Daily Mashriq


صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ

صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ

وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں کئی دوررس اثرات کے حامل فیصلے کئے ہیں، انہی میں ایک فیصلہ صدر، وزیراعظم اور ارکان اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ ہے۔ صوابدیدی فنڈز کا اختیار جنرل ضیاء الحق کے بعد متعارف کرائی جانے والی جمہوریت کو لاحق عارضوں میں سے ایک ہے۔ 1985ء میں غیر جماعتی انتخاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی کو ساکھ اور عوامی توجہ ودلچسپی دینے کیلئے محمد خان جونیجو کے وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے یہ اختیار متعارف کرایا تھا۔ اس وقت پیپلز پارٹی اور ایم آر ڈی جمہوری اداروں کو ڈمی اسمبلیاں کہہ رہی تھیں۔ ڈمی کی اس پھبتی سے گلو خلاصی کیلئے جہاں محمد خان جونیجو نے مارشل لاء کو ایک لعنت قرار دیا حالانکہ ابھی مارشل لاء لگانے والے جنرل ضیاء الحق نہ صرف مضبوط صدر کے طور پر موجود تھے بلکہ مارشل لاء بھی قائم تھا۔ اسی تسلسل میںغیر جماعتی انتخابات کی کوکھ سے جنم لینے والی حکومت نے عوامی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز کا اختیار دیدیا۔ محمد خان جونیجو سچ مچ کے بااختیار وزیراعظم بننے کی طرف تیز قدموں سے دوڑتے چلے گئے۔ جنرل ضیاء الحق کی رخصتی کے امکانات اور طریقوں پر شاید بااثر ایوانوں میں غور شروع ہو گیا تھا اسی کے زیراثر عالمی مالیاتی ادارے بھی جمہوریت کی اس کونپل کی آبیاری چاہتے تھے اسلئے وہ بھی فنڈز کے ذریعے اس ادارے پر کھل کر مہربان تھے۔ اسلئے صوابدیدی فنڈز میں آڈٹ اور حساب کتاب کا کوئی رواج ہی قائم نہ ہو سکا۔ اس اختیار نے عوامی نمائندوں کا روایتی اور جمہوری تصور خادم بدل کر انہیں عملی طور پر ایک حاکم اور سیاہ وسفید کے اختیار کا حامل بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بااختیار لوگوں میں حاکمانہ اور شاہانہ خُو بو اور تمکنت پیدا ہوتی چلی گئی۔ صوابدیدی فنڈز کا کچھ حصہ تو ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے مگر عمومی تاثر یہی ہے کہ اس فنڈز کا بڑا حصہ سیاسی رشوت، سیاسی خدمت کے محنتانہ اور معاوضے کے طور پر جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں عوام کے منتخب نمائندوں کا کام قانون سازی ہوتا ہے۔ قانون سازی کا عوام سے براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ ایک غلط اور مبہم قانون عوام کی زندگیاں اجیرن بھی بنا سکتا ہے اور ایک اچھا قانون انہیں راحت بھی دے سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے عوام کو یہ بات سمجھائی ہی نہیں گئی کہ قانون ساز اداروں اور وہاں بنائے گئے قوانین کا عام آدمی سے کس قدر گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی تشفی کیلئے اور انہیں اپنے حکمرانوں اور منتخب نمائندوں سے جوڑے رکھنے کیلئے صوابدیدی فنڈز کو گوند کے طور پر استعمال کیا گیا۔ عوام کو اپنے گرد جمع رکھنے اور انہیں مالی طور پر اپنا دست نگر بنائے رکھنے کیلئے صوابدیدی فنڈز کے استعمال نے جمہوریت کو کمزور کیا۔ عوام کو یہ باور کرانے کی ضرورت تھی کہ جس طرح تعمیر وترقی کا ان کی زندگی سے گہرا تعلق ہے اسی طرح قانون ساز اداروں میں ہونیوالے فیصلے بھی ان کی روزمرہ زندگی پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان کے نمائندے صوابدیدی اور ترقیاتی فنڈز نہ ہونے کے باجود بھی اہم ہیں۔ اگر عوام کو انتخابات کے وقت ہی یہ باور کرا دیا جائے کہ وہ جس شخص کو ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں اس کا ترقیاتی کاموں اور نوکریوں سے قطعی کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق ایوان میں قانون سازی سے ہے تو عوام اپنے نمائندوں سے اس نوعیت کی توقع ہی وابستہ نہیں رکھیں گے اور وہ یہ ذہن بنا کر پولنگ بوتھ پر جائیں گے کہ انہوں نے قانون سازی کیلئے اپنا نمائندہ چننا ہے مگر یہ وہاں ہوتا ہے جہاںجمہوریت اور سیاسی جماعتیں عوام کی تربیت کرتی ہیں۔ ہماری جمہوریت کا پچاس فیصد سیاسی جرنیلوں نے مارشل لاء نافذ کرکے تباہ کیا اور باقی پچاس فیصد کام ان سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں نے کیا جو کئی بار اقتدار میں آنے کے باجود حقیقی جمہوریت کی بجائے علامتوں سے کام چلاتی رہیں۔ حکمرانوں نے صوابدیدی فنڈز میں اضافہ کرنے کی روش اپنالی اور یہ فنڈز کرپشن، سیاسی رشوت اور اقرباء پروری کی خاطر استعمال ہوتے رہے۔ قانون سازی کیلئے منتخب افراد کو گلیوں کی تعمیر ومرمت کی ذمہ داری دینے سے بلدیاتی اداروں اور نظام کی اہمیت بتدریج کم ہوتی چلی گئی۔ ماضی کی کوئی بھی حکومت اس قباحت سے دامن نہ چھڑا سکی۔ عمران خان کی قیادت میں نومنتخب حکومت اپنے وعدوں، حالات زمانہ اور ملکی معیشت کی حالت زار کے باعث بڑے اور کڑے فیصلوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہی میں ایک فیصلہ صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ ہے۔ یہ آسان فیصلہ نہیں بلکہ خود حکومت کے حلقوں میں اس پر بے چینی محسوس کی جا رہی ہوگی اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر آنیوالے پی ٹی آئی کے گھاک سیاسی لوگ اس فیصلے پر اندر سے پیچ وتاب کھا رہے ہوں گے مگر قوموں کی زندگی میں ایک مقام ایسا آتا ہے کہ جب وقتی مصلحتوں اور سیاسی مفادات سے اوپر اُٹھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ انسانوں کی اس بستی میں یہاں چمگادڑ کی طرح اُلٹا لٹکیں تو سیدھا نظر آتا ہے۔ اس کلچر کو بدلنا ہے مگر یہ کلچر اسی وقت بدلے گا جب اوپر آنے والی تبدیلی کے اثرات بتدریج گلی محلوں میں نظر آنے لگیں گے۔

متعلقہ خبریں