Daily Mashriq


یورپ کے آزادی آزارکی لہر

یورپ کے آزادی آزارکی لہر

نئی حکومت بننے کے بعد ایوانِ بالا میں پہلی قرارداد ہالینڈ اور یورپ کے دیگر ممالک میں نبی پاک رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے آئی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے قابلِ اطمینان و حوصلہ افزاء ہونی چاہیے۔ نئے وزیر اعظم عمران خان نے اس قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس موضوع پر اسلامی تنظیم کے ممالک کو متوجہ کرنے اور معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ہالینڈ کی حکومت کو احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔ یہ قابلِ قدر عملی اقدام ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ ان اعلانات کی روشنی میں پاکستان کے علماء اور دانش ور حکومت کی ان کوششوں کا ساتھ دیں گے۔ اس میں کلام نہیں کہ رسول پاکؐ کی محبت اور عقیدت ہر مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔ اور ان کی شان میں گستاخی کسی مسلمان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ تاریخ میں ایسے واقعات بے شمار ہیں جب مسلمانوں نے احترام رسالت مأب کے لیے جانیں قربان کر دیں۔ چند سال پہلے جب یورپ میں پہلی بار ایسے خاکے شائع ہوئے تھے تب سے لے کر آج تک اس حرکت کے خلاف دنیا بھر کے مسلمان اور مذاہب کے احترام کے غیر مسلم داعی ان کے خلاف احتجاج کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن اس احتجاج کی پروا نہ کرتے ہوئے اب ایک بار پھر ایسے توہین آمیز خاکے تیار کرنے کا مقابلہ منعقد کیا جا رہا ہے اور اس مقابلہ کے انعقاد کی ہالینڈ کی حکومت نے منظوری دی ہے۔ حالانکہ جب پہلی بار یہ خاکے شائع کیے گئے تب سے اب تک نہ صرف پاکستان اور دیگر مسلمان ملکوں میں ان کے خلاف احتجاج ہوئے بلکہ کئی قتل بھی ہو چکے ہیں ، متعدد مسلمان احتجاجی مظاہروں کے دوران شہید بھی ہو چکے ہیں ۔ یہ احتجاج ساری دنیا بالخصوص مغربی ممالک پر یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں تھے کہ ایسی حرکات کے ذریعہ مسلمانوں کو آزار پہنچایا جا رہاہے ۔ اور اس ایذا رسانی کے لیے آزادی اظہار کے اصول کی آڑ لی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ آزادیٔ اظہار نہیں بلکہ آزادی آزار ہے۔ اس اقدام کے ذریعے دنیا میں نفرت پھیلانے کا بندوبست ‘ انتہا پسندی اور عدم برداشت کو فروغ دیا جار ہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس قسم کی حرکات کی روک تھام کے لیے ایک طرف اسلامی تنظیم کے ممالک کو فعال کرنے کی تجویز رکھی ہے دوسری طرف کہا ہے کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو اس بارے میں متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ شرف انسانی اور فرد کی عزت نفس کے حق کو اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا ادارہ تسلیم کرتا ہے ۔ اس اعتبار سے انسانوں کے عقائد ان کے مقدسات کا احترام اور اکابرین کی حرمت بھی انسانوں ‘ ان کے ماننے والوں کا بنیادی حق ہے۔ ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دوسرے پر زور زبردستی سے اپنے عقائد اور نظریات مسلط کرے یا ان کی تضحیک کرے۔ دنیا میں رنگ و نسل اور مذاہب کا تنوع ایک حقیقت ہے جسے سب تسلیم کرتے ہیں تو پھر کسی بھی مذہب کے اکابرین اور مقدسات کی توہین ایک طرف بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہے دوسری طرف سارے عالم انسانیت کی توہین ہے جو رنگ ‘ نسل ‘ مذہب اور نظریات کے تنوع کو تسلیم کرتا ہے اور اس کا احترام کرتا ہے۔ اگر نبیادی انسانی حقوق کا ادارہ رنگ ‘ نسل ‘ طرز حکومت ‘ نظریات ‘ مذاہب اور مختلف ثقافتوں کا احترام کرتا ہے تو اس کے نزدیک کسی بھی مذہب کے مقدسین اور مقدسات کا احترام بھی لازمی ہونا چاہیے اور کسی کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسی کے رنگ و نسل ‘ عقیدہ ‘ نظریات یا ثقافت کی بنا پر اس کی توہین کرے۔ اسلام نے تمہارا دین تمہارے لیے ‘ ہمارا دین ہمارے لیے کا اصول دیا ہے۔ کئی ملکوں میں ایسے قوانین رائج ہیں جہاں کسی مقدس کی توہین کے مرتکب کی سزا موت ہے۔ انسانی حقوق کے کمیشن نے ایسے قوانین کو ختم کرنے کا فرمان جاری نہیں کیا۔ مقدسات اور اکابرین کی توہین ان مقدسات اور اکابرین کی توہین تو ہے ہی لیکن یہ ان کے ماننے والوں کو ایذا پہنچانے کی بھی کوشش ہے۔ کسی کو یہ اجازت نہیںہونی چاہیے کہ وہ کسی کو اس کے عقائد‘ نظریات ‘ رنگ یا نسل کی بنا پر آزار پہنچائے۔ اور کسی کا خاکہ اڑانا اس کی توہین ہی ہے۔

ہالینڈ کی حکومت نے جس خاکے بنانے کے مقابلے کی منظوری دی ہے اور جو لوگ ایسے خاکے بنا رہے ہیں وہ مسلمانوں کو آزار پہنچانے کی کوشش ہے ۔ یہ آزادیٔ اظہار نہیں ہے ۔ آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی فرد یا کسی کمیونٹی کے مقدسین کے خاکے اڑا کر ان کی توہین کریں۔ یہ آزادی اظہار کے نام پر آزادی آزار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو ایذا پہنچانا ہے ۔ جس کا مقصد اشتعال انگیزی ہے ‘ جس کا مقصد دنیا کے انسانوں میں نفرت کو فروغ دینا ہے۔ اقوام متحدہ کو اس حرکت کانوٹس لینا چاہیے اور ایسے اصول وضع کرنے چاہئیں کہ دنیا بھر کے انسانوں کے مذاہب ‘ عقائد ‘ نظریات کا احترام ہو۔ دنیا میں مختلف ادوار میں مختلف نظریات اور عقائد رہے ہیں۔ ان سے ایک دوسرے نے استفادہ کیا ہے۔ اب بھی دنیامیںکسی نہ کسی سطح پر مکالمہ موحد ہے۔ اس سے مکالمہ کی بدولت انسان ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ لیکن مکالمہ کی بجائے مضحکہ اڑانے اور توہین کا چلن اختیار کر لیا جائے تو علم کی راہ مسدود ہو جاتی ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ کی سطح پر احترام مذاہب کے اصول وضع کیے جانے چاہئیں اور انکا احترام لازم قرار دیا جانا چاہیے۔ پاکستان اور عالم اسلام کے علماء اور اہلِ دانش کو اس بحث میں آگے آنا چاہیے تاکہ آزادی اظہار توہین مذاہب و مقدسات کے درمیان فرق دنیا پر واضح ہو جائے اور یورپ سے مسلمانوں کو ایذا پہنچانے اور اس طرح امن عالم کو مجروح کرنے کی آزادی آزار کی جو لہر اٹھی ہے اس کو روکاجائے۔

متعلقہ خبریں