Daily Mashriq


جمہوریت کا نیا رانجھا اور کیدو

جمہوریت کا نیا رانجھا اور کیدو

آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ منی لانڈرنگ کے جس مقدمہ کا سابق صدر آصف زرداری، ان کی ہمشیرہ اور ایک دوست کو بمعہ خاندان سامنا ہے اس کی تحقیقات کا آغاز میاں نوازشریف کے دور حکومت میں 2015ء میں ہوا۔ سہولت کیلئے سمجھ لیجئے کہ ذوالفقار مرزا اور ان کی اہلیہ محترمہ فہمیدہ مرزا کی پیپلزپارٹی سے بغاوت کا ’’انعام‘‘ تھا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان زندہ وتابندہ ہیں۔ منی لانڈرنگ کے اس مقدمہ کو موجودہ سیاسی حالات میں اپوزیشن کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بنا کر دھول اُڑانے والے سیاستدانوں اور صحافیوں میں اخلاقی جرأت ہے تو چودھری نثار علی خان سے دریافت کر لیں کہ انہوں نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم کس کے ایماء پر دیا تھا۔ کیا یہ جناب نوازشریف کا ذاتی فیصلہ تھا کہ بالائی حکم ملنے پر چودھری نثار علی خان نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور ’’اوپر‘‘ والوں کی خواہش سے آگاہ کیا۔ میاں نوازشریف نے منظوری دی ۔ تحقیقات کی ہلکی پھلکی موسیقی شروع ہوگئی۔ اب یہ کہنا کہ یہ تحقیقات اپوزیشن کو تقسیم کرنے کیلئے شروع ہوئی ہے اور پیپلز پارٹی موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں کہاں تک درست ہے اس پر سر کھپانے کی ضرورت نہیں۔ میاں نوازشریف کی محبت اور جمہوریت نوازی کے اسیر لیگی اور چند صحافی دوست حقائق کو کیوں مسخ کر رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب انہیں دینا چاہئے۔ اس حوالے سے آخری بات یہ ہے کہ سوموار کو اسلام آباد میں ایف آئی اے میں پیشی کے بعد جب سابق صدر سے اس مقدمہ کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا ’’بدقسمتی سے یہ مقدمہ نواز شریف کے دور میں قائم ہوا، صحافی نے کہا لیکن اب تو نوازشریف بھی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ایک مقدمہ میں سزا پاچکے؟ زرداری بولے، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آخر کیوں ضروری ہے کہ حقائق کو مسخ کر کے نواز شریف کو جمہوریت کا رانجھا اور زرداری کو کیدو ثابت کیا جائے؟۔ نون لیگ کے حاجی سبحان جاتی امراء تاثر دے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کیلئے متحدہ اپوزیشن کو تقسیم کر چکی۔ معاف کیجئے گا متحدہ اپوزیشن کے نام سے اتحاد قائم ہی نہیں ہوا تھا۔ انتخابی شکایات، تحفظات اور دھاندلی کے حوالے سے حزب اختلاف کی جماعتوں نے مشترکہ مؤقف اپنانے کیلئے انتظام کیا اس انتظام کے تحت سپیکر اور وزیراعظم کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ ہوا۔ مجھ طالب علم کی دانست میں پیپلز پارٹی کو اس انتظام کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔ بن گئی تھی تو وعدہ کی پاسداری ہونا چاہئے تھی کیونکہ سپیکر کا نام پی پی پی نے وزیراعظم کے امیدوار کا نام نون لیگ نے اور ڈپٹی سپیکر کا نام ایم ایم اے نے دینا تھا۔ تینوں جماعتوں پر اُمیدوار نامزد کرنے کے حوالے سے کوئی پابندی تھی نہ دباؤ۔ الیکٹرانکس وپرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوا۔ بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا بلاول، جنرل ضیاء الحق کے ان وارثوں کو ووٹ دے گا جنہوں نے ان کی والدہ اور نانی کی کردارکشی کی تھی؟

تیسرے مرحلے میں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر بن گئے ان کی جماعت عددی طور پر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت تھی۔ قومی اسمبلی کے تو قواعد وضوابط کے تقاضے پورے ہوئے۔ یہاں ساعت بھر کیلئے اس امر پر غور کیجئے کہ دونوں مراحل قومی اسمبلی یا سینیٹ میں اپوزیشن کی نئی صف بندی اور اپوزیشن لیڈرکے حوالے سے متحدہ اپوزیشن (اگر تھی تو) کا کوئی اجلاس ہوا؟۔ جی نہیں۔ نون لیگ اکثریتی جماعت تھی اے این پی، جے یو آئی (ف) اس کیساتھ کھڑے ہوئے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) پچھلے پانچ سال کے دوران پارلیمانی سیاست میں نون لیگ کیساتھ ہی کھڑے تھے تو اب نیا کیا ہوا کچھ بھی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ بعض مہربان یہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نون لیگ کے دست حق پرست پر بیعت کر لے سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایسا کیوں کرے؟ پچھلے تیس بتیس سال کی سیاست میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی حریف تھے۔ اکتوبر1999ء کے بعد اے آر ڈی میں دونوں اکھٹے ہوئے، میثاق جمہوریت ہوا۔ 2008ء میں دونوں وفاق اور پنجاب میں پہلے حکومتی اتحادی بنے اور پھر یہ اتحاد مرحلہ وار ٹوٹ گیا۔ 2008ء سے 2013ء کے درمیان کونسی گالی اور دھمکی تھی جو جناب شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کو نہیں دی۔ 2013ء میں نون لیگ اسٹیبلشمنٹ کے اتحادی کے طور پر اقتدار میں آگئی۔ 2013ء سے 2018ء کے درمیان نون لیگ کا پیپلزپارٹی سے برتاؤ کیا رہا۔ زرداری نوازشریف ملاقات منسوخ کرکے جنرل راحیل شریف کو ماسکوں میں فون پر کس نے اطلاع دی اور ثواب کمایا؟۔ مکرر عرض ہے متحدہ حزب اختلاف کا پلیٹ فارم قائم ہی نہیں ہوا تو پیپلز پارٹی نے چھرا کہاں گھونپا۔ اپنے سیاسی عمل اور سفر کے حوالے سے سیاسی جماعتیں آزاد ہیں جو بھی فیصلہ کریں۔ عجب بات یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی دوسروں کی طرح نون لیگ کی دم چھلہ بنی رہی تو جمہوری جماعت ہے اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کرے تو اسٹیبلشمنٹ کی ٹاوٹ جماعت۔ یعنی جو چاہے ’’جاتی امراء کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔اپوزیشن کا نواز شریف خاندان کی قیادت میں جو اتحاد قائم ہے وہ شخص فطرت پر قائم ہے توکیا پیپلز پارٹی شخصی نفرت پر قائم اس اتحاد کا حصہ بن کر ہی جمہوریت پسند کہلائے گی؟ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں