکومت کو سمجھتا ہوں۔ لیکن میں سوچ رہی ہوں کہ میں عدالت عالیہ میں ایک درخواست دائر کروں کہ یہ حکومت میرے بچوں کی گرتی ہوئی صحت کی براہ راست ذمہ دار ہے اور میں اس حکومت پر ہرجانہ کرنا چاہتی ہوں۔ میں سوچ رہی ہوں کہ میں یہ درخواست دائر کروں کہ میر ے گھر میں کینسر جیسا موذی مرض داخل ہوگیا ہے کیونکہ پاکستان میں صاف ہوا ہی باقی نہیں رہی۔ ہر شہر میں درخت کاٹ کر سڑکیں بنائی جا رہی ہیں کیونکہ حکمران ان سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں۔ وہ بدعنوانی کی جونکیں ترقیاتی سکیموں میں ہی تو لگاتے ہیں۔ ان کی لوٹ مار کو میں تو بھگت رہی تھی اب میرے گھر کے بزرگ اور میر ے بچے بھی بھگت رہے ہیں۔ان پر اب فرسٹ جنریشن اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتی۔ وہ تیسرے یا چوتھے درجے کی اینٹی بائیوٹک استعمال کرتے ہیں اور اس حکومت نے سی پیک کی شکل میں ایسے معاہدے کئے ہیں جن کے باعث یہ ملک میرے بچوں کے لئے اور بھی غیر محفوظ ہوتا چلا جائے گا۔ انہی لوگوں کے باعث پوری دنیا میں ہمارے ملک کا کوئی وقار باقی نہیں رہا اور میں دنیا میں کہیں ہجرت کرنے کا سوچ نہیں سکتی۔ میں اپنے ملک سے بہت پیار کرتی ہوں لیکن مجھے اپنے بز رگوں اور اپنے بچوں کی زندگی عزیز ہے۔ ملک میں اس قدر مایوسی ہے کہ لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ وہ اب چھ سات سال کے بچوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ اس خوف میں بھلا میرے بچے اچھے شہری کیسے بن سکتے ہیں اور جو تنخواہوں کا اضافہ اپنے ووٹوں کے لالچ میں حکومت وقت کر رہی ہے میرے ہر ایک کرب کی قیمت اس سب سے کہیں زیادہ ہے۔ میں اس بجٹ کا تجزیہ نہیں چاہتی میں ان لوگوںسے نجات چاہتی ہوں ' یہ لوگ جو اسمبلیوں میں بیٹھے ہمارا مذاق اڑاتے ہیں جن کے لئے ذاتی مفاد سے زیادہ اس ملک کے بائیس کروڑ عوام کی کوئی اہمیت نہیں۔ میں ان لوگوں کو اس وقت شہروں کے چوراہوں میں پھانسی لگتے دیکھنا چاہتی ہوں جب ہم جیسا کوئی بے وقوف ووٹ ڈالنے والا انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کرتا ہے اور اس کے گھر میں اس کی ماں پھیپھڑوں کے سرطان کا شکار خون تھوک رہی ہوتی ہے۔ لیکن ہماری کہیں شنوائی نہیں کیونکہ ہمیں یہ احساس نہیں اور ہم اپنی شکایت لے کر عدالت کے پاس نہیں جاتے۔ ہمیں بجٹ کی مٹی میں سے اپنے اپنے سکے چننے کی عادت ہے۔ ہم بھی اپنا اپنا مفاد تلاش کر رہے ہیں۔ یہ بجٹ نہیں ہے اس قوم کے منہ پر طمانچہ ہے۔ وہ حکومت جس کا ایک مہینہ باقی رہ گیا ہے جن کے اراکین تاحیات نا اہل ہو رہے ہیں' اس کا ایک شو پیس وزیر اعظم اس قوم کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ چار ماہ بعد بھی ہم ہی ہوں گے اور تجزیہ نگار پھر بھی بجٹ کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان حکمرانوں کے مقاصد کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس وقت ہمیں کسی اور کے نہیں اپنے تجزیے کی ضرورت ہے۔ آخر ہم چاہتے کیا ہیں۔ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ ہماری امیدیں کیا ہیں۔ میں تو اپنے بچوں کو زندہ دیکھنا چاہتی ہوں اور میں نے یہ فیصلہ آج کرنا ہے جب بجٹ کے نام کا طمانچہ ان حکمرانوں نے عوام کے منہ پر مارا ہے۔ اس بجٹ میں آنے والی حکومت پر کیا ضرب ہے میں نہیں جاننا چاہتی۔ اس حکومت کو کیا سیاسی فائدہ ہے میں نہیں سمجھنا چاہتی۔ میں ایک ماں' ان حکمرانوں سے اپنے بچوں کے بیمار رہنے کا بدلہ چاہتی ہوں۔ میں انصاف چاہتی ہوں۔

متعلقہ خبریں