مشرقیات

مشرقیات


۔عبدالرحمن محاربی  ،لیث  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دنیا کو بوڑھی عورت کی شکل میں دیکھا ، جو خوب اچھی طرح مزین تھی ، تو اسے کہا : تونے کتنے خاوند کئے ہیں ؟ ۔ وہ کہنے لگی : بے شمار ہیں ،تعداد معلوم نہیں ! حضرت عیسیٰ  نے پوچھا : ان سب کا انتقال ہوگیا یاانہوںنے تجھے طلاق دیدی ؟ ۔ کہنے لگی : میں نے سب کو قتل کردیا ہے ۔ 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے : تیرے باقی شوہروںکا برا ہو! وہ تیرے سابق شوہروں سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ تو ایک ایک کو کس طرح قتل وہلاک کررہی ہے ، وہ پھر بھی تجھ سے نہیں بچتے ۔ 
محمد ابن انس اسدی  فرماتے ہیں کہ چند لوگوں کا مقام ''ابرق عزاف '' سے گزرہو ا تو انہوں نے ہاتف غیبی کو سنا ، جو کہہ رہا تھا : دنیا جس شخص کا انتہائے مقصود ہو ،وہ دھوکے کی رسی پکڑے ہوئے ہے ۔ اوفی بن دلہم ابو العلاء سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں انتہائی بوڑھی عورت کو دیکھا ، جس کے جسم پر جھریاں پڑی ہوئی تھیں اور اس نے دنیا کی ہر زینت اختیار کر رکھی تھی ۔ لوگ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے للچائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔ میں نے اس کے قریب آکر دیکھا تو لوگوں کے اس طرح اس کی طرف دیکھنے سے تعجب ہوا ،میں نے اس عورت سے پوچھا : تیر اناس ہو ! تو کون ہے ؟ وہ کہنے لگی : آپ مجھے نہیں پہچانتے ؟ میں نے کہا : مجھے کیا معلوم تو کون ہے ؟ وہ کہنے لگی میں ہی دنیا ہوں ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں تیرے شر سے خدا کی پنا ہ چاہتا ہوں ۔ وہ کہنے لگی : اگر آ پ میرے شر سے بچنا چاہتے ہیں تو پیسے روپے سے محبت نہ کرتا ۔ سفیان بن عیینہ  فرماتے ہیں کہ مجھے ابوبکر بن عیاش نے کہا کہ میں نے دنیا کو خواب میں کبڑی ، بد شکل بوڑھی عورت کی شکل میں دیکھا ۔ ابوبکر بن عیاش  نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک بدشکل بڑھیا کو دیکھا جس کے سر میں کھچڑی بال تھے ۔ جو تالیاں بجاتی جارہی تھی ۔ اس کے پیچھے پیچھے بے شمار لوگ تالیاں بجاتے اور ناچتے جارہے تھے ، جب وہ میرے قریب سے گزری تو میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی : اگر تو میرے قابو میں آگیا تو تیرا بھی یہی حال کروں گی جو ان کا کر رکھا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کہہ کر ابو بکر  رونے لگے اور فرمایا : یہ خواب میں نے بغداد آنے سے قبل دیکھا تھا ۔ (کتاب الزہد)
حضرت سعید بن زید  (عشرہ مبشرہ ) کے پاس ایک شخص نے آکر خدا کے واسطے سوال کیا تو حضرت سعید  نے اپنے غلام سے کہا کہ اسے پانچ سو دو ، غلام نے پوچھا کہ حضرت ! دینار دو ں یا درہم ؟ حضرت سعید  نے فرمایا کہ میرا ارادہ تو اصل میں درہم ہی دینے کا تھا مگر جب تم نے سائل کے سامنے دینا ر کا ذکر کر دیا تو اب پانچ سو دینار ہی دے دو ۔ یہ سن کر سائل رونے لگا ۔ حضرت سعید  نے پوچھا کیوں روتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ میرے آقا! میں یہ سوچ رہا ہوں کہ آپ جیسے فضل وکرم والے کو زمین اپنے اندر کیسے سمو ئے گی۔ (الترغیب ہیب)

اداریہ