Daily Mashriq


پاکستان کا رسمی اعلان

پاکستان کا رسمی اعلان

پاکستان کا ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا معاملہ اقوام متحدہ (یو این) اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں اُٹھانے کا اعلان ہی ممکنہ اور مناسب ردعمل ضرور ہے لیکن اگر اُمت مسلمہ مشترکہ مؤقف اپناتے ہوئے مشاورت کیساتھ مصنوعات کا بائیکاٹ اور یورپی ممالک کے سفر سے گریز جیسے امکانات سمیت سفارتی تعلقات پر نظرثانی اور جامع اقدامات پر غور کرے تو یہ زیادہ مؤثر ہوگا۔ سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ توہین مذہب جیسے معاملات پر او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے جیسے واقعات کا رونما ہونا پوری مسلم دنیا کی ناکامی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سمیت دیگر توہین مذہب اور توہین رسالت کے معاملات پر عالمی سطح پر کوششیں کی جائیں گی، جن میں او آئی سی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مغربی ذہنیت سے واقف ہیں، وہ لوگ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتے ہیں، وہاں کی اکثریت کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں حضرت محمدﷺ کی کتنی محبت اور عقیدت ہے۔ ملعون سلمان رشدی کی شیطانی آیات کے بعد آج تک ایسے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ہیں ان کا مقصد صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یورپ کے4 ممالک میں ہولوکاسٹ پر بحث کرنے یا اس حوالے سے نازیبا بات کرنے کیخلاف بھی جیل کی سزا دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر4 یورپی ممالک میں کوئی شخص یہ کہے کہ ہولوکاسٹ میں60لاکھ نہیں بلکہ40لاکھ یہودی قتل ہوئے تھے تو اس بات پر بھی اسے جیل کی سزا دی جاتی ہے اور اس وقت اظہار رائے کی آزادی کی بات ہی نہیں کی جاتی۔ عمران خان نے کہا کہ جس طرح ہولوکاسٹ کیخلاف بات کرنے سے یہودیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، اسی طرح توہین مذہب اور توہین رسالت سے سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے رہنما گیرٹ ولڈرز نے پارلیمنٹ کے دوران رواں برس جون میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے پیغمبراسلامﷺ کے کارٹون بنانے کے مقابلے کا اعلان کیا تھا، جس کیخلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ20 اگست2018 کو ہونا تھا، اس دن دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد ہالینڈ کی حکومت نے خود کو اس مقابلے سے الگ کرنے کا اعلان کیا۔ ہالینڈ کی حکومت نے اس مقابلے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گیرٹ ولڈرز حکومت کا نمائندہ نہیں۔ ہالینڈ کے وزیراعظم مارک روٹے نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’’گیرٹ ولڈرز حکومت کے رکن نہیں اور نہ ہی یہ مقابلہ حکومت کا فیصلہ ہے‘‘۔ مارک روٹے نے گیرٹ ولڈرز کی جانب سے اس متنازع مقابلے کے انعقاد پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’گیرٹ ولڈرز کا مقصد اسلام سے متعلق بحث کا آغاز نہیں بلکہ جذبات کو بھڑکانا ہے‘‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’ہالینڈ میں لوگوں کو آزادی اظہار کی دیگر ممالک سے کئی گنا زیادہ آزادی ہے اور گیرٹ ولڈرز بھی ایسا کرنے کیلئے آزاد ہیں لیکن کابینہ یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ یہ اس کا اقدام نہیں ہے‘‘۔ گستاخانہ خاکوں اور توہین مذہب کو جس طرح مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور وہاں کی حکومتیں اسے آزادی اظہار سے تعبیر کرکے بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتی ہیں اس کا چہرہ تو وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ہو لوکاسٹ کا حوالہ دیکر بے نقاب کیا ہے لیکن اصل بات اس کی روک تھام کا ہے جس میں قبل ازیں بھی امت مسلمہ ناکام ہو چکی ہے اور اس مرتبہ بھی اسلامی ممالک کی حکومتوں کا ردعمل اس قدر جاندار اور ایمان افروز نہیں کہ اس سے یورپی ممالک کی حکومتیں اپنے شہریوں کو اس قسم کی گستاخی کے ارتکاب سے روکنے پر آمادہ ہوں۔ قانونی طور پر اقوام متحدہ میں اس مسئلے پر بحث کر کے کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان یا ان کے نمائندے جو ممکنہ طور پر وزیرخارجہ ہو سکتے ہیں اقوام متحدہ کے آمدہ اجلاس امت مسلمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اس معاملے کو اجلاس میں اٹھانا چاہئے اور دنیا کو اس امر کا احساس دلا نا چاہئے کہ یہ سوا ارب مسلمانوں کیلئے ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور اگر یورپی ممالک میں آزادی اظہار اور توہین مذہب میں فرق نہیں اور اس کی روک تھام ممکن نہیں تو پھر اسلام میں بھی گستاخی رسولﷺ پر برداشت اور تحمل کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس قسم کی ناپاک حرکتوں سے مسلمانوں کے جذبات کس قدر شدید طور پر متاثر ہوتے ہیں اور اس کا کیا سخت ردعمل سامنے آتا ہے اس کی ماضی میں ہو یا ماضی قریب یا پھر حال میں ہو شمع نبوتؐ کے پروانوں کا جان کی پرواہ کئے بغیر ردعمل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس حوالے سے شمع نبوتؐ کے پروانوں کا ردعمل وقت بدلنے کیساتھ ذرا بھی تبدیل نہیں ہوا اور نہ ہی تبدیل ہوگا بلکہ ہمیں تو اس امر کا ڈر ہے کہ اس کے ردعمل میں مسلم دنیا کے عوام میں شدت پسندانہ جذبات بے قابو نہ ہو جائیں۔ اس ضمن میں جہاں تک حکومتوں، حکمرانوں اور او آئی سی کی کارکردگی اور ردعمل کا سوال ہے وہ افسوسناک حد تک مصلحت پسندانہ اور کمزور ہے حالانکہ اگر امت مسلمہ متحد ہو کر معاشی، سیاسی، سفارتی اور پرامن ذرائع ہی کا استعمال کرے تو ان ممالک کو ان کے شہریوں کی شتر بے مہار آزادی کی سنگین غلطی کا باآسانی احساس دلایا جا سکتا ہے جس قسم کے رویئے کا مظاہرہ بار بار سامنے آرہا ہے یہ دنیا کو تصادم کی طرف لے جائے گی اور تصادم کا راستہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ بہتر ہوگا کہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کیا جائے اور توہین مذہب کو عالمی طور پر جرم قرار دیکر اس پر پابندی لگائی جائے تاکہ دنیا کا امن متاثر نہ ہو۔

متعلقہ خبریں