Daily Mashriq

سی پیک، سماجی تبدیلی کی علامت

سی پیک، سماجی تبدیلی کی علامت

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کی خوشحالی کا راستہ ہے، پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہم چین کے شراکت دار ہیں، ون بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے جڑے ممالک کے درمیان تعلیمی اور جدید رابطوں کو بڑھانا ہوگا، نوجوان آبادی ہنرمندی اور مہارت کے ذریعے عالمی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے،بیجنگ میں منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جدید دور میں چین کا میابی کی عظیم مثال ہے، پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہم چین کے شراکت دار ہیں،دونوں ممالک کے درمیان خصوصی اقتصادی زون قائم کئے جارہے ہیں،موٹرویز ہائی ویز اور ریلوے کا نظام بہتر کیا جارہا ہے ،پاورپلانٹس اور خصوصی پورٹس کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے،پاکستان بندر گاہ کے ذریعے خطے اور براعظموں کو آپس میں جوڑ رہا ہے،سی پیک محض ٹرانزیکشن نہیںبلکہ ہمارے پورے معاشرے کی تبدیلی کی علامت بن گیا ہے،گوادر بندرگاہ سے چین کوتجارت کیلئے آسان اور چھوٹا راستہ فراہم ہوگا۔بیلٹ اینڈروڈ فورم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے جن حقائق کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی ہے ان کی اہمیت اور حقیقت اپنی جگہ یقیناً مسلم ہے ،سی پیک کی تعمیر سے اگرچہ بقول وزیراعظم عمران خان چین کو عالمی سطح پر تجارت کیلئے موجودہ طویل راستے کی جگہ چھوٹا اور کم فاصلے کا راستہ ملنے کے علاوہ گوادربندرگاہ کی سہولیات بھی حاصل ہوں گی تاہم یہ سہولیت یکطرفہ نہیں ہیں بلکہ انہی کی بدولت پاکستان کی اقتصادی حالت بہتر ہونے کے سبب پاکستان کا مستقبل بھی شاندار اور محفوظ ہوگا،سی پیک سے منسلک منصوبوں کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری کا خاتمہ کرنے اور ہنرمندوں کو کھپانے میںمدد ملے گی جبکہ گوادر بندگاہ کی تعمیر اور فعال ہونے سے عالمی تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ سی پیک منصوبہ یقینا پاکستان کی خوشحالی کیلئے نئے درکھولنے کا باعث بنے گا،یاد رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کے دورۂ ایران کے دوران ایرانی بندرگاہ چاہ بہار اور گوادر کو باہمی طور پر مربوط کرنے کی سوچ بھی پروان چڑھی اور اگر اس پر عملی طور پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ ایک اور سنگ میل ہوگا جو جنوبی اور وسطی ایشیاء کے ممالک کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا، یہ بات پہلے ہی سی پیک کے منصوبہ سازوں کے ذہن میں ہے اور اس پر ذرائع ابلاغ میں بحث ومباحثہ، تبادلہ خیال اور تبصرے وتجزیئے کئے جاتے رہے ہیں کہ اگر سی پیک کو وسط ایشیائی ریاستوں، افغانستان،ایران بلکہ بھارت تک آنے والے دنوں میں توسیع دی جائے تو عالمی سطح پر تجارت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے گا، بد قسمتی سے بھارت اس ضمن میں امریکی شہ پر اس منصوبے سے استفادہ کرنے کے مواقع چھوڑ کر مخالفت پر اترا ہوا ہے اور اس ضمن میں اس نے گوادر کے مقابلے میں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شروع کی ہے جبکہ اس کا مقصد جہاں ایک جانب گوادر بندرگاہ کی اہمیت گھٹانا ہے وہیں دراصل خطے میں کلبھوشن یادیو قسم کے جاسوسی اور تخریبی نیٹ ورکس کو فعال بنا کر پاکستان کیخلاف معاندانہ سرگرمیاں تیز کرنا ہے،تاہم اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ ماہرین کے مطابق چاہ بہار بندرگاہ سمندر کے اندر جاکر قائم ہے جبکہ گوادرسمند ر کی عین گزرگاہ پر واقع ہونے کی وجہ سے اپنی ایک خاص اہمیت اور افادیت کی حامل ہے اور گوادر بندرگاہ فعال ہونے سے دنیا کی تجارت کا رخ اس کی جانب مڑ جانے کے قوی امکانات ہیں، خاص طور پر وسط ایشیائی ریاستوں کیلئے گوادر سے منسلک سی پیک کا راستہ نہایت مختصر ہوگا جبکہ چاہ بہار تک راستہ بھی نسبتاً طویل ہے،یوں نہ صرف چین بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کی تجارت بھی گوادر اور سی پیک پر منتقل ہو جائے گی اور یہی وہ صورتحال ہے جو نہ امریکہ کیلئے قابل قبول ہے نہ ہی بھارت سے برداشت ہورہی ہے حالانکہ بھارت اگر اس سے چاہے تو استفادہ کرسکتا ہے اور خطے کی ترقی میں اپنا حصہ حاصل کرکے اپنے عوام کی خوشحالی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔اس ضمن میں خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک اہم خطے میں واقع ہے اور ہماری پوری تاریخ اس بات کی مظہر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ نئے تصورات، ثقافت اور تجارت کو باہم مربوط کیا ہے، رابطوں کا فروغ ہماری تاریخ کا ایک حصہ ہے اور سی پیک کے ذریعے21ویں صدی میں اس کو جدید خطوط پر استوار کیاجارہا ہے، جس سے ہمارے خطے میں خوشحالی آئے گی اور دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے میں اپنا کردار ادا کریں اور باہمی ترقی اور خوشحالی کے اس منصوبے کی کامیابی میں تعاون سے دنیا میں امن کے فروغ کو یقینی بنائیں۔

متعلقہ خبریں