Daily Mashriq


مردم شماری اور آبادی کا بے قابو جِن

مردم شماری اور آبادی کا بے قابو جِن

مردم شماری کے نتائج کے بارے میں پائے جانے والے بہت سے شکوک و شبہات اور قیاس آرائیوں کے باوجود پاکستان کی چھٹی مردم شماری 2017ء کے ابتدائی نتائج جاری کردیئے گئے ہیں ۔ چھٹی مردم شماری کے ابتدائی نتائج مشترکہ مفاد ات کونسل کے سامنے پیش کئے گئے ہیں جس کا شمار حکومتی فیصلہ سازی کے بڑے اور اہم ترین اداروں میں ہوتا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے مردم شماری کے نتائج پیش کرنے کا مقصد ملک کی آبادی کے مطابق اقدامات کرنا اور پالیسی سازی کرنا ہے ۔ اگر ہم شاہد خاقان عباسی کے مختصر دورِ حکومت پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس قلیل عرصے میں عباسی حکومت نے نواز شریف حکومت کے مقابلے میں قومی مفادات کے حوالے سے زیادہ اہم فیصلے کئے ہیں ۔ نواز شریف حکومت کی توجہ کا مرکز پنجاب تھا جس کی وجہ سے پچھلی حکومت میں قومی سطح کے فیصلے نہیں کئے جاسکے ۔ شاہد خاقان عباسی کی حکومت میں قومی مسائل کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کا سامنا کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے جوکہ ایک انتہائی احسن اقدام ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی207.8 ملین (پونے اکیس کروڑ سے زائد) ہوچکی ہے جس میں پچھلے 19 سالوں میں 75.4 ملین کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آبادی کا شمار کرنے کے کسی بھی پیمانے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو آبادی کی شرح میں اس قدر اضافہ انتہائی خطرناک ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر سامنے آنے والے نتائج حتمی نہیں ہیں لیکن تفصیلی نتائج میں زیادہ تبدیلی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس مردم شماری کے نتائج کا موازنہ 1998ء میں ہونے والی پانچویں مردم شماری سے کیا جائے تو اس وقت پاکستان کی کُل آبادی 130 ملین یا 13 کروڑ تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ1998ء سے لے کر 2017ء تک ملک کی مجموعی آبادی میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے اور آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.4 فیصد ہے۔ آبادی کی شرح میں اتنا زیادہ اضافہ ایک قسم کا عالمی ریکارڈ ہے ۔ دنیا بھر میں آبادی کی شرح میں بے تحاشہ اضافے اور روز افزوں بڑھتی ہوئی غربت کی بات کی جائے تو پاکستان سب سے آگے نظر آنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آبادی میں اضافے کے اس مسئلے سے کس طرح نمٹا جائے اور مستقبل میں پاکستان اور اس کی عوام کی فلاح کے لئے کیا منصوبہ بندی کی جانی چاہیے ؟ ہمیںآبادی کے اس بے قابو جن پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے اور ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کرنہیں بیٹھ سکتے۔ مثال کے طور پر ،1998 ء میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج کی طرح حالیہ نتائج بھی ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ملک کی آبادی کی اکثریت، 52.9 فیصد، پنجاب میں رہتی ہے لیکن مجموعی آبادی میںپنجاب کی آبادی کے حصے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی آبادی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ سندھ کی آبادی کے مجموعی آبادی میں حصے ، 23 فیصد ، میں کوئی کمی بیشی واقع نہیں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کووفاقی پارلیمنٹ میں زیادہ نشستیں ملنے کے ساتھ ساتھ زیادہ وسائل بھی دیئے جانے چاہییں۔ لیکن یہ اقدامات کب کئے جائیں گے اور مزید کتنا وقت ضائع کیا جائے گا ؟جہاں تک شہری اور دیہی آبادی کی تقسیم کی بات کی جائے تو ابتدائی نتائج کے مطابق ملک کی اکثریت ، 132.189 ملین یا تیرہ کروڑ سے زائد (63.6فیصد )، آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جبکہ 1998 ء کی مردم شماری میں دیہی آبادی کی شرح 65.6 فیصد تھی۔اسی طرح ملک کی شہری آبادی اس وقت75.58 ملین یا ساڑھے سات کروڑ سے زائد ہے جو کہ کُل آبادی کا 36.4 فیصد بنتا ہے ۔ 1998ء کی مردم شماری میں ملک کی شہری آبادی کا تناسب 32.52 فیصد تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ شہروں کو ملنے والے وسائل میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔اس حوالے سے سندھ پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے جو کہ ملک کا سب سے بڑا شہری آبادی والا صوبہ ہے جس کی 52.02 فیصد آبادی شہروں میں بستی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی اور نوکریوں میں صوبے کے دیہی اور شہری کوٹے میں تبدیلی لائی جانی چاہیے۔ سندھ کی مجموعی شہری آبادی کا 68 فیصد صوبے کے تین بڑے شہروں ، کراچی، حیدر آباد اور سکھر، میں رہتی ہے اور نئی مردم شماری کے مطابق ان شہروں کوزیادہ وسائل، نوکریاں اور نمائندگی ملنی چاہیے۔مشترکہ مفادات کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ مردم شماری کے ان نتائج کو بین الصوبائی رابطہ کمیٹی میں اٹھایا جائے گا جس کے بعد ان نتائج کی روشنی میں پالیسی سازی کی جائے گی۔الیکشن کمیشن نے حکومت کو مطلع کیا ہے کہ اگر مردم شماری کے حتمی نتائج جلد مرتب کر لئے جاتے ہیں تو اگلے عام انتخابات نئی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر کروائے جائیں گے۔حالیہ مردم شماری کے نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت کو درپیش مسائل میں صرف روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور وسائل مختص کرنا شامل نہیں بلکہ یہ بھی سوچنا ہے کہ ملک کی اتنی بڑی نوجوان آبادی کو کس طرح ملکی مفاد میں استعمال کرنا ہے اور اس آبادی کو کس طرح باعزت روزگار فراہم کرنا ہے۔ مردم شماری کے ان نتائج کو ملک میں تقسیم پیدا کرنے کی بجائے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل تابناک ہو۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں