''گاڈ فادر''

''گاڈ فادر''

پورے چار سال تک تحریک انصاف کی ترجیح نمبر ایک یہ رہی کہ ایمپائر کے ذریعے یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے نواز شریف کو نا اہل قرار دلوایا جائے۔شیخ رشید کی زندگی کا تو گویا سب سے بڑا ہدف ہی یہ تھا کہ نواز شریف کو اقتدار سے نکلوایا جائے۔رہی د و ہزار تیرہ کے الیکشن میں زرداری صاحب کی ''مہربانیوں'' سے سندھ تک محدود ہو جانے والی پارٹی تو وہ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر عدلیہ کیطرف دیکھتی رہی کہ وہ کب نواز شریف کو چلتا کرے تاکہ اس کے نیم جان وجود کو کچھ آکسیجن مل سکے۔اسی عرصے میں امریکی حکومت ٹرمپ کے ہاتھ میں آئی،یہی وہ وقت تھا جب پہلے آپریشن ضرب عضب اور پھر ردالفساد شروع کیا گیا جس کا تعلق پاکستان کی بقا اور سلامتی سے تھا لیکن اتنے خوفناک اور سنجیدہ چیلنجز کے باوجود عمران خان، شیخ رشید،زرداری اپنی اپنی ڈگڈگی بجاتے رہے ۔ان کے ساتھ ان کے پسندیدہ اینکرزگو نواز گو کا مکروہ کھیل کھیلتے رہے اور نواز شریف کو اتارنے کی دھن میں ان لوگوں نے ملک اور قوم کے چار سال برباد کر دئیے اور آج پوچھتے ہیں کہ ہماری وزارت خارجہ کہاں ہے؟کوئی ان جنونیوں سے یہ تو پوچھے تم نے اس عرصے میں ملک کو درپیش خارجی چیلنجوں پر کتنے ٹاک شوز کئے؟خارجہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکومت کی کیا معاونت کی توکوئی جواب نہیں ملے گا۔آج جب امریکہ کے گاڈفادر ٹرمپ نے پاکستان کو للکارا ہے تو سب کو یاد آگیا کہ ہم مہیب خطرے کی زد میں ہیں۔نواز شریف کو ہٹانے کے شوق فضول میں مبتلا یہ سب پاکستان کو کتنے بڑے معاشی اور سیاسی نقصان سے دوچار کر چکے ہیں انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ یہ بے چارے مہرے ہیں۔

شطرنج کی بساط پر پڑے بے جان اور لاچار مہرے۔ ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہے کہ''اُن'' کی گڈ بک میں آجائے جومہروں کو آگے پیچھے کرنے کا کھیل کھیلتے ہیں۔یہ انہی مہروں کی کارستانی ہے کہ ایک ایسے موقع پر جبکہ ملک کو قومی یکجہتی کی ضرورت تھی ،ملک کے عوام بٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور یہ مہرے اس لئے پریشان ہیں کہ نوازشریف خاندان کے خلاف نیب میں تیز رفتار کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟ان کے جلسے نواز شریف کے خلاف زہر افشانی سے شروع ہوتے اور ان کی پریس کانفرنسیں اسی خاندان کی مذمت پر ختم ہوتی ہیں۔یوں کہ جیسے نواز شریف کوئی بلا یا دیو ہو جس کے ہوتے ہوئے ملک میں اور کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔میں چیلنج کرتا ہوں کہ پچھلے پانچ جلسے نواز شریف کے،پانچ عمران خان کے اور پانچ ہی بلاول کے نکال لیں اور موازنہ کریں نواز شریف نے کتنی بار ان کا نام لیا اور ان دونوں نے کتنی بار نواز شریف کو لتاڑا۔زمین آسمان کا فرق ہوگا کیونکہ نواز شریف کا مسئلہ عمران خان یا بلاول نہیں ہے لیکن ان دونوں کو نواز شریف فوبیا ضرور لاحق ہے۔ایک کو کے پی کا مینڈیٹ ملا تھا اور دوسرے کو سندھ کا۔دونوں صوبوں کی گورننس کا موازنہ پنجاب سے کر لیں۔فرق نوٹ کر لیں کہ چار سال کے اندر لاہور میں کیا تبدیلی آئی اور کراچی،پشاور میں کیا بدلا؟ یہ موازنہ آپ کو ہلا کے رکھ دے گا۔موازنہ کر لیں کہ پنجاب میں شہباز شریف روزانہ کتنا کام کرتے ہیں اور کے پی ،سندھ کے وزرائے اعلیٰ روزانہ کتنا کام کرتے ہیں۔زمین آسمان کا فرق نکلے گا ۔تو گویا عمران خان اور بلاول کو پتہ ہے پنجاب کے لوگوں نے جو مینڈیٹ نواز شریف کو دیا تھا،اس کا بدلہ شہباز شریف نے پنجاب میں چکا دیا لیکن پشاور اور کراچی میں اس مینڈیٹ کی توہین کی گئی۔دونوں جماعتوں کو پتہ ہے کہ الیکشن کے میدان میں نواز شریف انہیں چاروں شانے چت کر دے گا اس لئے یہ خوابوں میں بھی نواز شریف سے ڈرتے ہیں اور ایسی زبانی جمع خرچ کا سہارا لیتے ہیں جس کا حقائق سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔خدانخواستہ ان کی ہوس اقتدار کی وجہ سے اگر پاکستان کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے گا کہ ایک سو چھبیس دنوں کے دھرنے میں پاکستان کو کھربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا جس کی ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے لیکن انہیں اس پر کبھی نادم ہوتے بھی نہیں دیکھا گیا کہ ان کا ہر عمل ہی قومی مفاد میں ہوتا ہے کیونکہ ایمپائر جو ان کے ساتھ ملا ہوا ہے اور جس کے ساتھ پاکستانی ایمپائر ہو اسے کوئی پرفارمنس دینے کی بھی کیا ضرورت ہے؟اور وہ بے چارہ گاڈ فادر اور سسیلین مافیا کتنے آرام سے گھر چلا گیا۔اگر وہ گاڈ فادر اور سسیلین مافیا ہوتا تو ملک میں خون کی ندیاں بہا دیتا کہ گاڈ فادر تو کشتوں کے پشتے لگا دیتے ہیں۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جب یہ دو لفظ مسند انصاف سے صادر ہوئے تھے تو فیصلے سے پہلے ہی فیصلے کی سمجھ آ گئی تھی۔نہ سمجھا تو وہ پاکستانی گاڈ فادر جو انصاف کی امید لگائے بیٹھا تھا۔سسلی کا مافیا جیسا یہ ڈان معاملے کو تب بھی نہ سمجھا جب روایت سے ہٹ کر اس کے لئے جے آئی ٹی بنائی گئی۔اسے تب بھی انصاف کی امید رہی جب اس کے بڑے بیٹے کی ترحم آمیز تصویر لیک کی گئی اور یہ اب بھی سوچتا ہے کہ شائد ریویو پٹیشن میںفیصلہ واپس ہو جائے۔شریف خاندان کا یہ شریف زادہ پتہ نہیں کن خوابوں میں رہتا ہے ورنہ کون نہیں جانتا کہ اس ریویو پٹیشن کا کیا حال ہوگا؟نیب کی سبک رفتاری کیا یہ سمجھنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ نواز شریف کو سیاست سے آئوٹ کرنے کی خواہش رکھنے والے آج بھی پرعزم ہیں کہ اس کی سیاست کا باب ختم ہونے والا ہے؟وہ جتنا آگے بڑھ کر پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ چکے ہیں اس سے واپسی ان کے اپنے لئے خطرناک ہوگی سو وہ اپنے عمل کا دفاع کریں گے جس طرح مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد بھی کچھ ذمہ داروں نے اس شکست کا دفاع کیا تھا اور آج بھی کرتے ہیں۔پاکستان کے اصل گاڈ فادر اور سسیلین مافیا کون ہیں یہ راز بھی آہستہ آہستہ عوام پر آشکار ہوتا جا رہا ہے۔