Daily Mashriq

فاٹا کے انضمام کی تکمیل اور حکومت کی ذمہ داریاں

فاٹا کے انضمام کی تکمیل اور حکومت کی ذمہ داریاں

قبائلی اضلاع کے انیس اراکین اسمبلی کے خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے کا عمل فاٹا انضمام کی تکمیل کا حتمی مرحلہ بھی طے ہوگیا یہ قبائلی اضلاع میں نئے دور کا نکتہ آغاز ہے۔قیام پاکستان کے بہتر سال بعد سابقہ فاٹا کے عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہو چکی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ انتخابات قبائلی اضلاع میں ہوئے اور بلوچستان عوامی پارٹی کو حیرت انگیز طور پر خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی مل گئی۔ قبائلی اراکین اسمبلی نے پہلے ہی دن اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اجا گر کر کے اچھی ابتداء کی وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف نے اراکین کا کھلے دل سے خیر مقدم کر کے نو منتخب اراکین کو اپنائیت کااحساس دلانے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر اتفاق کیا قائد حزب اختلاف نے ایک قدم آگے بڑھ کر قبائلی اضلاع کیلئے اضافی فنڈز کا بھی مطالبہ کیا انہوں نے مطالبہ کیا کہقبائلی اضلاع جنگ سے متاثرہ علاقے ہیں وہاں سکول ،ہسپتال اور انفراسٹرکچرمکمل طور پر تباہ ہے حکومت سے درخواست ہے کہ وہ قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے دل کھول کر فنڈدے کیونکہ ان علاقوں کی محرومیاں زیادہ ہے اور میری درخواست ہے کہ ہم سے دس گنازیادہ فنڈنئے اضلاع سے منتخب ارکان کے ذریعے ان کے علاقوں میں خرچ کیا جائے تعلیمی اداروں میں داخلے اور ملازمتوں میں بھرتی کے وقت ان لوگوں کے ساتھ خصوصی رعایت کی جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی اضلاع کے عوام کو کالے قوانین اور عدم مساوات کی جو شکوہ شکایات تھیں ان کا اب وجود تو باقی نہ رہا بظاہر یہ ایک قابل اطمینان نکتہ آغاز اور اہم دن بھی ہے لیکن عملاً اور حقیقتاً صورتحال یہ ہے کہ صرف قبائلی اضلاع ہی پسماندہ نہیں صوبے کے دیگر اضلاع کی صورتحال ان سے زیادہ مختلف نہیں قبائلی اضلاع کی تاریخ کے پہلے منتخب صوبائی نمائندوں پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف قبائلی اضلاع کے عوام کے مسائل کے حل کی جدوجہد کریں بلکہ ان کو ان حالات سے بھی نکالنے کی سعی کی ضرورت ہے جس کے باعث قبائلی عوام پسماندگی کا شکار ہیں قبائلی منتخب نمائندوں کو مقامی رسم ورواج کے احترام کے ساتھ قبائلی معاشرے میں مثبت تبدیلیوں اور فرسودہ روایات کے خاتمے کیلئے جس کے نتیجے میں شدت پسندی اور ایسے حالات جنم لیتے ہیں جس کے باعث ہم آہنگی کی فضا متاثر ہوتی ہے تعلیم کو عام اور فن وہنرمندی کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کو منفی کی بجائے مثبت طرز فکر اختیار کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو مثبت اور نفع بخش بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانا چاہئیں۔اس ضمن میں جاری کوششوں کو مربوط بنانے کی ضرورت ہوگی جہاں تک مسائل کا تعلق ہے مسائل کا حل راتوں رات ممکن نہیں البتہ ایسے مسائل جو وسائل کی بجائے انتظامی توجہ سے حل ہوسکتے ہوں دستیاب وسائل کو بہتر طور پر بروئے کار لا کر اس میں کمی لانا ممکن ہوگا۔قبائلی اراکین کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ نہ صرف اسمبلی میں اپنے حلقوں کی نمائندگی کا حق ادا کریں بلکہ انہیں اپنے اپنے حلقوں میں انصاف اور میرٹ پر کام یقینی بنانا ہوگا تاکہ قبائلی عوام محرومیوں کا جو دور گزار چکے ہیں اس کا ازالہ ہو اور قبائلی عوام کو اس امر کا احساس ہو جائے کہ اب وہ ماضی کا حصہ نہیں اور برابر کے شہری ہیں ان کو بھی وہی حقوق اور سہولیات میسر ہیں جو کسی بھی دوسرے ضلع کے عوام کا حق ہے۔ قبائلی اضلاع کے عوام کا حق ہے۔قبائلی اضلاع کے انضمام کی صورت میں صوبائی حکومت اور خزانے پر جو اضافی بوجھ آں پڑا ہے اس کیلئے وسائل کی فراہمی اور قبائلی اضلاع کی تیز تر ترقی کیلئے مرکزی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جس کے بغیر قبائلی اضلاع میں تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیرہونا ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں