Daily Mashriq

مودی پر عربوں کی نوازشات

مودی پر عربوں کی نوازشات

عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی بھارتی وزیراعظم مودی کو ایک ایسے وقت ایواڑ سے نوازا ہے جب مقبوضہ کشمیر کے مسلمان مسلسل چوتھے ہفتے سے کرفیو کی زد میں ہیں،متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید نے مودی کے گلے میں ایوارڈ ڈالنے کے بعدمودی سے کہا کہ آپ اس ایوارڈ کے حق دار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے مسلم امہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور یورپی ممالک سمیت پوری دنیا سے بھارتی اقدام کے خلاف بھر پور ردعمل آرہا ہے لیکن کشمیر میں بھارت کے حالیہ اقدام پر عرب دنیا میں ردعمل مختلف رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ سعودی عرب نے کشمیری مسلمانوں کی کھل کر حمایت تو نہ کی لیکن عرب امارات کے حکمرانوں کی طرح اس مشکل وقت میں مودی کو بلا کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک بھی نہیں چھڑکا۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دفاعی پارٹنر ہیں، لیکن ان کے درمیان اختلافات عرب امارات کے وجود میں آتے ہی پیدا ہوگئے تھے جو حالات کے جبر کے تحت دبے رہے۔ سعودی عرب اور امارات کے درمیان2 مسائل روزِ اول سے موجود ہیں، یعنی برابری اور سرحدی قضیہ۔سعودی عرب اور عرب امارات دونوں یمن کی جنگ میں اکٹھے کودے اور پاکستان کی طرف سے فوج نہ بھجوانے کے فیصلے پر سب سے زیادہ تنقید بھی امارات نے کی اور پاکستان کو ایک طفیلی ریاست کا طعنہ بھی دیا۔کشمیری مسلمانوں کے مسائل اپنی جگہ، مگر متحدہ عرب امارات کو تو اپنے مسائل کی فکر ستا رہی ہے۔ اگرچہ مودی کو ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ اپریل میں کیا گیا تھا لیکن ایوارڈ دینے کا وقت آگے بڑھانا ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ اس تقریب کو کچھ خاص ملکوں کے لیے پیغام رسانی کا ذریعہ سمجھا گیا۔متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید نے مودی کو ایوارڈ سے نواز کر بہترین بزنس ڈیل کی۔ محمد بن زاید یمن کی بندرگاہوں سے لے کر قرن افریقا تک بحر ہند اور اس سے بھی آگے عرب امارات کے تجارتی مفادات کو دیکھ رہے ہیں۔ اس قدر وسیع مفادات میں کشمیر کے 70 لاکھ مسلمانوں کا درد محسوس کرنے کا وقت بھلا کس کے پاس ہے؟متحدہ عرب امارات کا یمن جنگ کا مقصد یمن میں بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ متحدہ عرب امارات یمن کے سابق آمر علی عبداللہ صالح کے بیٹے کو یمن میں برسرِاقتدار لانا چاہتا تھا۔ یمن جنگ میں یہ مقصد حاصل ہوتا نظر نہ آیا تو عرب امارات نے راہ بدل لی۔اس سال جون میں عرب امارات نے یمن سے فوج نکالنے کا اعلان کیا اور جنوبی یمن میں علیحدگی پسند قوتوں کی مدد شروع کردی۔ جنوبی یمن کے علیحدگی پسند شمالی یمن سے الگ ہو کر اپنی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ عرب امارات نے سعودی عرب کا اتحادی ہوتے ہوئے بھی تمام توجہ جنوبی یمن پر دی اور جنوبی یمن کی بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد فوج واپس لے گیا۔ اب عرب امارات علیحدگی پسندوں کی90 ہزار فوج کو ہتھیار اور رقم دے کر جنوبی یمن کو اپنے لیے محفوظ بنائے ہوئے ہے۔ جبکہ سعودی عرب کا یمن کا مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ سعودی عرب کے لیے اصل پریشانی شمالی یمن کے حوثی باغی ہیں جو سعودی سرحدی صوبوں میں تیل کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہاں یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ اس صورتحال میں سعودی عرب کو یمن کی طویل جنگ سے کیا ملا؟یمن جنگ میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی غیر جانبداری کا فیصلہ کیا تھا اور اس کا انجام بھی سب کے سامنے ہے۔ عرب امارات دبئی کی بندرگاہ کے مقابلے میں گوادر کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عرب امارات چاہ بہار کو اپنے مفادات کے لیے بہتر تصور کرتا ہے۔ بھارت کے عزائم بھی گوادر کے حوالے سے ڈھکے چھپے نہیں۔عرب امارات کا مقصد بحر ہند، بحیرہ احمر اور قرن افریقا میں بحری، تجارتی اور اسٹریٹیجک مفادات کا تحفظ ہے۔ اس لیے ایران کے معاملے پر بھی عرب امارات اور سعودی موقف میں اختلاف ہے۔چند ہفتے پہلے سعودی اور اماراتی تیل ٹینکروں پر سمندر میں مبینہ حملے ہوئے تو سعودی عرب نے فوری الزام ایران پر لگا دیا لیکن عرب امارات نے اس سے نہ صرف گریز کیا بلکہ عرب امارات نے تیل ٹینکروں پر حملے کے بعد اپنا7 رکنی اعلیٰ سطح کا وفد تہران بھیجا جس نے ایرانی حکام سے سمندری راستوں کی حفاظت اور سرحدی معاملات سے متعلق دیگر ایشوز پر بھی بات کی۔عرب امارات کا یمن کے بعد ایران ایشو پر سعودی عرب سے راستے الگ کرنا مشرق وسطیٰ میں بگڑتے اور نئے بنتے اتحادوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایران کے ساتھ کسی بھی تصادم کی صورت میں عرب امارات اپنا دامن صاف بچا لے گا۔دوسری طرف سعودی ولی عہد امریکی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور سعودی مفادات محمد بن سلمان کے اتحادیوں کی وجہ سے داؤ پر لگ چکے ہیں۔متذکرہ بالا حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو مسلم امہ کی عرب ممالک سے توقعات بلاوجہ ہیں کیونکہ عرب ممالک اپنی اپنی معاشی مجبوریوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور معاشی مفادات کو سامنے رکھ کر اپنے تعلقات کو پروان چڑھا رہے اس لئے پاکستان کو بنتے بگڑتے اتحادوں کے درمیان اپنے لیے محفوظ راستہ نکالنا ہوگااور کسی سے توقعات باندھنے کے بجائے اپنی جنگ اپنے وسائل کے بل بوتے پر لڑنی ہوگی،اس تناظر میں وزیراعظم کے قوم سے خطاب میں اس بات کی تحسین کی جانی چاہئے کہ دنیا کشمیر کے معاملے پر ہماراساتھ دے یا نہ دے ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں