Daily Mashriq

جمہوریت میں مافیا کی آسان پرداخت

جمہوریت میں مافیا کی آسان پرداخت

پتہ نہیں یہ مافیا کیا بلا ہے کہ ہمارے ملک میں اس کی پیداوار اتنی ہے کہ جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ گندم کی جگہ مافیا اگ رہا ہو۔ جیسے قبضہ مافیا، پارکنگ مافیا، تجاوزات مافیا، منشیات مافیا، بھتہ مافیا، بھکاری مافیا، کرپشن مافیا، اتنے مافیا ہیں کہ توبہ توبہ۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم مافیا میں خودکفیل ہیں۔لوگ ان مافیوں کے عادی ہوگئے ہیں جیساکہ حالیہ تجاوزات کیخلاف آپریشن کو غریبوں کیخلاف سازش کہا جانے لگا یعنی فٹ پاتھ پر دکان قائم کرنا ان کا حق ہوگیا۔ ملکی ترقی اور خوشحالی کو سب سے زیادہ جن چیزوں نے نقصان پہنچایا اور لوگوں کو غلط راستے پر چلایا وہ کرپشن، رشوت اور مافیا کے ہاتھ مضبوط کرنا اور اس کو سسٹم کا حصہ بنا دینا ہے۔پارکنگ شہر کا بڑا مسئلہ رہا ہے اور اس مسئلے کو پرچی مافیا نے حل کیا۔ اب آپ پارکنگ کیلئے پریشان ہیں، جگہ نہیں مل رہی، ایسے میں پرچی مافیا بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوجاتے ہیں اور آپ کی گاڑی کو بڑی محبت اور مہارت سے چھوٹی سی چھوٹی جگہ پر پارک کرکے آپ پر احسان عظیم کرتے ہیں اور آپ بھی پرچی مافیا کو پارکنگ فیس دیکر سکون کا سانس لیتے ہیں کہ شکر ہے، پارکنگ تو ملی۔کسی سرکاری ادارے میں اپنے کام کی غرض سے جائیں تو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے مگر جیسے ہی مٹھی گرم فارمولا استعمال کیا جائے تو گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے۔ غرض لوگوں کی سہل پسندی، بے اصولی نے رشوت، کرپشن مافیا کے ہاتھ مضبوط کرکے ان کو مستحکم اور مضبوط کردیا ہے۔ یہ مافیا ہر ادارے کی جڑوں میں بیٹھ چکا ہے، بے حد طاقتور ہوگیا ہے اور ساتھ ہی لوگ بھی اس کے عادی ہوتے گئے۔اس مافیا گینگ کی پیدائش، افزائش، ساخت وپرداخت، دور جمہوریت کی مہربانیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا مزاج کچھ ایسا بن چکا ہے کہ لوگوں کو جس کام سے روکا جائے یا منع کیا جائے وہی کام کرنا ان کا طرۂ امتیاز بن جاتا ہے۔ لفظ پابندی سے ہمیں سخت چڑ ہے، اس لئے جہاں یہ لکھا ہوتا ہے کہ منع ہے اس لفظ کو ہم خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کے مظاہرے ہم اپنے معاشرے میں دن رات دیکھتے ہیں۔بہت سی جگہوں پر لکھا ہوتا ہے کہ یہاں پارکنگ منع ہے۔ یہ لکھنا گویا پارکنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور لوگ قانون کو خاطر میں نہیں لاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں کارسیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث ہر سال کئی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں مگر لوگ اس پابندی کے عادی ہی نہیں۔مافیا کوئی غیر زمینی مخلوق نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے۔ لوگ مافیا سسٹم کو قبول کرکے اور اس کیخلاف ایکشن نہ لیکر ان کے ہاتھ مضبوط کرتے چلے آئے ہیں ۔ پاکستان بنے71سال بیت گئے۔ ان سالوں میں شہروں کی پلاننگ کو صرف بگاڑا گیا۔ لاقانونیت، بھتہ خوری نے ہر چیز کی اہمیت ختم کردی اور لوگ لا اینڈ آرڈر کی خلاف ورزی کو معمولی بات سمجھنے لگے۔ ناجائز قابضین نے پل، فٹ پاتھ، پارکس یہاں تک کہ ریلوے لائن کو بھی نہیں بخشا۔ اس پر بھی گھر، دکانیں قائم کیں۔ غیرقانونی تعمیرات کی گئیں جن کی وجہ سے شہروں میں مسائل گمبھیر صورت اختیار کرتے چلے گئے۔ ایسا بھی اکثر ہوا کہ جب کوئی پلان کسی ہاؤسنگ اسکیم کا ہوتا ہے تو اس کے نقشے میں پارک، کھیل کے میدان، خاص طور پر ہائی لائٹ کئے جاتے ہیں مگر جیسے ہی یہ ہاؤسنگ اسکیم مکمل ہوتی ہے تو اس میں موجود پارک اور کھیل کے میدان غائب ہوتے ہیں اور اس پر بھی دکانیں قائم ہوجاتی ہیں کیونکہ رشوت اور مٹھی بھر فارمولا کسی بھی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کمزوری ہے جو نقشہ ہی بدل دیتی ہے۔نہایت افسوس لیکن حقیقت یہی ہے کہ ذاتی مفاد اور پیسے کے لالچ نے لوگوں کے ضمیر کو مکمل سلا دیا ہے۔ ہر وہ کام جائز سمجھ کر کیا جاتا ہے جو ان کے مفاد میں بہتر ہوتا ہے۔ اب جبکہ قبضہ مافیا اور تجاوزات کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے تو اس پر بھی سیاست ہو رہی ہے مگر یہ بات بھی بہت خوش آئند ہے کہ شہری بھی اس پر خوش ہیں جو ناجائز تجاوزات کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ عدلیہ اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں کر رہی اور یہ آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ناجائز تجاوزات غیرقانونی تعمیرات کا ٹھیکہ دینے والے عناصر کی بھی سرکوبی ہونی چاہئے جو افسران قبضہ مافیا کی سرپرستی کر رہے ہیں انہیں بے نقاب کیا جانا چاہئے تاکہ قبضہ گروپ کی کمر ٹوٹے۔ خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ آج عدلیہ، فوج اور حکومت اس سلسلے میں ایک ساتھ ہیں۔ امید یہ بھی ہے کہ دیگر مافئے جو کرپٹ سیاستدانوں کی وجہ سے خوب پھل پھول رہے ہیں ان کا بھی احتساب ہوگا۔ جس ملک کے جیسے سیاستدان ہوتے ہیں، اس کا ویسا ہی معاشرہ اور ویسی ہی اچھی یا بری حالت ہوتی ہے۔

71برسوں میں ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی کو یوں نقصان پہنچایا گیا ہے کہ آپس میں نہ اتحاد ہے نہ اتفاق کیونکہ ملک کی سیاسی پارٹیاں مفاد پرستی کا راستہ اپنائے رہیں۔ ملک کے اکثر بیوروکریٹس اوپر سے نیچے تک کرپشن میں ڈوبے رہے جن کی دولت بے حساب ہے۔ امیر، امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی عروج پر ہے۔ ہر کوئی بغیر کسی محنت، جستجو، جدوجہد کے ترقی کی سیڑھیوں پر چڑھنا چاہتا ہے۔ ہر ادارہ رشوت، کرپشن کی وجہ سے زنگ آلود ہے اب جب نیچے سے اوپر تک آوے کا آوا بگڑا ہوا ہو تو اس کو راتوں رات کیسے راہ راست پر لایا جاسکتا ہے۔ کرپشن سے پاک پاکستان بنانے کیلئے وقت چاہئے۔

متعلقہ خبریں