Daily Mashriq


پاک امریکہ تعلق کا کورا کاغذ

پاک امریکہ تعلق کا کورا کاغذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جم کر پاکستان کے لئے دھمکی اور بھارت کے لئے تھپکی کا رویہ اپنایا ۔پاکستان کو چھڑی دکھائی تو بھارت کے لئے ان کے پاس شاخ ِزیتون تھی ۔یہ مودی ڈاکٹرائن کے عین مطابق پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے اور اپنی ناکامیو ں کو پاکستان کی آڑ میں چھپانے کی ایک نفسیاتی کوشش تھی ۔بھارت امریکہ کی طرف سے افغانستان میں معاون اور مثبت کردار پر مبنی اچھے چال چلن کاسرٹیفکیٹ ملنے پر پوری طرح جشن بھی نہ منا سکا کیونکہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش نے کئی دوست اور ہمدرد دئیے جو بہت کھل کر امریکہ کے اس تحکمانہ رویے اور پاکستان کی حمایت میں بول پڑے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش بظاہر ناکام ہو کر رہ گئی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کو پاکستان اوردوسرے ملکوں کی طرف سے اس انداز کا ردعمل آنے کا اندازہ نہیں تھا اور یہ بات بھارتی قیادت کے وہم وگمان سے قطعی باہر تھی کہ امریکہ میں گرم کیک کی طرح فروخت ہونے والا پاکستان کو تنہاکرنے کا بھارتی بیانیہ روس اور چین جیسی طاقتوں کے نذدیک یوں ناقابل اعتنا ء قرار پا کر بے وقعت ہو جائے گا۔ پاکستان کے ردعمل کا انتظار کئے بغیر ہی چین کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر پر ردعمل سامنے آیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی تعریف کی گئی۔ اس کے بعد دوسرا اہم ردعمل روس کی جانب سے آیا اور پاکستان پر دبائو ڈالنے کی حکمت عملی کو غلط قرار دیا گیا ۔پاکستان نے بھی ماضی کی روایات سے ہٹ کر امریکی صدر اور وزیر خارجہ کی ہرزہ سرائی کا مسکت جواب دینے کی پالیسی اختیار کی ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سعودی عرب گئے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سفیر کو بلا کر کہا کہ پاکستان کو امداد کی نہیں اعتماد کی ضرورت ہے ۔یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے امریکی امداد کے لئے ریشہ ٔ خطمی ہونے کا رویہ تبدیل کرکے خودانحصاری اور خود اعتمادی کی راہ اپنانے کا راستہ اپنایا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف کا طے شدہ دورہ ٔ امریکہ معطل ہوگیا اور اب وہ پہلے چین اور عین ممکن ہے کہ روس بھی جائیں گے۔امریکہ نے پاکستان کو خوف زدہ کرکے جو منظر تخلیق کرنے کی کوشش کی تھی یکسر نئے انداز سے تخلیق ہوگیا ہے ۔

اس سے خطے میں اُبھرنے والے ایک نئے علاقائی بلاک چین روس اور پاکستان کے دھندلے نقوش کچھ زیادہ ہی گہرے ہوگئے پاکستان اس بلاک کا ایک مرکزی اور اہم کردار بن چکا ہے ۔جہاں یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ امریکہ خطے میں بھارت کا دوست اور سرپرست ہے اور بھارت کا ہر مخالف امریکہ کا مخالف ہے وہیں یہ حقیقت بھی عیاں ہو گئی کہ پاکستان نہ تو ماضی میں امریکی امداد کے سہارے زندہ رہا ہے اور نہ ہی امریکی امداد اس کے لئے'' آبِ حیات ''کی حیثیت رکھتی ہے ۔امریکی امداد کے بغیر بھی پاکستان کے پاس بہت سے آپشن موجود ہیں اور پاکستان ان آپشنز سے فائدہ اُٹھانے کی پوزیشن میں ہے ۔امریکہ نے افغانستان کی جنگ میں استعمال ہونے والی ائر بیسز کا کرایہ دیا نہ سپلائی کی فراہمی کی راہداری کے عوض ادائیگی کی ۔اس جنگ کے استعمال سے انفراسٹرکچر کا حال بگڑ گیا مگر امریکہ کو اس سے کوئی غرض نہیں رہی۔اُلٹا یہ کہ امریکہ اپنی ہی امداد کا بہی کھاتا کھولا بیٹھا رہا اور وہ امداد گنواتا رہا جو این جی اوز کے ذریعے خرچ کی جاتی رہی اور جس کا بڑ احصہ واپس امریکیوں کو ہی جاتا رہا ۔ آرمی چیف نے بجا کہا ہے کہ پاکستان کو امداد کی نہیں اعتماد کی ضرورت ہے مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ امداد تو رہی نہیں کیونکہ امریکہ پہلے ہی اسے مشروط اور کم کرتے کرتے بے معنی بنا چکا ہے اور اعتماد نام کی کوئی چیز بھی باقی نہیں رہی ۔امریکہ پاکستان کو شک کی نظروں سے دیکھنے سے آگے بڑھ کر دشمن کے خانے میں بٹھا چکا ہے۔ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان کو لاتعلق اور بے خبر رکھنا اس بات کا ثبوت تھا کہ امریکہ پاکستان پر اعتماد نہیں کرتااور پاکستان کو امریکہ پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ انہیں اب امریکہ کی آنکھوں میں بھارت اور اسرائیل کی شبیہ معلوم ہوتی ہے ۔اسے خدشہ ہے کہ امریکہ کو دی جانے والی معلومات یا پاکستان کے اندر رسائی سے اسرائیل اور بھارت بالواسطہ طور پر مستفید ہو سکتے ہیں ۔یوں امریکہ اور پاکستان عدم اعتماد اور خوف کا شکار ہیں ۔امریکہ اور پاکستان میں معاملات اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ یہ کہانی کورا کاغذ ہو کر رہ گئی ہے جس پر اعتماد اور امداد اب کچھ بھی درج نہیں ۔ہاں امریکہ میں کوئی ذی ہوش شخص آگے آئے اور ٹرمپ ازم کا مقابلہ کرے تو کورے کاغذ پر نئے سرے کوئی کہانی رقم کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں