Daily Mashriq


نئی حلقہ بندیاں اور الیکشن ضابطے

نئی حلقہ بندیاں اور الیکشن ضابطے

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیوں کے عمل کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ جاری بیان کے مطابق الیکشن کمیشن نے صوبوں اور محکمہ شماریات سے اضلاع اور تحصیلوں کے نقشہ جات اور بلاکس کے نوٹیفیکیشن کا حصول شروع کر دیا ہے۔ ادھر انتخابات ایکٹ 2017ء کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت کے لئے درکار سخت قانونی تقاضوں کی بدولت سیاسی جماعتیں مشکل میں پھنس گئیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ملک میں حال ہی میں کرائی جانے والی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیوں کا تعین نا گزیر اقدام تھا اور صوبوں کی آبادی کے حوالے سے ملنے والے ڈیٹا کے مطابق ان کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی کا فیصلہ بھی اسی کی کڑی ہے۔ مگر اس سارے عمل سے پہلے نئی مردم شماری کو آئینی تحفظ دلانا بھی ضروری تھا۔ قومی اسمبلی میں تو اس حوالے سے بل پاس ہوگیا تھا تاہم چونکہ نئی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی آبادی میں اضافہ ہوا پنجاب کی آبادی نسبتاً کم ہوگئی تھی جبکہ سندھ کی آبادی میں کوئی فرق ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس لئے اول الذکر دو صوبوں کے لئے پارلیمنٹ کی نشستوں میں اضافہ‘ پنجاب کے لئے کم اور سندھ کے لئے جوں کی توں رکھی گئیں۔ مگر سندھ نے یہ صورتحال قبول نہ کرتے ہوئے پی پی پی نے سینٹ میں مردم شماری بل کی منظوری میں روڑے اٹکائے۔ اس صورتحال نے 2018ء کے انتخابات کو ا لتواء میں ڈالنے کا خطرہ پیدا کیا۔ اور ملک میں ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کی قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں۔ تاہم بالآخر یہ بل منظور کر ہی لیا گیا۔ اس کے بعد اب یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت انتخابات کرانے کے لئے جلد سے جلد اپنا کام مکمل کرتے ہوئے حلقہ بندیوں کے کام کو حتمی صورت دے اور مقام شکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے بہت سا کام پہلے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ہے۔ اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ اس سلسلے میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی اور انتخابات میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کا تعلق ہے اس حوالے سے غالباً پاکستان دنیا کے چند ہی گنے چنے ملکوں میں سے ایک ہے جہاں سیاسی جماعتوں کی تعداد اس قدرزیادہ ہے بلکہ یہاں تو ایسی سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں جنہیں طنزاً تانگہ پارٹیوںکا نام دیا جاتا ہے۔ مگر حیرت اس بات پر ہے کہ ایسی جماعتوں کی رجسٹریشن بھی ہوجاتی ہے یہ الگ بات ہے کہ بعد میں ان جماعتوں کو قانونی تقاضے پورے کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور الیکشن کمیشن انہیں انتخابی سیاست سے باہر نکالنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اصولی طور پر قانونی تقاضے پورے نہ کرسکنے والی جماعتوں کو تب تک رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ دینے سے الیکشن کمیشن صاف انکار کردیا کرے جب تک وہ تمام شرائط پوری نہ کردے۔ اس قسم کی نام نہاد جماعتوں کی تعداد دیکھ کرعوام بھی تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں بلکہ پارلیمنٹ کے ذریعے ملک میں سیاسی جماعتوں کی کم سے کم تعداد مقرر کرنے پر بحث مباحثہ کرکے قانون بنایا جائے اور ہر شخص کو نئی جماعت کے قیام کی اجازت نہ دی جائے تاکہ جمہوریت کا مذاق نہ اڑایا جاسکے۔

سپریم کورٹ کا انتباہ

منشیات کے ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان نے جو ریمارکس دئیے ہیں و نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ فاضل جسٹس نے کہا ہے کہ منشیات فروش ہماری آئندہ نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ اے این ایف نے پشاور کے تعلیمی اداروں میں چھاپوں کے دوران سات سپلائرز پکڑے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نشہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے آنے کے بعد 2001ء تک کابل میں پوست کی کاشت صفر تک آگئی تھی لیکن اب ایک بار پھر سے بڑے پیمانے پر پوست کی کاشت جاری ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایک عرصے سے افغانستان میں غیر ملکی افواج کی جانب اس قسم کے اشارے کئے جا رہے ہیں کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ان افواج نے افغانستان کے پوست پیدا کرنے والے علاقوں میں پوست کی کاشت کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق جن علاقوں پر شدت پسند قابض ہیں وہ بھی اس دھندے میں مبینہ طور پر ملوث ہیں اور پوست کی کاشت سے جو دولت کمائی جاتی ہے اس سے اسلحہ و گولہ بارود خریدا جاتا ہے جبکہ ڈرگ ٹریفکنگ کے لئے پاکستان کے راستوں کو استعمال کیاجاتا ہے۔ یوں یہ زہریلا نشہ ملکی سطح پر بھی دولت کے حصول کے لئے استعمال کیاجاتاہے اور نشہ آور اشیاء ہماری نسل کی بربادی کے لئے جس طرح فروخت کی جا رہی ہیں اس بارے میں سپریم کورٹ کا انتباہ ہمارے لئے قابل توجہ ہونا چاہئے تاکہ ہم نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ کرسکیں۔

متعلقہ خبریں