Daily Mashriq


کلبھوشن کی پر ما تھ

کلبھوشن کی پر ما تھ

جو نا تھن نا م تا ریخ میں ایک اہمحیثیت اختیا ر کر گیا ہے کہ جو نا تھن بحری جہا ز کا نام تھا اور دوسرا ایک اسرائیلی جا سو س تھا ۔ جو نا تھن بحری جہاز کی تاریخ جد ا نو عیت کی ہے کہ اس کو کراچی کی بند ر گا ہ پر سیاسی انتقام کی بنیا د پر روکے رکھا مگر امریکا میں جو نا تھن نا می شخص اسرائیل کے لیے جاسوسی کر نے کے جر م میں قید کاٹتا رہا ۔ دنیا یہ تصور نہیں کر سکتی تھی کہ اسرائیل جس کی ہر مقام پر امریکا پشتبانی کر تا ہے اور اس کے لیے نا جائز حربے بھی استعمال کرتا ہے اسرائیل بھی اپنے اس دلربا ملک کی جا سو سی کا ارتکا ب کرے گا۔ سزا کے بعد اس کے ساتھ کیا سلو ک کیا گیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے ۔ جوناتھن بیک وقت امریکی اور اسرائیلی شہریت کا حامل تھا۔ اس نے امریکا میںنہ تو کسی امریکی فوجی نہ ہی کسی شہر ی کا قتل کیا تھا نہ کسی دہشت گرد ی کے واقعہ میں ملو ث تھا اس نے امریکا کے خفیہ ڈاکومنٹس اسرائیل کو فراہم کیے تھے تاہم اس نے اپنے جر م کا اعتراف عدالت میں کیا اور اسرائیل نے بھی تسلم کیا کہ جو نا تھن اسرائیل کے لیے کام کرتا ہے ، جس کے بعد اسرائیل نے خاموش سفارت کا ری کے ذریعے کاوش کی کہ امریکا جو نا تھن کو رہا کر دے مگر اس میں ناکامی ہو ئی۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے جیل جا کر جو نا تھن سے ملاقات کی اس مو قع پر کوئی رعایت نہیں دی گئی íجو ن 2011ء میں اسرائیلی پارلیمنٹ کے ستر ارکا ن نے مشترکہ درخواست امریکی صدر کو بھجوائی کہ جو نا تھن کا با پ بیما ر ہے اس کو ملا قات کی اجا زت دی جائے مگر سابق صدر اوباما نے اس درخواست کو رد کر دیا یعنی امریکا نے اپنے لا ڈلے اسرائیل جس کی خوشنودی کے لیے یر وشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے خود کو دنیا میں تنہا کر نے کا سودا بھی کیا اس نے امریکا کے خلا ف جاسوسی کرنے والے کو نہیں بخشا اور ہر درخواست اورہر کو شش مستر د کر دی۔ اب بھارتی جو نا تھن کا حال دیکھتے ہیں وہ بھی حاضر سروس سینئر افسر ہے اور اس کا اصلی نا م کلبھوشن یا دیو ہے جو مبارک حسین پٹیل کے نا م سے حاصل کر دہ جعلی پا سپو رٹ کے ذریعے پا کستان میں داخل ہو ا تھا بلوچستان کے مقام ما شکیل میں پکڑ ا گیا۔ اپنی گرفتاری کے بعد ہی عام پو چھ تاچھ پر ہی سب کچھ خود ہی اگل دیا۔ کلبھو شن نے اعتراف جر م کیا اور اس اعتراف جرم سے یہ ثابت ہو ا کہ وہ جا سوس ہی نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا دہشت گر د بھی تھا جو پاکستان کے استحکام کو متزلزل کرنے کے منصوبو ں پر کا م کررہا تھا اور دہشت گردوں کو نہ صرف پیسہ فراہم کرتا تھا بلکہ ان کودہشت گر دی کی تربیت بھی دیتا تھا جس سے بلو چستا ن میں دہشت گردی کی متعد د وراداتیں بھی ہوئیں ، جا سو س تو وہ ہو تا جو کسی ملک کے راز چوری کر ے ۔کلبھو شن نے پاکستان کے راز چوری نہیں کیے اور دہشت گردی میں وہ ذاتی طورپر ملو ث نہیں تھا کیو ں کہ وہ حاضر سروس فوجی افسر ہے اور 2022 میں ریٹائر ہو گا ، اس نے اپنی ما ں اور بیو ی سے ملا قات کے دوران یہ ہی کہا ہے کہ وہ حاضر سروس ہے اس لیے بھارت کی حکومت کا فر ض ہے کہ اس کے بچاؤ کے لیے اقدامات کر ے۔ ظاہر ہے کہ کلبھوشن سی پیک منصوبے کو سبو تاژ کرنے خود پاکستان میں وارد نہیں ہو ا ہو گا اس کو سرکا ری پشت پناہی ہوگی ، حیر ت ہے کہ پاکستانی میڈیا بھی ایک دہشت گرد اور تخریب کا رکو جس نے تخریب کا ری کے منصوبو ں پر عمل کے لیے اعتراف بھی کیا ہے اس کو بھارتی جا سو س کے نام سے مو سوم کر رکھا ہے ۔ جوناتھن کی مثال موجو د ہے کہ امریکا نے ایک جا سوس کو کسی قسم کی مر اعات نہیں دیں لیکن پاکستان نے کلبھوشن کو بلا وجہ مراعات سے نو ا ز ا ہو ا ہے جبکہ وہ اپنے جر م کی پا داش میں سزائے موت کا مستحق قرا ر پاچکا ہے ۔ اس وقت عالمی عدالت میںاس کا مقدمہ چل رہا ہے عالمی عدالت نے گزشتہ ستر سال سے کسی مجر م کو سز ائے مو ت نہیں دی ہے اس لیے گما ن ہے کہ کلبھوشن کو بھی سزائے مو ت نہ ہو سکے گی۔کلبھو شن سے ملا قات کے لیے اس کے والدین کی طر ف سے درخواست کی گئی تھی جو پا کستان نے منظور کر لی۔ پھر بھارت نے ا س کی اہلیہ کے لیے بھی ملا قات کا کہا پاکستان نے اس کی بھی منظوری دے دی بعدازاں بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ ملا قات کے دوران ان کا ایک افسربھی مو جو د ہو گا پا کستان نے یہ رعایت بھی عنایت کر دی لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت کردی کہ سفارت کا ر صرف کلبھوشن کو دیکھ سکے گا اس سے ملا قات یا بات چیت کی اجازت نہیں ہو گی ۔ بھارت کو گما ن تھا کہ وہ اس ملا قات کے ذریعے کلبھوشن کو بے قصور اورمظلو م قرار دینے اور پاکستان کے خلا ف عالمی راے عامہ کو ہمو ار کر نے میںکا میا ب ہو جائے گا مگر الٹی پڑ گئیں سب تدبیر یں اب بھارتی حکام اور میڈیا دانت پیس رہے ہیں کہ کلبھو شن کی والدہ اور بیوی سے کپڑ ے اتر وائے گئے۔ امریکا جانے والے بھارتیوں کو تلا شی کے نا م پر ننگا کیا جا تا ہے اس پر تو بھارت ہا ہا کار نہیں مچا تا مگر پاکستان نے کپڑ ے نہیں اتر وائے بلکہ کپڑ ے سیکو رٹی کے پیش نظر تبدیل کر ائے کیو ں کہ انہو ں نے پاکستان پہنچ کر بھارتی سفارت خانے جا کر حلیہ تبدیل کیا تھا جس میں جو تیا ں بھی شامل تھیں جو غیر معمولی طور پر اونچی ایڑی کی تھیں اور وہ ان کو پہن کر باآسانی چل بھی نہیں پا رہی تھیں۔ ان کو نئی جو تیا ں فراہم کی گئیں جب ان جو تیو ںکا جائزہ لیا گیا تو اس میں میٹل پلیٹ پائی گئی جس کا تجزیہ کیا جارہا ہے کہ وہ کیا ہے کوئی چپ تو نہیں کیو ں کہ یہ اطلا عات بھی تھیں کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کلبھوشن کو پیغام پہنچانے کی سعی کی جا رہی ہے ، یہ بھی اطلا ع تھی کہ اس کو پاکستان کی قید میں کسی طور مار دیا جا ئے اور اس طرح عالمی سطح پر پاکستان کے لیے کام تلاش کر لیا جا ئے ۔ اب بھارت کو چاہیے کہ وہ اسرائیلی جا سو س جو نا تھن سے اپنے دہشت گرد کلبھو شن کو ملنے والی مراعات اور سہو لیات کا تقابل کر لے کہ پاکستان انسانی بنیا د پر رحم کر نے پر کس قدر فراخ دل ہے ۔ اس ملا قات سے دنیا بھر میں پا کستان کی مدح سرائی ہو ئی ہے اور بھارتی پروپیگنڈے کا ناطقہ بند ہو ا ہے ۔

متعلقہ خبریں