سی ڈی اے، مینجمنٹ کیڈر، سکول اور شہر کی صفائی

29 اگست 2018

اس مرتبہ مجھے خوشگوار حیرت ایسے ہوئی کہ اسلام آباد سے ایک معروف سرجن نے رابطہ کر کے جی فورٹین اسلام آباد کے حوالے سے معلومات دیں قبل اس کے کہ اس مسئلہ پر بات کی جائے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ روزنامہ مشرق صرف خیبر پختونخوا ہی کا اخبار نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا صائب الرائے طبقہ بھی اس کا قاری ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق جی فورٹین پر 2004ء میں پی ایچ اے نے کام شروع کیا، کچھ مکانات پہلے سے ضرور موجود تھے مگر اس کے بعد راتوں رات تعمیر کر کے آبادی کے حساب سے رقم بٹورنے کی گویا مہم چل نکلی۔ اس سے سرکاری خزانے کو کئی گنا زیادہ رقم کی خواہ مخواہ میں ادائیگی کرنا ہوگی۔ پی ایچ اے نے بھی غیر قانونی تعمیرات روکنے کی کوشش نہ کی جو ازخود سوال کا باعث اور ملی بھگت کا شبہ ہے۔ اب ایف فورٹین بن رہا ہے تو تجاوزات بھی شروع ہوگئی ہیں۔ راتوں رات کھڑی ہونے والی عمارتوں کا حکومت کو معاوضہ سرکار کے خزانے سے دینا ہوگا۔ ایف فورٹین میں آدھی جگہ کا قبضہ دیا گیا ہے آدھا باقی ہے۔ سی ڈی اے براہ راست وزیراعظم کا ماتحت ادارہ ہے۔ کیا وزیراعظم عمران خان ان گزارشات کا نوٹس لیں گے اور گوگل میپ کے ذریعے بعد میں ہونے والی تمام تعمیرات کو غیر قانونی قرار دے کر مالکان کو معاوضہ کی ادائیگی کی بجائے سزا دلوائیں گے اور ایف فورٹین کا قبضہ جلد اور بآسانی دلوا سکیں گے؟۔

خیبر پختونخوا میں حکومت سازی ہو چکی اب وعدوں کی تکمیل کا وقت ہے۔ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں سے تواتر کیساتھ لوڈشیڈنگ کی شکایتیں مل رہی ہیں، بعض علاقوں میں گیس پریشر کی سخت کمی کی وجہ جنریٹر چلانے کو گردانا جاتا ہے جہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث گھر گھر جنریٹر چلتے ہوں وہاں واقعی گیس پریشر کی کمی فطری امر ہے وگرنہ کم ازکم گرمیوں میں تو گیس کی لوڈشیڈنگ سے کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔

واسطہ تو محکمہ تعلیم کے مینجمنٹ کیڈر کے افسروں کو بہت ہی عجیب وغریب قسم کے حکمرانوں اور اعلیٰ افسران سے پڑا ہے۔ بے چارے مینجمنٹ کیڈر والوں کی تو پہلے اب گریڈیشن نہیں کی جاتی، ان کی ترقی کے مواقع مسدود ہیں۔ اگر کوئی گریڈ بیس میں بھی پہنچ جائے تو تدریسی کیڈر کے گریڈ انیس کا ڈائریکٹر لگ جاتا ہے مگر گریڈ بیس کے مینجمنٹ کیڈر کے افسر کو انتظامی پوسٹنگ نہیں دی جاتی۔ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر تعلیم اب خیر سے سینئر وزیر ہونے کے ناتے ڈپٹی وزیراعلیٰ بن گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ محمود خان بھی سینئر سیاستدان ہیں، تعلیم کی وزارت جسے ملی ہے وہ بھی کوئی نووارد نہیں بس بات انصاف اور عمل کی ہے۔ اگر تحریک انصاف کی دوسری حکومت میں بھی مینجمنٹ کیڈر کو انصاف نہ ملے تو بیچارے جائیں تو جائیں کہاں۔ ہائی کورٹ تو وہ گئے تھے جس کا حکم ہے کہ اگر فوری طور پر مستقل ترقی دینا ممکن نہیں تو ان کو عارضی طور پر ہی اگلے گریڈ دیئے جائیں، کوئی عدالت کی نہ مانے تو توہین عدالت لگتی ہے یہاں نہ تو توہین عدالت لگی اور نہ ہی انصاف ہوا۔ انصاف تو ہونا چاہئے کہ سرکاری سکولوں میں بچوں کے پینے کیلئے تازہ اور صاف پانی دستیاب ہو اور وقتاً فوقتاً پانی کے زیر زمین یا چھت پر ٹینکی کی صفائی ہوتی رہے مگر لکی مروت سے ایک برقی پیغام میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ سرکاری سکولوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ پانی کے غیر محفوظ اور طویل عرصہ تک ذخیرہ کرنے سے نہ صرف پانی خراب ہوتا ہے بلکہ اس میں چھپکلی، لال بیگ اور دیگر حشرات گر کر مر جاتے ہیں اور بچوں کو یہی پانی پینا پڑتا ہے۔ اس پر مزید کیا لکھا جائے سوائے اس کے کہ اے حکمرانوں! اے محکمہ تعلیم کے کرتا دھرتاؤ! یہ قوم کے بچے اشرف المخلوقات ہیں، ان سے اس قسم کا سلوک روا نہ رکھو! خدا سے ڈرو اور ان بچوں پر رحم کھاؤ۔رحم کھانے کی بات تو یہ بھی ہے کہ لوئر دیر سے ایک قاری نے اپنے علاقے میں غربت اور بیروزگاری کا رونا رویا ہے۔ یقیناً غربت اور بیروزگاری پورے ملک کا مسئلہ ہے لیکن بعض علاقوں میں پسماندگی اور مواقع نہ ہونے کے باعث روزگار اور کاروبار کے معاملات گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتے جا رہے ہیں جس کا ادراک کرتے ہوئے حکمرانوں کو ان علاقوں میں نوجوانوں کو مقامی حالات اور وسائل کے مطابق فنی تربیت دینے اور ان کیلئے روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ دیر کے علاقے میں فرنیچر سازی، ماہی پروری، دستکاری اور کئی دیگر مواقع کو جانچنے اور ترقی دینے کی ضرورت ہے تاکہ غربت اور بیروزگاری میں کمی لائی جا سکے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی توجہ صرف میٹرو پشاور یا سوات ہائی وے کی تعمیر کی تکمیل پر ہی نہیں ہونی چاہئے بلکہ دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کے حل کی بھی ذمہ داری نبھانے پر خصوصی توجہ دینی چاہئے چونکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمودخان کا تعلق خود ملاکنڈ ڈویژن سے ہے اسلئے ان کو اپنے ڈویژن کے حالات سے زیادہ بہتر آگاہی بھی ہوگی ان سے بجا طور پر توقع ہے کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کے محروم علاقوں سمیت تمام نظرانداز کردہ پسماندہ علاقوں کے عوام کیلئے امید کی کرن ثابت ہوں گے۔ ثابت کر کے دکھا بھی دینا چاہئے تھا کہ پی ڈی اے اور ڈبلیو ایس ایس پی صوبائی دارالحکومت کی صفائی کی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں مگر حیات آباد سمیت شہر کے کئی علاقوں سے عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے آلائیشوں اور جانوروں کے باقیات کو درست طریقے سے نہ اُٹھانے اور جزوی کام کے باعث ماحول تعفن زدہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے دورہ بھی کیا مگر سارے علاقوں کا تو دورہ ظاہر ہے نہیں کر سکتے تھے۔ قدرت نے بھی تیز بارش کرنے میں دیر کر دی ان سے تو شکایت نہیں لیکن شہری حکام تو کم ازکم ہفتہ گزرنے کے بعد ہی سہی لیکن اپنی ذمہ داری تو نبھائیں۔

فون نمبر پر رابطہ کریں

مزیدخبریں