Daily Mashriq


حج پالیسی 2018ء کا اعلان

حج پالیسی 2018ء کا اعلان

وفاقی حکومت نے حج پالیسی 2018ء کا اعلان کردیا ہے ، مجموعی طور پر ایک لاکھ 79ہزار سے زائد افراد حج کی سعادت حاصل کر یںگے ، جس میں سرکاری کوٹے کے تحت ایک لاکھ 20ہزار جبکہ پرائیویٹ حج سکیم کے تحت 59ہزار 210مقرر کیا گیا ہے ، 80سال سے زائد عمر کے افراد بغیر قرعہ اندازی حج کی سعادت حاصل کریں گے جبکہ تین بار سرکاری سکیم کے تحت قرعہ اندازی سے رہ جانے والے افراد کیلئے علیحدہ قرعہ اندازی ہوگی۔ حج کا دورانیہ 38روز سے کم کرکے 30دن جبکہ کرایوں کی کمی کیلئے ایر لائنز سے مشاورت کی جائے گی۔ وفاقی وزیر مذہبی اموراور سردار محمد یوسف نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد حج پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حج اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ، جنوبی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کیلئے 2لاکھ 70ہزار روپے ، جبکہ شمالی علاقہ جات والوں کیلئے 2لاکھ 80ہزار روپے ہوں گے۔ جہاں تک نئی حج پالیسی 2018ء کا تعلق ہے اس حوالے سے اخراجات میں کسی اضافہ ہونے کا دعویٰ محل نظر ہے کیونکہ گزشتہ سال کے اخراجات میں حجاج کرام کو سعودی عرب میں 38دن تک قیام کی اجازت تھی اور اگر امسال قیام میں 8دن کی کمی کی جارہی ہے تو اس حوالے سے اصولاً اخراجات میں کمی ہونی چاہیئے اور اگر اخراجات کی مد میں رقم وہی رہتی ہے تو اضافی آٹھ دن (سال گزشتہ ) کے اخراجات کی سرکار کو بچت یقینی ہے اس لئے اس قسم کے اعلانات سے عاز مین حج پر احسان جتانا درست طرز عمل نہیں ہے ۔ اسی طرح رہائش کیلئے عزیزیہ میں سہولتیں حاصل کرنے کے دعوے بھی اطمینان کا باعث یوں نہیں کہ عزیزیہ حرم پاک سے اچھے خاصے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں سے حجاج کرام آسانی سے آجا نہیں سکتے ۔ اس سلسلے میں دیگر ملکوں کی طرح حجاج کو مفت ٹرانسپورٹ کی بھی کوئی نوید نہیں دی گئی ۔ اور اگر حقیقت حال یہی ہے تو پھر حجاج کرام کو ٹرانسپورٹ کیلئے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے یا پھر پیدل کئی کلو میٹر کا راستہ طے کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔ اس ضمن میں قریبی علاقے مصفلاح وغیرہ ہی ہو سکتے ہیں جہاں سے حرم پاک دوڈھائی سو میٹر کی دوری پر ہے۔ ا س سلسلے میں ترکی ، بھارت ، ایران وغیرہ کے عاز مین حج کیلئے ایسے ہی قریبی علاقوں میں اگر رہائش گاہیں حاصل کی جا سکتی ہیں تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا ، اور اگر ایسا کرنا ممکن نہیں تو کم از کم 65سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے خصوصی طور پر مصفلاح وغیرہ کے علاقوں میں رہائش گاہوں کا اہتمام کیا جانا چاہیئے تاکہ یہ سہولت کے ساتھ حرم پاک میں عبادات کرسکیں ، سعودی حکام کے ساتھ اگلے سال فروری میں معاہدہ کرنے سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر وہاں سے اتنے افراد کے حج پر جانے کی اجازت نہ ملی یا دیگر معاملات طے نہ پاسکے تو اس سے پہلے کس برتے پر درخواستیں طلب کی جارہی ہیں ۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پہلے سعودی حکام کے ساتھ تمام معاملات طے کر لئے جاتے اوراسی بندوبست کے تحت اندرون ملک درخواستیں طلب کی جاتیں ۔ جہاں تک ایئر لائنز کے ساتھ کرایوں میں کمی کے حوالے سے مشاورت کا تعلق ہے تو یہ بات اظہر من اشمس ہے اور اس بات کا تذکرہ تقریباً ہر سال ایسے مواقع پر کیا جاتا ہے کہ بھارت جو بنیادی طور پر ایک سیکولر ملک ہے (بلکہ دراصل ہندو دھرم پر عمل پیرا ہے ) وہاں کے عاز مین حج کیلئے ہر سال کرایوں میں نمایا ں کمی کی جاتی ہے جبکہ دیگر سہولیات بھی دی جاتی ہیں ، مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں کرایوں میں اضافہ کیا جاتا ہے ، مفت حج کرانے پر پابندی کا فیصلہ خوش آئند ہے خدا جانے ہمارے ہاں یہ بدعت پہلے کس نے شروع کی جبکہ اس سہولت سے بڑے بڑے جغادری افراد نے بھی بھر پور استفادہ کرتے ہوئے کبھی نہیں سوچا کہ وہ قومی خزانے پر بوجھ بن کر دین کی کیا خدمت کر رہے ہیں ، ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ دیگر کچھ شکایات جو تقریباً ہر سال حجاج کرام واپس آکر کرتے دکھائی دیتے ہیں وہ ایام حج میں میدان عرفات ، مزدلفہ و غیرہ میں قیام کے حوالے سے ہوتی ہیں ۔ محولہ مقامات پر پاکستان حجاج کرام کو عمومی طور پر متعلقہ حکام کی جانب سے نہ تو درست طور پر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں نہ ہی ان کی مدد کرنے کیلئے کوئی سامنے آتا ہے ، اس سلسلے میں گزشتہ سال دوران حج وفاقی وزیر حج کو حجاج کرام نے وہیں پر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا جس کے بعد جن لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیانہیں کی گئی تھی انہیں کچھ رقم واپس کر دی گئی تھی ، جو یقینا ایک اچھا اقدام تھا اور حجاج کرام کی کچھ نہ کچھ داد رسی ہوگئی تھی تاہم بہتر یہ ہوتا کہ حجاج کرام کو مشکل میں گرفتار کروانے کے بجائے انہیں ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ، اسی طرح طبی سہولتوں کے حوالے سے بھی حج میڈیکل وفد کی کارکردگی پر عموماً سوال اٹھتے ہیں جبکہ مقابلتاً ، ترکی ، ایران ، بھارت ، انڈونیشیا وغیرہ کا میڈیکل سٹاف نہ صرف اپنے ہم وطنوں بلکہ پاکستانی حجاج کرام کو بھی طبی سہولیات فراہم کر کے اپنے اپنے ملک کیلئے نیک نامی کا باعث بنتا ہے ، اس لئے میڈیکل سہولتوں کی بہتر فراہمی پر بھی توجہ دینا لازمی ہے تاکہ پاکستانی حجاج کسی کے محتاج نہ رہیں ۔

متعلقہ خبریں