Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابن مبارک علیہ الرحمتہ کا ایک غلام تھا۔ وہ روزانہ دن کو آپؒ کی خدمت بجا لاتا اور رات کے وقت کہیں چلاجاتا۔ ایک دن حضرت ابن مبارکؒ نے اس سے پوچھا کہ تم رات کو کہاں چلے جایا کرتے ہو؟ غلام نے جواب دیا یا حضرت! یہ راز ہے‘ آپ اس سے پردہ نہ اٹھائیں۔ میں اس راز داری کے بدلے میںہر روز آپ کو ایک دینار دیاکروں گا۔

چنانچہ وہ غلام اپنے وعدے کے مطابق ہر روز ایک دینار لا کر حضرت ابن مبارکؒ کو دیتا رہا۔ لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ حضرت ابن مبارکؒ کا غلام رات کے وقت چوری کرتا ہے اور اپنی چوری کی کمائی سے روز ایک دینار حضرت ابن مبارکؒ کو دے دیتا ہے۔ اس بات سے حضرت ابن مبارکؒ کو بڑا دکھ ہوا۔ چنانچہ ایک رات حضرت ابن مبارکؒ اس غلام کے تعاقب میں نکلے۔ وہ غلام رات کے اندھیرے میں ایک قبرستان میں پہنچا۔ ایک قبر کو تھوڑا سا کھولا اور اس کے اندر داخل ہوگیا۔

ایک بوریا اس نے زیب تن کیا اور حق تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔ فجر کی اذان تک وہ عبادت کرتا رہا۔ اس کے بعد وہ باہر نکلا۔ قبر کے منہ کو بند کیا اور مسجد میںجا کر فجر کی نماز میں مشغول ہوگیا۔ پھر اس نے دعا مانگی یا الٰہی! رات تیری بار گاہ میں گزری‘ صبح میرا مجازی مالک مجھ سے ایک دینار طلب کرے گا‘ میری مفلسی کا سرمایہ تو تو ہی ہے۔

وہ غلام نہایت عاجزی کے ساتھ حق تعالیٰ کے حضور دعا مانگ رہا تھا کہ اچانک نور کا ایک شعلہ نمو دار ہوا اور اس غلام کے ہاتھ پر ایک دینار پڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد غلام اٹھا اور مسجد سے باہر کی طرف چل دیا۔ حضرت ابن مبارکؒ یہ واقعہ دیکھ کربے حال ہوگئے۔

اسی وقت غلام کے پیچھے بھاگے۔ قریب پہنچ کر اسے اپنے سینے سے لگایا‘ اس کے سر کو چوما اور فرمانے لگے۔ میرے جیسے ہزاروں مالک تمہاری غلامی پر قربان ہوں۔ کاش کہ تم مالک ہوتے اور میں غلام ہوتا۔ غلام نے یہ بات سنی تو اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا یا الٰہی! میرا بھید ظاہر ہوگیا ہے۔ مجھے اب سکون نہیں رہے گا‘ مخلوق مجھے تنگ کرے گی۔ الٰہی! مجھے اس فتنہ سے محفوظ رکھ اور مجھے دنیا سے اٹھا لے۔ ابھی اس کا سر حضرت ابن مبارک علیہ الرحمتہ کی بغل میں ہی تھا کہ اس نے اپنی جان اپنے مالک حقیقی کے سپرد کردی۔

حضرت ابن مبارک علیہ الرحمتہ نے اسی بوریے میں ان کو کفنایا‘ دفن کرنے کے بعدچند دن تک فاتحہ خوانی بھی کرتے رہے۔ پھر رات کو خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت ہوئی۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی تھے۔ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! تم نے ہمارے دوست کو بوریے میں کفنایا اور قبر میںدفن کردیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ تم اس سے بہتر اہتمام کے ساتھ دفن کرتے۔

(اسلامی واقعات)

متعلقہ خبریں