Daily Mashriq


کرپشن الزامات اور جوابی اقدام

کرپشن الزامات اور جوابی اقدام

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے خیبر پختونخوا میں اپنی جماعت کی کابینہ کو تحریک انصاف حکومت کی مبینہ کرپشن اور بدعنوانیوں کیخلاف قومی احتساب بیورو میں مزید درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت، خصوصاً بی آرٹی کے حوالے سے شواہد جمع کرنے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بلین ٹری منصوبے پر سوال اُٹھانے کے بعد وزیراعلیٰ محمود خان اور صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی کے بیانات جواب آں غزل قرار دیئے جا سکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آڈٹ سسٹم کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صوبائی سطح پر محکموں، اداروں اور کمپنیوں کی پرفارمنس آڈٹ کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ حکمرانی کی بہتر کارکردگی میں اضافے اور خدمات کی مؤثر فراہمی کیلئے سالانہ پرفارمنس آڈٹ ناگزیر ہے، انہوں نے صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ آڈٹ ٹیموں کو درکار تعاون فراہم کی جائے، ادھر صوبائی وزیراطلاعات وتعلقات عامہ شوکت یوسفزئی نے موجودہ پی ٹی آئی حکومت کا یہ عزم دہرایا ہے کہ قوم کو کرپشن، مہنگائی اور قرضوں پہ قرضے لیکر دیوالیہ پن کی دلدل میں ڈبونے والے حکمرانوں سے بلاامتیاز حساب ہوگا اور غریب عوام کا خون چوس کر لوٹی گئی دولت واپس لائی جائے گی، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کرنے اور کرپشن کیخلاف واویلا کرنے والوں کے پاس اگر کرپشن کا کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں، اب چور مچائے شور والی سیاست نہیں چلے گی، کرپشن فری پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو کر رہے گا۔ کرپشن کے الزامات اور جوابی بیانیہ کو غور سے دیکھا جائے تو یہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ جس طرح گزشتہ حکومتوں کیخلاف نیب نے انکوائری کر کے کیس عدالت کے حوالے کئے ہیں اسی طرح موجودہ حکومت کے جن منصوبوں پر کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ان کو بھی انکوائری کے عمل سے گزارا جائے کیونکہ سرکاری اداروں کی عام آڈٹ سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ آڈٹ کمیٹیاں کس طرح اور کن وجوہات پر بعض اوقات ہاتھ ہولا رکھنے پر مجبور ہوتی ہیں اور جہاں تک صوبائی وزیراطلاعات کے چیلنج کا تعلق ہے تو جب تک لیگ(ن) حکومت کے حوالے سے جے آئی ٹی کی طرح مبینہ کرپشن کے الزامات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیکر تحقیقات کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچایا جائے گا، صرف اپوزیشن جماعتوں کے پاس ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے جو ان الزامات کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچا سکے، اس کے علاوہ صوبائی وزیر کے گزشتہ روز کے اس بیان کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے جس میں انہوں نے بنوں میں بلین ٹری منصوبے پر اپوزیشن ارکان کے بیانات کو یہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی کہ اپوزیشن اراکین نے کمیٹیوں سے استعفے دے رکھے ہیں اس لئے ان کے دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں، حالانکہ ریاست مدینہ کے قیام کا دعویٰ کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ریاست مدینہ میں ایک عام شہری بھی خلیفۂ وقت سے استفسار کرنے کا حقدار ہوتا ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن کے الزامات کو صرف چور مچائے شور کے الفاظ میں لپیٹنے سے احتراز کرتے ہوئے معاملات کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنے اور عملی اقدامات سے الزامات کو غلط ثابت کر کے اپنی بے گناہی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے۔

ضم شدہ اضلاع میں صحت سہولیات

صوبائی حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ہسپتالوں کی ترقی سمیت ضروری آلات ومشینری اور ایمبولینسز کی فراہمی، فی مریض ادویات کے اخراجات کے تعین کیلئے نئے منصوبے متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے تمام ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں اور سول ہسپتالوں کی انتظامیہ سے درکار فنڈزکی تفصیلات طلب کرلی ہیں، منصوبے کیلئے پی سی ون کی تیاری کا آغاز یقیناً خوش آئند ہے اور چونکہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل ہونے کے بعد ان علاقوں کا انتظام وانصرام اب صوبہ خیبر پختونخوا کی آئینی ذمہ داری ہے اس لئے وہاں قائم ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی بھی صوبے کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، تاہم اگر صوبائی حکومت اس کیساتھ ساتھ پشاور کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں شعبۂ امراض قلب کی موجودہ صورتحال پر بھی توجہ مرکوز کر ے جہاں حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے کارڈیک شعبہ مشکلات سے دوچار ہے اور دل کے آپریشن کے مسائل پر انتظامیہ اور دیگر متعلقہ افراد کے درمیان اختلافات نے غریب مریضوں کیلئے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں، امید ہے اس سلسلے میں ذاتی انا کے خول سے نکل کر متعلقہ حکام اور ڈاکٹرز عام لوگوں کی بہبود کیلئے ضروری اقدام کر کے مسئلہ حل کردیں گے۔

متعلقہ خبریں