Daily Mashriq


پنشنرز۔جو چاہے آپ کاحسن کرشمہ ساز کرے

پنشنرز۔جو چاہے آپ کاحسن کرشمہ ساز کرے

''بجٹ میں تاخیر اور ملازمین'' کے ذیلی عنوان کے تحت 17اپریل کو چھپنے والے اپنے کالم میں اشاروں اشاروں ہی میں راقم نے پہلے ہی ان حالات پر روشنی ڈال دی تھی اور لگے بندھے نتیجے کی نشاندہی کردی تھی جو بجٹ تقریر میں بالآخر سامنے آہی گیا۔ یعنی میں کوئی منجم ہوں نہ جوتشی مگر وہ جو شاعر نے کہا ہے کہ خط کا مضمون دیکھ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر۔ تو حکمرانوں کے چہروں پر اس قسم کی تحریریں گزشتہ کئی برس سے پڑھتے رہنے کے تجربات سے گزرتے ہوئے تھوڑا بہت قیافہ شناسی آگئی ہے۔ اس لئے پورے بجٹ پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے صرف ''تجھ کو پرائی کیا پڑی' اپنی نبیڑ تو'' کے کلئے پر عمل کرنے کی اجازت دیجئے یعنی بے چارے پنشنرز کے دکھوں کی عرضداشت تک خود کو محدود رکھنے دیجئے اور اس حوالے سے بجٹ کے موقع پر گزشتہ کئی سال سے اپنے کالموں میں لگ بھگ انہی خیالات کا اظہار کرتا رہتا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلنا مگر دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے کے مصداق دل کے پھپھولے پھوڑ کر اپنے ہی جیسے پنشنروں کو بھی اپنے ساتھ تھوڑی دیر کے لئے خوش کرنے ہی میں عافیت ڈھونڈنے کی کوشش کرلیتا ہوں۔ اس سے ماوراء ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر سیدنا عثمان مروندی جنہیں عرف عام میں حضرت لال شہباز قلندر کہا جاتا ہے کا ایک شعر ضرور یاد آتا ہے' فرماتے ہیں

توآں قاتل کہ از بہر تماشا خون من ریزی

من آں بسمل کہ زیر خنجر خونخوارمی رقصم

یعنی تو صرف تماشا دیکھنے کے لئے میرا خون بہاتا ہے' میں وہ زخم خوردہ ہوں جو خنجر کے سائے میں بھی رقص کرنا جانتا ہے۔ یہ کھیل گزشتہ نہ جانے کتنے برس سے جاری ہے۔ بجٹ سے پہلے (Filler) فلر کے طور پر ایسی خبریں یا افواہیں چلا دی جاتی ہیں اور سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ پنشنرز کو ''خوشخبریوں کے کھلونے'' تھما دئیے جاتے ہیں جن کے ساتھ امیدوں کے چراغ بھی روشن ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد اگر ایک جانب حاضر سروس ملازمین کو ممکنہ احتجاج اور سیاہ پٹیاں ہاتھوں پہ باندھ کر بلکہ بعض صورتوں میں قلم چھوڑ ہڑتالوں سے روکنے کی حکمت عملی ہوتی ہے اور وہ صرف اخباری بیانات میں اپنے مطالبات پر زور دینے تک ہی محدود رہتے ہیں تو دوسری جانب پنشنرز کو خوش کن مستقبل کے اگلے بارہ مہینوں کے حوالے سے سنہری خواب دیکھنے اور اس ضمن میں مختلف ''افواہ ناک خبروں'' کے شائع ہونے کے ہنگام کیلکولیٹرز لے کر حساب کتاب کرتے ہوئے من ہی من میں خوش ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ تاہم ہر سال یہی ہوتا ہے کہ وہ خواب سہانا ٹوٹ گیا' امید گئی ارمان گیا والا گانا انہیں ضرور یاد آجاتا ہے۔ کیونکہ نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات والا ہی ہوتا ہے۔پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کا ''طریقہ واردات'' ہم گزشتہ کئی برس سے دیکھتے آئے ہیں جو اگرچہ سرکاری ملازمین اور بے چارے پنشنرز کے ساتھ وہی حرکت کرتے ہیں جو ایک لطیفہ نما حکایت میں بہت سے لوگ جانتے ہیں یعنی ایک انتہائی کنجوس شخص اپنے ملازم کے ساتھ کہیں جا رہا تھا' بھوک لگی تو سیاہ چنے خرید کر کھانے لگا' نوکر بے چارہ اسی طرح بھوک سے ہلکان پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔ مالک سے ایک چنا غلطی سے نیچے گر کر مٹی میں جا پڑا تو نوکر نے اٹھا کر صاف کیا اور منہ میں ڈال دیا۔

مالک نے دیکھا تو کہا' کھالو کھالو' ہمارے ساتھ رہو گے تو ایسی ہی عیاشی کرو گے۔ تو ہر سال پارلیمنٹ کے ارکان یہی تو کرتے ہیں' خود تو جب ان کی تنخواہیں اور مراعات کا معاملہ ہو تو ہینگ لگے نہ پھٹکڑی' رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق ادھر بل پیش ہوتا ہے اور ادھر فوراً اسے پاس کرلیا جاتا ہے حالانکہ یہ تنخواہیں اور مراعات تو ان کے لئے کوئی حیثیت رکھتی ہی نہیں کہ ہر سال انہیں جو ترقیاتی فنڈز دئیے جاتے ہیں ان کے حوالے سے بہت سی داستانیں پہلے ہی زبان زد عام ہیں۔ البتہ ان تنخواہوں اور مراعات کا'' استحصال'' تو ان میں سے اکثر لوگ یوں بھی کرتے ہیں کہ مہینوں تک پارلیمنٹ کا منہ تک نہیں دیکھتے یعنی وہاں تشریف لا کر قانون سازی میں اپنا آئینی کردار ادا کرتے جو آئینی ' قانونی کے علاوہ اخلاقی طور پر بھی ان کی ذمہ داری بنتی ہے' مگر مسلسل غیر حاضری کے باوجود بھی یہ رقوم ان کے اکائونٹس میں جمع ہوتی رہتی ہیں تاہم جب بے چارے سرکاری عمال اور پنشنرز کی بات آجائے تو صرف دس فیصد کی بھیک ان کی جھولیوں میں ڈال دی جاتی ہے۔ اس پر اگر حکومتی حلقے مصر رہتے ہیں تو اپوزیشن ارکان بھی دوسرے مدات میں مختص کی جانے والی رقوم پر تو پارلیمنٹ میں آکر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں جبکہ ملازمین کو حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مصداق دی جانے والی رقم پر کوئی کمزور اور نحیف آواز بھی نہیں اٹھتی۔ اب یہی دیکھ لیجئے ' پنشنرز کے لئے کم سے کم رقم میں ازراہ مہربانی اضافہ کرتے ہوئے دس ہزار کردی گئی ہے تاہم جن ماہرین اور مشیروں نے اتنی مہربانی فرمائی ہے وہ ذرا ایک متوسط گھرانے کا اتنی ''بڑی'' رقم میں بجٹ بنا کر بھی دکھا دیں۔ ویسے اب کی بار ملازمین کی تنخواہوں میں ایڈ ہاک ریلیف کے طور پر دس فیصد اضافے کے ساتھ کم از کم رہائشی الائونس اور گھروں کے کرایوں میں پچاس فیصد اضافے سے کچھ نہ کچھ ریلیف تو دے دیاگیا لیکن پنشنرز کو صرف دس فیصد اضافے پر ہی ٹرخا دیاگیا۔ یعنی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

متعلقہ خبریں