Daily Mashriq


سینیٹ میں حکومت کو ہزیمت

سینیٹ میں حکومت کو ہزیمت

سینیٹ میں اپوزیشن کا پہلے ہی اجلاس میں حکومت کو بے بس کرنے کا معاملہ حکومتی معاملات چلانے کے حوالے سے کوئی نیک شگون نہیں۔ اگر وزیراعظم اپنی سنا کر باقی کی سننے سے احتراز نہ کرتے تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد حکومت سینیٹ میں کورم پورا نہ کر سکی جس کی وجہ سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑنا پڑی۔ وزیراعظم کو اس امر کا احساس ہونا چاہئے تھا کہ سینیٹ میں ان کی جماعت کی اکثریت نہیں اسلئے ان کو اپنی کابینہ سمیت حزب اختلاف کو خواہی نخواہی اہمیت دینی ہوگی۔ اعظم سواتی کی جانب سے پیش کردہ بل کو ایوان کے ممبران کی اکثریت کی جانب سے مسترد کر کے حزب اختلاف نے حزب اقتدار کو اپنا احساس دلایا تھا اس کے باوجود وزیراعظم نے حزب اختلاف کو سننا گوارہ نہ کیا جس پر احتجاج، واک آؤٹ اور کورم توڑ کر چیئرمین کو اجلاس ملتوی کرنے پر مجبور کرنے کا اقدام کیا گیا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں حالات کے جبر کے ہاتھوں مجبور حکومتی اتحادکا بعض سیاسی مواقع پر متحد ہو کر مقابلہ نہیں کر پا رہی ہیں مگر وہ خود بھی ایک دوسرے کی مجبوریاں سمجھتی ہیں اور ان کی مجبوریوں کا ادراک کوئی مشکل بھی نہیں مگر جہاں جہاں ایوان میں ان کو موقع ملے گا وہ حکومت کی ناک میں دم کرنے کا موقع گنوا نہیں دیں گے۔ صدر مملکت کے انتخابات کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس امر کا موقع ضرور ملے گا کہ وہ قومی اسمبلی میں نہ سہی سینیٹ میں حکومت کو زچ کر دیں۔ حزب اختلاف میں جغادری سیاستدانوں کی موجودگی اور ان کی صفوں میں تجربہ کار پارلیمنٹرینز کی بڑی تعداد ہونا تحریک انصاف کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ ایوان بالا کا اجلاس اسی وقت ہی ثمرآور ہو سکے گا اور حکومت کوئی بل پاس کر سکے گی جب حزب اختلاف کو اس پر راضی کیا جائے۔ بہتر ہوگا کہ حکومتی اراکین اپنی قیادت کو ان باریکیوں سے آگاہ کریں اور ان کو حزب اختلاف کو وقت دینے پر رضامند کریں۔ جب تک حزب اختلاف کو حصہ بقدرجثہ اہمیت نہیں دی جائے گی تب تک سینیٹ میں حکومت کو مشکلات کا ہی سامنا رہے گا اور حکومتی امور کو چلانا مشکل ہوگا جبکہ بل کی منظوری اور قانون سازی بھی حزب اختلاف کی تائید وحمایت کے بغیر ممکن نہ ہوگی۔

پیسوں کی حفاظت کرو روپے اپنی حفاظت خود کریں گے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی جانب سے کفایت شعاری اپناتے ہوئے سرکاری اجلاسوں میں چائے کے پیش کئے جانے پر پابندی عائد کرنا اور اجلاس میں بوتل کے بجائے گلاس میں پانی پیش کرنے کی ہدایت پیسوں کی حفاظت کرو روپے اپنی حفاظت خود کریں گے کے مصداق عمل ہے۔ ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق سرکاری تقریبات میں دیگرخرچوں میں کمی لانے کیلئے جلد احکامات جاری کئے جائیںگے۔اجلاس میں چائے پانی کا پوچھنے پر تو پابندی نہیں ہونی چاہئے لیکن چائے پانی کے نام پر جو بھاری بل بنتے ہیں اس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کا ایک بھاری بل تحریک انصاف کیلئے عین انتخابات کے دنوں کافی خجالت کا باعث بنا۔ اجلاسوں میں چائے پیش کرنے سے توجہ کا متاثر ہونا اور چائے نوشی پر وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے جس سے چائے نوشی کی روایت ترک کرکے بچنا ممکن ہے۔ بہرحال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے اس اقدام کی تحسین کرنے کے باوجود مناسب یہی لگتا ہے کہ اجلاسوں کے دوران نہ سہی ٹی بریک پر چائے نوشی کی گنجائش ہونی چاہئے البتہ اسراف سے بچنا اور دس روپے کی چائے کی پیالی کا بل سو دوسو روپے بنانے کی روایت کی اب گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ رقم کا ضیاع اور بدعنوانی نہ ہو اور اعتدال کیساتھ سرکاری اخراجات کئے جائیں تو یہ کفایت ہی کافی ہوگی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سرکاری گاڑیوں کے غلط اور غیرمجاز استعمال، ایندھن کے نام پر بھاری بل بنانے اور سرکاری مصارف کو اصل کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ظاہر کر کے رقم کی وصولی جیسے چور دروازوں کو بند کرنے کے جلد مؤثر، ٹھوس اور سخت اقدامات کو یقینی بنائیں گے اور صوبے کے وسائل میں عوام کے مسائل کے حل کیلئے زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں