Daily Mashriq


طلبہ یونین کی بحالی، ایک مذاکرہ

طلبہ یونین کی بحالی، ایک مذاکرہ

طلبہ یونین کی تاریخ زیادہ قدیم نہیں۔ بر صغیر میں اس حوالے سے آگاہی انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کی ابتداء میں ہوئی۔ میرے خیال میں متحدہ ہندوستان میں طلبہ یونین کی شروعات 1929ء میں ہوئی اور یہ وہ زمانہ تھا جب کمیونزم عروج پر تھا اور کارل مارکس اور فریڈرک اینجل کے اشتراکی نظریات کے تحت روس میں اشتراکی انقلاب برپا ہوچکا تھا۔چونکہ اشتراکی انقلاب بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھا‘ اس لئے مزدور طبقہ کو سرمایہ داروں‘ جاگیر داروں اور کارخانہ داروں کے خلاف اکٹھا کرکے یہ خیالی جنت دکھائی گئی کہ اشتراکی انقلاب میں سب کچھ مزدور کے ہاتھوں میں ہوگا۔ اس نعرہ میں بہت کشش اور طاقت تھی لوگ اس کی طرف کھینچے چلے آئے اور جہاں کہیں عہد کہن نظر آیا اس کو مٹانے اور اپنی دانست میں اپنے حقوق کی بازیابی بزور بازو کے لئے مجتمع ہو کر گلی کوچوں میں حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے نکل پڑے اور یوں سرمایہ دارانہ نظام اور دنیا کے مقابلے میں ایک نئی دنیا آباد ہوئی جسے اشتراکی /مارکسی دنیا کے نام سے جانا گیا۔ اسی نظام کے تحت سارے حکومتی اداروں اور صنعتوں اور کارخانوں میں یونین سازی ہوئی اور یہ یونین اپنے اپنے دائرہ کار میں لوگوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے حکومتی کارپردازوں کے ساتھ مکالمہ و گفتگو اور احتجاج و ہڑتال کے ذریعے کام کرتے تھے۔اسی تسلسل میں تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ یونین وجود میں آئے۔ پاکستان میں طلبہ یونین کی بنیاد 1959 کے لگ بھگ پڑ گئی لیکن اس کی جڑیں اور پاکستان میں طلبہ یونین کے لئے جواز کی بنیادیں تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے شانہ بشانہ کام کرنے والے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں تلاش کرتے ہیں۔ پاکستان میں طلبہ یونین کو شہرت اور طاقت اس وقت ملی جب جنرل ایوب خان کے خلاف طلبہ احتجاج نے زور پکڑا ۔ ایوب خان کے خلاف احتجاج کی بنیادیں پیپلز پارٹی کے قیام کے ساتھ پڑ گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف طلبہ کی احتجاجی تحریک کی قوت کو بخوبی بھانپ لیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سوشلسٹ لیڈر ہونے کے سبب انہوں نے اشتراکی فکر و تحریک اور مائوسٹ فکر اور انقلاب کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور ان تحریکوں کے پیچھے طلبہ اور مزدور یونینز کی طاقت کا بھی اندازہ ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو آپ نے 1972ء میں پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی جو دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ یونین کی اولین فیڈریشن میں شمار ہونے لگی۔ اس میں شک نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں طلبہ تنظیموں اور یونینز نے بہت اہمیت اور طاقت حاصل کرلی اور یہ تنظیمیں سیاسی جماعتوں کے لئے کارکنوں اور ووٹروں کی حیثیت سے ان ے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کرتی چلی گئیں۔طلبہ یونینز کے درمیان نظریاتی و سیاسی اختلافات اور مادی مفادات کے حصول نے ان کے درمیان تعلیمی اداروں میں رقابتیں اور چپقلشیں پروان چڑھائیں۔ 

سیاسی جماعتوں نے طلبہ تنظیموں کا استعمال اپنے مقاصد کے لئے بھی کیا اور اپنی حریف جماعتوں کے خلاف بھی استعمال کیا جس کا نتیجہ تعلیمی اداروں میں اختلافات‘ احتجاج‘ بائیکاٹ اور ہڑتالوں کی صورت میں نکلنے لگا۔ اور ایک دن وہ بھی آیا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کے درمیان اسلحہ کا استعمال ہوا اور طلبہ کا خون بہنے لگا۔ نوبت یہاں تک کیسے اور کیوں پہنچی۔ بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے بھی سیاسی جماعتوں اور اس وقت کی حکومت کا ہاتھ تھا‘ واللہ اعلم۔ لیکن بہر حال نزلہ طلبہ یونینز پر سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا دور اور 1984ء کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں دو باتیں سامنے آئیں ایک یہ کہ تعلیمی اداروں میں امن کے قیام اور تعلیمی ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لئے طلبہ یونینز پر پابندی لگائی گئی اور دوسری بات سازشی تھیوری تھی کہ امریکہ نے ضیاء الحق کو ایف سولہ طیارے دئیے تو بدلے میں پاکستان میں گراس روٹ جمہوریت کو روکنے کے لئے طلبہ یونینز پر پابندی لگوائی۔ بہر حال حقیقت جو بھی تھی وہ دن اورآج کا دن طلبہ یونینز پر پابندی لگ گئی۔ اگرچہ پابندی کے باوجود پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بڑی بڑی طلبہ تنظیمیں بالخصوص پی ایس ایف‘ جمعیت اور پختون سٹوڈنٹس وغیرہ کسی نہ کسی طرح اپنی سرگرمیاں اپنے وجود کے اظہار و اثبات کے لئے جاری رکھی ہوئی ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی ان کی سرپرستی کرتی آرہی ہیں۔پچھلے دنوں جب سینٹ کے چیئر مین نے طلبہ یونینز کی بحالی کے لئے سینٹ میں آواز اٹھائی تو ایک دفعہ پھر طلبہ تنظیموں نے اس کی بحالی کے لئے پروگرامات کا انعقاد کرانا شروع کیا۔ اس تناظرمیں پچھلے ہفتے اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ نے ’’ طلبہ یونینز اور تعلیمی ادارے‘‘ کے عنوان سے ایک مباحثے کا انعقاد کیا جس میں متعدد طلبہ یونینز کے لیڈروں اور سیاسی رہنمائوں نے شرکت کی۔ سب نے تنگ دامنیٔ وقت کے باوجود کھل کر اپنے خیالات کااظہار کیا۔

متعلقہ خبریں