Daily Mashriq


ٹرمپ ایک غیر سنجیدہ انسان

ٹرمپ ایک غیر سنجیدہ انسان

امریکی سابق صدر کلنٹن نے ایک کتاب میںلکھا ہے کہGreat Strenght does not make ensure great wisdom کہ یہ لازمی نہیں کہ جو زیادہ طاقت ور ہوگا وہ زیادہ عقل مند اور دانا بھی ہوگا۔اگر ہم موجودہ دور میں حالات اور واقعات پر نظر ڈالیں تو امریکہ کے صدر ٹرمپ پاکستان کو دہشت گر دوں اور انتہاپسندوں کا گڑ ھ اور محفو ظ پناہ گاہ کہتے ہیں۔علاوہ ازیں امریکی صدر بھارت کو تھپکی دے رہا ہے کہ پاکستان اور چین کے خلاف بے بنیاد ، منفی اور زہریلا پروپیگنڈہ تیز کر دیں اور ان کے خلاف آگ اُگلیں۔جہاں تک صدر ٹرمپ کے ان تمام بیانات اور اقدامات کا تعلق ہے ایک تو امریکہ افغانستان کے جنگ کا ملبہ پاکستان کے اوپر ڈالنا چاہتا ہے اور افغانستان کی ہاری ہوئی جنگ کو پاک سر زمیں پرمنتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف امریکہ اس کو شش میں ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کا منصوبہ کسی صورت ناکام بنایا جائے ۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو چین نے اپنی اقتصادیات ، سائنس اور ٹیکنالوجی اور مو ثر حکمت عملی کی وجہ سے یو رپی ممالک اور یہاں تک کہ امریکہ کو بھی مفلوج کر دیا ہے ۔ اور غا لباً دنیا میں چین اُن چند ممالک میںسے ہے جسکی اقتصادی شرح 8 اور 9 کے درمیان ہے۔امریکہ کی یہ بھی کو شش ہے کہ سی پیک مکمل نہ ہو ، تاکہ چین کی رسائی گوادر اور انکی تجارت کا پھیلائو عرب ممالک اور وسطی ایشائی ریاستوں اور دنیا کے دوسرے خطوں تک نہ ہوسکے۔در اصل امریکہ اور بھارت کا اس وقت دو بڑے ٹارگٹ چین اور پاکستان ہے۔آنے والے وقتوں میں چین کی اقتصادی اور سائنسی مدد کی وجہ سے پاکستان اور چین دونوں مزید ترقی کے منازل طے کر سکے گا۔امریکہ کی کو شش ہے کہ بھارت کو چین کے برابر کر کے پاکستان اور چین دونوں ممالک کو اقتصادی اور فوجی لحا ظ سے خراب کیا جائے۔اس وقت امریکہ بھارت کی اقتصادی اور فوجی مدد کر رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دفاعی لحا ظ سے امریکہ دنیا کابہت بڑی طاقت ہے اور جنوبی ایشیاء میں فوجی لحا ظ سے بھارت ایک بڑی طاقت ہے۔ اگر تصویر کے دوسرے رُخ کودیکھا جائے تو آج کل کنونشنل یعنی روایتی جنگیں نہیں لڑی جاتیں بلکہ سائنٹفک اور ٹیکنالوجیکل جنگیں لڑی جاتی ہیں جس میں پاکستان بھارت سے کسی لحا ظ سے کم نہیں۔اگر اسلحے اور طا قت کے زور پر کسی ملک نے زندہ رہنا ہوتا تو روس کبھی بھی نہیں ٹوٹتا کیونکہ روس کے پاس دنیا کا سب سے زیادہ اسلحہ تھا اور رقبے کے لحا ظ سے رو س دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ مگر اسلحہ اور رقبہ کسی ملک کی بقا کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔ جنگیں ہمیشہ پکے ارادے، عزم مصمم اور قوموں کی اتفاق اور اتحادسے لڑی جاتی ہیں۔ 1965 کی مثال ہمارے سامنے ہے۔اس وقت پاکستانی قوم میں اتحاد اور اتفاق تھا تو لا ہو ریوں نے لاہور سے انڈین فو جیوں کو ڈنڈوں اور سوٹوں سے بھگایا تھا۔اسکی دوسری مثال افغانستان ہے۔ نیٹو ممالک بشمول امریکہ اس کو شش میں ہیں کہ افغانستان پر ڈنڈے اور دھونس سے اپنا رُعب جمایا جا سکے مگر کئی سال گزرنے کے با وجود بھی امریکہ اپنے مضموم عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اور آج امریکہ اپنی ناکامی پاکستان پر تھوپ رہا ہے اوردہشت گردی کیخلاف جنگ کو پاکستان منتقل کرکے پاکستان کو میدان جنگ بنانا چاہتا ہے۔ فوجیں اُس وقت تک جنگیں نہیں جیت سکتیں جب تک عوام کی تائید اور حمایت ان کو حا صل نہ ہو۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام حکومت اور بالخصوص مسلح افواج کا ساتھ دیں اور آپس میں اتحاد اور اتفاق کو پر وان چڑھائیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو زیر نہیں کر سکتا۔جہاں تک ٹرمپ کے بیابنات کا تعلق ہے تو ٹرمپ کے اس قسم کے بیانات کوسنجیدہ نہیں لینا چاہئے بلکہ ٹرمپ نہ تو سیاست داں ہے اور نہ اچھا منتظم ، بلکہ ایک فا تر العقل انسان ہے ۔ وہ ہمیشہ اوٹ پھٹانگ بیانات دیتا آیا ہے جس کی مختلف امریکی ایجنسیاں بعد میں تردید کردیتے ہیں۔وہ دور گیا جب زور اور طاقت کے بل بو تے پر قوموں کو غلام رکھا جاتا تھا۔ امریکہ کی اس منفی اور جارحانہ پالیسیوں کے بدلے خودامریکہ کیخلاف بھی منفی تا ثر بڑھے گا۔ جس ملک کے لوگ دنیا میں آسانی سے نقل و حمل نہ کر سکے وہ کیا ترقی یافتہ جمہوری ملک اور دنیا کا سُپر طاقت کہلائے گا۔امریکی عوام کو بھی چاہئے کہ وہ ٹرمپ کو اس بات پر مجبور کر دیں کہ اقوام عالم اور بالخصوص غریب اور ترقی پذیر ممالک سے اچھے تعلقات قائم رکھیں تاکہ امریکہ کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچایا جا سکے۔ امریکہ اگرٹریلین ڈالر بلا ضرورت دفاعی کاموں پر خرچ کر رہا ہے یہی رقم اگر عام لوگوں کی فلاح و بہبود پر بھی خرچ کی جاتی تو امریکہ آج صحیح معنوں میں سپر پاور کہلاتا۔امریکہ کو چاہیئے کہ دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہ کریں اور ان وسائل کو لوٹنے سے گریزاں رہیں۔جہاں تک امریکہ کے ڈو مور کا تعلق ہے تو پاکستان نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی جنگ میں اربوں ڈالرز اور ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے امریکہ کا کلیجہ اب بھی ٹھنڈا نہیں ہو رہا ہے۔میں اس کالم کی تو سط سے چینی حکومت اور چینی فوج کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں کہ جس طرح چین نے پاکستان کے خلاف امریکی تھریٹ کا جواب دیا جو کوئی پاکستانی حاکم بھی نہیں دے سکا۔ میں پاکستان کے سیاست دانوں بیورو کریٹس ، مذہبی سکالروں اور عالموں سے بھی یہ استد عا کرتا ہوں کہ وہ پاکستان میں اخوت، یگانگت بھائی چارے کو فروع دیںتاکہ پاکستان کسی کی بر بر یت اور جا رحیت کا شکار نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں