Daily Mashriq


ہوئے تم دوست جس کے

ہوئے تم دوست جس کے

دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ بات بخوبی سامنے آتی ہے کہ دنیا میں جتنی بھی بڑی شخصیات اور اقوام اور تہذیبیں گزری ہیں ، اُنہوں نے کچھ اصول و ضوابط اور فکر و عمل کے ایسے پیمانے اپنائے ہوتے ہیں جن پر عمل پیرا ہونے کے سبب وہ اُس مقام پرہوتے ہیں جس کو اعلیٰ مقام ودرجات میں شمار کیا جاتاہے۔ دنیا میں انبیاء کرام کے علاوہ جتنے بھی بڑے لوگ ہیں وہ سب مطالعے کے زور پر بنے ہیں ۔ مطالعہ ایک ایسی چیز ہے جو افراد اور اقوام کو جذبہ عمل اور تجربہ و مہارت کی مہمیز دیتا ہے ۔ علوم کے زور پر مطالعہ کائنات اور اس کی تسخیر کی راہیں کشادہ ہوتی ہیں خاتم النبین ۖ کی تشریف آوری اور آپ ۖ کے طفیل قرآن و حدیث میں موجود کائنات و مافیھا کے بارے میں اہل ایمان کو جو اصول و احکام عطا ہوئے اُن کے افہام و تفہیم اور عمل در آمد کے ذریعے وہ دنیا کی غالب اور متمدن ترین قوم بن کر چاردانگ عالم پر حکمران بن گئے حالانکہ اسلام سے قبل شجاعت ، سخاوت اور بعض دیگر خصوصیات کے باوجود دنیا کی قابل اقوام اور تہذیبوں میں اُن کا کہیں نام ونشان نہیں تھا ۔ اس زمانے میں جب جناب رسول اکرم ۖ اس دنیا میں تشریف لائے ، رومی ، ساسانی ، مصری اورہندی ، تہذیبوں کا غلغلہ تھا ۔ لیکن آپ ۖ کے پیروکاروں نے جب قرآن کریم اور سنت مبارکہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تو بقول مولانا ظفر علی خان ۔ 

بات کیا تھی کہ روما سے نہ ایران سے دبے

چند بے ترتیب اونٹوں کے چرانے والے

جن کو کافور پہ ہوتا تھا نمک کا دھوکہ

بن گئے خاک کو اکسیر بنانے والے

اُمت مسلمہ کی ترقی او رمقبولیت کا بنیادی سبب قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق نظام زندگی و حکومت تھا ۔ قرآن کریم کی بنیادی تعلیم انسانی رشد و ہدایت ہے ۔ اسلام کے عدل و انصاف نے بلا تفریق رنگ و نسل دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں کے لوگوں کے دل جیت لئے ۔ یوں اسلام دنیا کے تین براعظموں پر غالب آکر ایک انسانیت نوازضابطہ کے طور پر چھا گیا اور مسلمان قرآنی اصول مطالعہ و تحقیق کے ذریعے کائنات و مافیھا کے اسیر بن گئے ۔اسلام جوں جوں پھیلتا گیا وہاں علوم و تحقیق کی روشنی پھیلتی چلی گئی ۔ سپین پر مسلمانوں کی حکمرانی کے ذریعے پورے یورپ میں تحقیق و تجسس کا سلسلہ شروع ہوا اور کائنات کی تحقیق ، تفتیش اور تسخیر کے شوق و ذوق میں واسکو ڈے گاما اور کولمبس انڈیا کی دریافت میں مسلمانوں کے ایجاد کردہ قطب نما اور مسلمان ملاح کی فراہم کردہ معلومات و خدمات کے ذریعے ایک انڈیا اور دوسرا امریکہ پہنچا ۔ اہل سپین اور برطانیہ نے مسلمانوں کی فراہم کردہ علمی بنیادوں پر ایسے تعلیمی ادارے تعمیر کئے جنہوں نے مغرب کو غالب اقوام میں تبدیل کر دیا ۔ ان دونوں اقوام کی امریکہ پر حکمرانی نے امریکہ میں تعمیر و ترقی کی بنیادیں رکھیں اور پھر جارج واشنگٹن کی قیادت میں امریکہ آزاد ہو کر ایک بڑے ملک کے طور پر سامنے آیا ۔ ابتدائی دور میں امریکہ اپنے منشورکے مطابق بنی نوع انسان کی آزادی اور بنیادی حقوق کے پر چارک اور علمبر دار بنا ۔ لیکن بد قسمتی دیکھئے کہ جس دن آزادی کا ڈیکلریشن لکھا گیا اُس میں امریکہ کے سیاہ فام لوگوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہیں تھا ۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جب برطانیہ کا سورج غروب ہونے لگا تو امریکہ اُس کی جگہ لینے کے لئے آگے بڑھا اور دنیا کی سپر پاور کی نشست پر براجماںہوگیا۔ امریکہ نے اسی دور میں اپنے بارے میں یہ بات مشہور کرا کر دنیا میں بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت اور دنیا کی ساری اقوام کے ساتھ عدل و انصاف کے ساتھ معاملات کرنے کے سبب نام پیدا کیا ۔ لیکن بہت جلد اہل دانش کو معلوم ہوا کہ امریکہ جو بھی کام کرتا ہے اُس میں اپنا مفاد سب سے مقدم رکھتا ہے ۔اپنے مفاد کے حصول میں انسانی حقوق اور عدل و انصاف کے اصول اگر بھاڑ میں جاتے ہیں تو جانے دے دیئے گئے ۔ یہی وجہ تھی کہ ویت نام کے پسماندہ لوگوں پر ایک ایسی جنگ مسلط کی گئی جو امریکی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیگی ۔ ویت نام جنگ میں ناکامی کے بعد اُس کی سزا پڑوسی ملک کمبوڈیا کو دی گئی ۔ جو آج تک بے چارے سزاوار ہیں ۔ امریکہ اگر تیسری دنیا کے غریب ملکوں کی صحیح معنوں میں مدد کو آگے بڑھتا تو بلا مبالغہ امریکہ آج سپر پاور ہونے کے ناتے دنیا کا محبو ب ترین ملک ہوتا ۔9/11کے بعد تو باقاعدہ عسکری کارروائیوں کے ذریعے کہیں سلامتی کونسل کا ہاتھ مروڑ کر دور کہیں سلامتی کونسل کو روندتے ہوئے اسلامی دنیا کے وسائل پر قبضہ جما بیٹھا ہے اور افغانستان کے لیتھیم جیسے قیمتی ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے معدنیات کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لئے سولہ برسوں سے غریب افغان عوام کا قتل عام جاری ہے جس میں پاکستان پر بھی پڑوسی ملک ہونے کے سبب بار بار اس کے باوجود نزلہ گرا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ لڑتے ہوئے دنیا کے سارے ملکوں سے زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن ظلم کی انتہا ملا حظہ کرنے کے قابل ہے کہ وہ بھارت جو کشمیر یوں پر گزشتہ ستر برسوں سے بد ترین ظلم کا مرتکب رہا ہے ، امریکہ کا محبوب ٹھہر ا ہے اور پاکستان امریکہ کے لئے اپنی بساط سے بھی بڑھ کر کردار ادا کر تا رہا ہے معتوب ٹھہر ا ہے ۔ ٹرمپ نے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے نان نیٹو اتحادی ، کو جو کھلی دھمکیاں دی ہیں وہ کسی طرح بھی عدل و انصاف کے مطابق نہیں ۔ اور جب کوئی بڑا عدل و انصاف کو ہاتھ سے جانے دیتا ہے تو قانون فطرت یہی ہے کہ اُس کے زوال کی ابتدا ہونے لگتی ہے ، کیا چین قانون فطرت کے مطابق اپنی منافع بخش پالیسیوں کے سبب دنیا کے لئے زیادہ بہتر ثابت نہیں ہو رہا ۔ یقینا سی پیک کی تکمیل کے بعد چین یورپ ، افریقہ اور ایشیاء کا سپر پاور ہوگا اور دنیا کو چین و سکون ملے گا ۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو چین کے ساتھ مشاورت کر کے نئے انداز سے تشکیل دے اور ایران وروس و ترکی کے ساتھ خصوصی تعلقات بڑھائیں ۔ ان شاء اللہ ! اللہ خیر کرے گا ۔ پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہے اور پاکستان تبدیل ہو رہا ہے اور نیا پاکستان وجود میں آرہا ہے ۔

متعلقہ خبریں