Daily Mashriq


لہو خورشید کا ٹپکے، اگر ذرے کا دل چیریں

لہو خورشید کا ٹپکے، اگر ذرے کا دل چیریں

لڑنا جھگڑنا انسانی زندگی کا حصہ ہے جو لڑنا جھگڑنا نہیں جانتا گویا جینا نہیں جانتا۔ بھولا باچھا لڑائی جھگڑوں سے دور رہتا تھا۔ اسے لڑنا جھگڑنا آتا ہی نہ تھا۔ ایک بار چالاکو ماسی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی آؤ کھیلتے ہیں۔ کونسا کھیل کھیلیں گے؟ بھولے باچھا نے پوچھا جس کے جواب میں چالاکو ماسی کہنے لگی کہ ہم جو کھیل کھیلیں گے اس کا نام ہوگا لڑائی مار کٹائی۔ لڑائی مار کٹائی؟ بھولا باچھا بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے انداز میں بولا۔ ہاں لڑائی مار کٹائی۔ بڑے مزے کا کھیل ہے چالاکو ماسی نے جواب دیا اور پھر دوسرے ہی لمحے اس نے بھولے باچھا کے منہ پر دھپڑ کھینچ مارا۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ بھولا باچھا چیخا۔ یہ بدتمیزی نہیں ایک کھیل ہے۔ اس نے بھولے باچھا کے منہ پر دوسرا تمانچا رسید کرتے ہوئے کہا۔ اچھا یہ کھیل ہے تو یہ لے میں تجھے مزہ چکھاتا ہوں۔ بھولے باچھا نے چالاکو ماسی کو دھپڑ رسید کرنے کیلئے ہاتھ لہرایا اور چالاکو ماسی بھاگ کھڑی ہوئی۔ بھاگتی کیوں ہے۔ بھولے نے جست لگا کر چالاکو ماسی کو پکڑ لیا اس سے پہلے کہ وہ اس کے منہ پر تمانچہ رسید کرتا چالاکو ماسی چیخ اٹھی ٹھہرو ٹھہرو۔ کیا ہوا؟ بھولے باچھا نے چالاکو ماسی سے پوچھا جس کے جواب میں وہ اپنی پھولی ہوئی سانس پر قابو پاتے ہوئے بولی کہ اس کھیل کے کچھ اصول ہیں اور ہمیں لڑائی مار کٹائی نامی یہ کھیل شروع کرتے ہوئے ان اصولوں کی پاسداری کرنی ہوگی۔ کیا اصول ہیں بھولے باچھا نے پوچھا جس کے جواب میں چالاکو ماسی کہنے لگی کہ اگر میں کہوں لڑائی شروع تو لڑائی شروع اور اگر میں کہوں لڑائی بند! تو لڑائی بند۔ اس اصول پر سختی سے عمل کرنا ہے اس سے پہلے کہ بھولا باچھا چالاکو ماسی کے بتائے ہوئے لڑائی مارکٹائی کے ان اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ چالاکو نے لڑائی شروع کہہ کر بھولے کے منہ پر ایک اور دھپڑ رسید کر دیا مگر اب کے بار بھولے باچھا نے اسے بھاگنے نہیں دیا اور نہایت پھرتی سے اسے دبوچ کر اس کے منہ میں تمانچہ رسید کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے جیسے ہی تمانچہ مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا چالاکو ماسی پکار پکار کر کہنے لگی لڑائی بند لڑائی بند۔ چالاکو ماسی کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہی بھولے باچھا کا ہاتھ فضا میں بلند ہوکر وہیں رکے کا رکا رہ گیا جہاں وہ لڑائی بند کا جملہ سن کر رک گیا تھا۔ چلو لڑائی شروع بھولے باچھا نے دھپڑ رسید کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ نہیں نہیں لڑائی شروع اور لڑائی بند کا جملہ میں اور صرف میں کہوں گی۔ چالاکی ماسی بولی۔ بھلا وہ کیوں؟ اس لئے کہ میں میں ہوں اور تم تم، دونوں میں فرق ہے نا۔ اسلئے لڑائی شروع کہہ کر اس نے بھولے باچھا کے منہ پر چھ چار کا ہاتھ مارا اور بھاگ کر یہ جا وہ جا یوں غائب ہوگئی جیسے گدھے اور ہاتھی کے سر سے سینگ غائب ہوئے تھے۔ بھولے باچھا کو چالاکو ماسی کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا اور اس نے اپنے آپ سے پکا وعدہ کر لیا کہ وہ اب لڑائی مار کٹائی نامی کھیل میں کبھی بھی حصہ نہ لے گا۔ اس کے بعد یوں ہوا کہ جب کسی نے اس کے منہ میں تمانچہ مارنے کی کوشش کی وہ غصے سے لال پیلا ہوکر کہنے لگا کہ اب کے تو مار کے دیکھ میں تجھ سے دیکھ لوں گا۔ مارنے والے نے اسے دوسرا گھونسا رسید کیا تو وہ اپنی رٹی رٹائی دھمکی دہرا کر اسے کہنے لگا اب کے تو مار کے دیکھ۔ یوں وہ مار کھاتا رہا اور مارنے والا مار مار کر اسے بھولا باچھا سے بھرکس باچھا بناتا گیا۔ کہتے ہیں دبکے کو دباؤ اور جو نہ دبے اس سے خود دب جاؤ۔ قارئین محترم آج کے کالم کی اتنی طولانی تمہید کا مقصد یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں جوہری تجربات کیخلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے اور اس کا سب سے بڑا مقصد یہی ہے کہ دنیا میں جوہری تجربات کرکے دنیا والوں کیلئے خطرہ بننے والے ان ممالک کو روکا جائے جو اس کی وجہ سے خطرناک ممالک کہلا سکتے ہیں۔ جوہری توانائی یا ایٹامک انرجی کے استعمال سے دنیا میں آئے روز سر اُٹھانے والے لڑائی جھگڑوں یا جنگ وجدل کے کلچر نے دنیا کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے اور یوں

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

کے مصداق اس دنیا کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ کمال ہے یہ باتیں وہ ممالک کر رہے ہیں جو خود جوہری تجربات میں پہل کر چکے ہیں اور اس کے استعمال سے کبھی نہ بھولنے والی تباہی پھیلا چکے ہیں۔ ان ممالک کے پاس جوہری ہتھیاروں کی کھیپوں کی کھیپیں موجود ہیں اور وہ چالاکو ماسی کی طرح جب بھی چاہیں بھولے باچھاؤں کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے نشانے پر رکھ کر ڈومور ڈومور کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور جب بھولا باچھا جوابی کارروائی کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہو تو یہ لڑائی بند لڑائی بند کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔ ہم نہیں کہتے کہ لڑنا جھگڑنا اور جوہری ہتھیاروں کے ذریعے تباہی پھیلانے کا خواب دیکھنا یا اس خواب کو پورا کرنا کوئی اچھی بات ہے لیکن ہم عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا نعرہ لگانے والے ملکوں کے ارباب اقتدار سے عرض کئے دیتے ہیں کہ وہ پہلے اپنی بند قباء کی جانب دیکھیں کہ اس پر جوہری ہتھیار متعارف کرنے اور ان کے استعمال کے کتنے داغ موجود ہیں اگر ایسا نہیں تو پھر انہیں دوسروں کے گریبانوں میں جھانک کر ان پر پابندی لگانے کا حق حاصل ہوگا بصورت دیگر ہم اپنے قومی شاعر کی اس بات کو بھلائے نہ بھولیں گے کہ

لہو خورشید کا ٹپکے، اگر ذرے کا دل چیریں

متعلقہ خبریں