ڈاکٹروں کا عدم تحفظ اور فریضہ میں عدم دلچسپی

ڈاکٹروں کا عدم تحفظ اور فریضہ میں عدم دلچسپی

یہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ جس روز ہسپتالوں میں طبی عملے پر تشدد کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے عین اسی روز مردان میں علاج میں تاخیر پر ضلع ناظم ڈاکٹر کو زبردستی مریض کے پاس لانے پر مجبور ہوئے ۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے پر تشدد اور زور زبردستی تو درکنار ان سے مناسب لب ولہجے میں بات چیت کرنا عزت و احترام ملحوظ خاطر رکھنا اور اس امر کا بھی خیال رکھنا کہ جس طرح مریض کے لواحقین سخت مشکل اور تکلیف کی حالت میں ہیں ڈاکٹراور طبی عملہ بھی اس ماحول اور مریضوں کی تعداد کی بنا پر آرام سے نہیں بسا اوقات مریضوں کے لواحقین کو ڈاکٹروں اور طبی عملے کی خوش گپیوں میں مصروف رہ کر مریض کے علاج میں تاخیر کی جو شکایات آتی ہیں اس کی نہ کوئی توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس طرح کے واقع میں لواحقین کو صبر سے کام نہ لینے پر الزام دیا جا سکتا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کے بیشتر مسائل حل کئے جا چکے ہیں اور ان کی تنخواہوں میں معقول سے بھی زیادہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے اس کے باوجود مریضوں کے علاج معالجے میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں اگر ڈاکٹر حضرات مسیحائی تقدس کا خیال نہیں کریں گے تو ان کو احترام کی بھی توقع نہیں کرنی چاہیئے ۔ مردان کے واقعے کی جو رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی ہے اگر واقعہ بعینہ یہی ہے تو پھر ضلع ناظم مردان کو کوئی الزام نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس قسم کے ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیئے ۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے رویے اور فرائض سے غفلت کے ارتکاب میں ہسپتال کی کمزور انتظامیہ کی سستی و کاہلی کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے اگر ہسپتالوں کی انتظامیہ متحرک ہو اور وہ وقتاً فوقتاً ڈاکٹروں اور طبی عملے پر نظر رکھنے کا فریضہ نبھائے اور اچھے انداز میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ان کے فرائض کی ادائیگی کا پابند بنانے کی سعی کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسے حالات پیدا ہو کہ مریض کے لواحقین اور ڈاکٹرکے دست و گریباں ہونے کی نوبت آئے ۔ اکا دکا اور استثنائی واقعات تو ہو سکتے ہیں مگر ہسپتال آنے والے مریض اور ان کے لواحقین مصیبت اور مشکل میں ہوتے ہیں جن پر ترس کھانے اور ان کی بھر پور مدد کی ضرورت ہے نہ کہ ان کو تنگ آمد بجنگ آمد مجبور کیا جائے ۔
خواتین کیلئے جنرل نشستیں مختص کرنے کی تجویز
نااہل قرار دیئے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی خالی کردہ نشست این اے 120لاہور میں دو خواتین امیدواروں کا مد مقابل آکر پورے زور و شور کے ساتھ انتخابی مہم چلانے خواتین کے عام نشست پر عوام میں جا کر ووٹ مانگ کر مقابلہ دلچسپ ضرورہے ایک اور خاص بات یہ کہ ایک امید وار علالت کے باعث از خود میدان میں نہیں بلکہ ان کی صاحبزادی ان کی انتخابی مہم چلا رہی ہے دیکھا جائے تو یہ کیسے ممکن ہوا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں خواتین امیدوار ایک مرکزی شہر سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں دوم یہ کہ دونوں خواتین تعلیم یافتہ صاحب ثروت اور ان کو عوام کا سامنا کرنے کا تجربہ حاصل ہے دونوں کو اپنی اپنی جماعتی قیادت کی مکمل سپورٹ حاصل ہے اگر دیکھا جائے تو یہ تقریباً محض اتفاقات ہیں وگرنہ عام انتخابات میں اس قسم کے اچھے اتفاقات کم ہی ہوتے ہیں ۔ خواتین کو مرد امید واروں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اولاً ان کو جماعتی ٹکٹ ہی بہت مشکل سے ملتا ہے اور اگر ٹکٹ ملے تو بھی ماحول ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خاتون الیکشن نہ ہی لڑے تو بہتر ہوتا ہے ۔ لاہور کے اس ضمنی انتخابات کے تناظر میں اگرسیاسی جماعتیں اس پر اتفاق کرلیں کہ وہ شہری علاقوں میں تعلیم یافتہ خواتین کو ٹکٹ دیتے ہوئے ان کے خاتون ہونے کو مد نظر نہیں رکھیں گے بلکہ ایک اچھا امید وار ہونے پر خاتون کو ترجیح دیں گے تو یہ خواتین کی نمائندگی کیلئے اچھا ہوگا ۔ ہماری تجویز ہوگی کہ اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی کو زیادہ سے زیادہ اور مئو ثر بنانے کیلئے الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایسے حلقے بھی مختص کرے جہاں بڑی جماعتوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل خواتین امید وار ہی لانا پڑے تاکہ خواتین کا خواتین سے مقابلہ ہواور وہ صرف خواتین کی مختص نشستوں ہی کے محتاج نہ ہوں بلکہ متحرک انتخابی سیاست میں آکر فعال کردار ادا کرنے کا تجربہ حاصل کریں ۔ ہمارے تئیں تعلیم یافتہ اور پوش علاقوں پر مشتمل حلقوں کو خواتین امید واروں کیلئے مختص کرلینا چاہیئے جہاں تمام جماعتوں کو تعلیم یافتہ اور با وسیلہ خواتین امیدوار با سانی میسر آسکیں گے ۔

اداریہ