Daily Mashriq

کابل پر طالبان کے قبضے کا امکان؟

کابل پر طالبان کے قبضے کا امکان؟

افغان طالبان کے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کی کامیابی کے بعد بھی افغان حکومت کے خلاف جنگ کے اعلان سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں اپنے انخلاء سے زیادہ کسی چیز سے دلچسپی نہیںاور وہ افغان حکومت کو طالبان کے رحم وکرم پر چھوڑنے کیلئے تیار ہے جس کے بعد یہ پیشگوئی مشکل نہیں کہ افغان حکومت طالبان جنگجوئوں کا زیادہ عرصہ مقابلہ نہیں کرسکتی اور کابل پر ایک مرتبہ پھر طالبان قابض ہوسکتے ہیں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء سے متعلق دوحہ میں جاری مذاکرات چند دنوں میں حتمی مرحلے پر ہیں ایک افغان کمانڈر کے مطابق امریکا اور طالبان کا ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنا طے پا گیا ہے تاہم افغان حکومت سے جنگ بندی جیسی کوئی بات زیر بحث نہیں، طالبان کابل حکومت کے ساتھ جنگ جاری رکھیں گے اور جنگ کے ذریعے ہی طاقت و اقتدار حاصل کریں گے۔ افغانستان میں جو صورتحال بننے جارہی ہے اس سے ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کا خطرہ ہے امریکہ کو طالبان سے مذاکرات میں صرف اپنی گلو خلاصی ہی حاصل نہیں کرنی چاہیئے بلکہ افغانستان میں مستقل قیام امن کا جامع منصوبہ تیارکر کے اس پر عملدرآمد کی ضمانت کے حصول کے بعد ہی انخلاء کرنا چاہیئے بصورت دیگر وہ ساری تپسیا رائیگاں اور ضائع ہوگی جو امریکہ اور اتحادی ممالک نے کی تھی۔امریکہ نے افغان حکومت کو تنہا چھوڑنے کی غلطی کا اعادہ کیا تو ایک مرتبہ پھر افغانستان کے حالات دنیا کیلئے تشویش ناک ہوسکتے ہیں ۔

تعلیمی بورڈوں کا طشت ازبام نظام امتحانات

ایٹا میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں83فیصد امیدواروں کا فیل ہونا اور صوبے کے تعلیمی بورڈوں کے معیار طلبہ کی استعداد وذہانت اور خاص طور پر پر چوں پر نمبر لگانے کے نظام پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اس سے بھی بڑھ کر سوالیہ نشان یہ ہے کہ ایف ایس سی میں نوے فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طالب علموں میں سے صرف پندرہ طالب علم انٹری ٹیسٹ پاس کر سکے جبکہ اسی فیصد نمبر حاصل کر نے والوں کی تعداد ساتھ سو ترپن رہی جس کا واضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ نوے فیصد نمبر حاصل کرنے والے طالب علم یا تو رٹہ لگا کرنمبر حاصل کرنے والے تھے اور ان کی سوجھ بوجھ اس معیار کی نہ تھی کہ وہ انٹری ٹیسٹ کا پرچہ حل کرتے یا پھر ان طالب علموں اور ان کے والدین نے دیگر ذرائع کا سہارا لیکر اتنے نمبر حاصل کئے ایک اور عام صورت متعلقہ سکولوں کی جانب سے ملی بھگت کی ہے جو کوئی راز کی بات نہیں جنہوں نے مافیا کی صورت میںتعلیم کو ایسی تجارت بنادیا ہے جو زیادہ سے زیادہ داخلوں کیلئے کشش پیدا کرنے کیلئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں شنید ہے اس معاملے کی بعض تعلیمی بورڈوں میںتحقیقات بھی جاری ہیں علاوہ ازیں بھی دیکھا جائے تو یہ کیسے ممکن ہوتا ہے کہ طلبہ سو فیصد کے قریب قریب نمبر حاصل کرتے ہیں ایک دوچار پانچ ،آٹھ ،دس طالب علم اپنی قابلیت سے اتنے نمبر ضرور حاصل کر سکتے ہوں گے لیکن جس تھوک کے حساب سے نمبر ملتے ہیں اس کا بھانڈا انٹری ٹیسٹ کے نتائج نے پھوڑدیا۔ نوے فیصد نمبر لینے کا مطلب یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس طالب علم کو سارے مضامین پر پورا پورا عبور حاصل ہے اور وہ کسی بھی امتحان میں نمایاں طور پر کامیاب ہونے کے قابل ہے کجا کہ صرف پندرہ ہی اس معیار پر پورا اتریں ایٹا ٹیسٹ کے نتائج سے یہ بات بخوبی طور پر واضح ہے کہ اسی فیصد کے لگ بھگ نمبر حاصل کرنے والے طالب علموں نے اپنی قابلیت ثابت کردی اور ان کے نمبر مصنوعی وحادثاتی نہ تھے اگر من حیث المجموع دیکھا جائے توتراسی فیصد طالب علموں کی قابلیت مطلوبہ معیار کی نہیں جس سے سرکاری اور نجی سکولوں کا بھرم پوری طرح کھل چکا اس ساری صورتحال کے جائزے اور تعلیمی معیار اور نظام دونوں کی اصلاح کیلئے ماہرین تعلیم کی سفارشات کی روشنی میں از سر نو نصاب کی تشکیل،تدریس اور خاص طور پر نظام امتحانات میں بڑی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے پاس فیل امتحان کا حصہ ضرور ہوتے ہیں لیکن پاس ہونے کا تناسب اگر بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے مصداق ہو تو اس کی فکر کرنی چاہیئے۔

خصوصی بچوں کیلئے ہائی سکول قائم کیا جائے

قوت سماعت اور گویائی سے محروم طلباء اور طالبات نویں جماعت میں داخلے کے مواقع نہ ملنے سے تعلیمی سلسلے کو منقطع کرنے پر مجبور ہونا حکومت کیلئے لمحہ فکریہ اور حددرجہ باعث افسوس امر ہے ہمارے خصوصی رپورٹر کے مطابق گلبہار میں قائم قوت سماعت اور گویائی سے محروم طلباء کے لئے قائم تعلیمی ادارے سے درجنوں سپیشل طلباء نے مڈل کا امتحان پاس کیا جس کے بعد وہ نویں جماعت میں داخلے کے لئے سپیشل بچوں کے لئے قائم تعلیمی ادارے میں گئے لیکن وہاں ان کو بتایا گیا کہ ان کے پاس گنجائش موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ سے مذکورہ طلباء داخلے سے محروم ہیں اور ان کا تعلیمی کیرئیر متاثر ہورہا ہیہم سمجھتے ہیں کہ خصوصی بچوں کی کم ہی تعداد اس لئے ہی تعلیم حاصل کرپاتی ہے کہ ان کو اور ان کے والدین دونوں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس اور حصول تعلیم سے خاص طور پر دلچسپی ہے وگرنہ خصوصی بچوں کو تعلیم دینے کارواج کم ہی ہے دوم یہ کہ ہماری حکومت اور ادارے تمام تر دعوئوں کے باوجود خصوصی بچوں کوتعلیم دلانے وہنر سکھانے کیلئے جگہ جگہ اداروں کے قیام میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے وگرنہ محولہ صورت نہ ہوتی۔شہر کے مرکزی علاقے میں خصوصی بچوں کوہائی سکول میں داخلہ میسر نہ آئے تو اضلاع ومضافات میں کیا عالم ہوگا اس کا اندازہ ہی ممکن نہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیئے اور صوبائی دارالحکومت میں فوری اور ہنگامی طور پر کسی بھی سرکاری ونجی عمارت میں خصوصی بچوں کا ہائی سکول قائم کر کے ان بچوں کے داخلوں کا بندوبست کر لینا چاہیئے تاکہ یہ حصول علم سے محروم نہ رہیں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اس معاملے کا خصوصی نوٹس لیں گے اور ہنگامی بنیادوں پر خصوصی طلبہ کی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کو یقینی بنائیںگے ۔

متعلقہ خبریں