Daily Mashriq


الیکشن سے قبل آخری سپیل

الیکشن سے قبل آخری سپیل

لیبارٹری میںتجربات کے دوران کسی عمل کو تیزی عطاکرنے کے لیے عمل انگیز یا کیٹالسٹ کے طور پر کسی کیمیکل کو ڈالنے سے وہ عمل پوری تیزی کے ساتھ مکمل ہوجاتا ہے ۔ اسی قسم کے عمل انگیز سیاست کی لیبارٹریوں میں بھی ڈالے جاتے ہیں کہ جن سے سیاسی عمل تیزی اختیار کرلیتا ہے۔علا مہ طاہرالقادری جب بھی پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں تو سیاست کا کیمیائی عمل تیز ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔اس وقت ان کا آصف علی زرداری کے ساتھ بیٹھنا سیاست کے کسی کیمیائی عمل کا تاثر دے رہا ہے ۔ پاکستانی سیاسی منظر نامے میں اگرچہ سابق وزیراعظم میان نواز شریف اپنی موجودگی ظاہر کررہے ہیں لیکن عملی طور پر ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ ہونے کے باوجود عملی سیاست سے دور ہوچکے ہیں ۔ نون لیگ مخالف پارٹیوں کے لیے یقینا میاں صاحب کی سیاست سے نااہلی ایوان اقتدار میں داخلے کی امید ہوسکتی ہے ۔ لیکن میاںنواز شریف نے میاں شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم کے لیے موزوں امیدوار قراردینے کاجو آخری کارڈ کھیلا ہے وہ نون لیگ مخاف پارٹیوں کے لیے ایک نئے محاذ کو کھولنے کے مترادف ہے ۔ گویا نون لیگ کا اپنا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہونے والا ہے ۔ بڑے میاں صاحب کی جگہ چھوٹے میاں صاحب اپنی نئی ٹیم کے ساتھ میدان میں اتریں گے ۔جس سے ظاہر ہے میاں نواز شریف کے بہت سے اہم پلئیر ٹیم سے باہر دکھائی دیں گے ۔ ایک اچھی حکمت عملی کے تحت ، تحریک انصاف نے میاں نواز شریف کو ہی ٹارگٹ بنائے رکھا اور اس میں کامیاب بھی ہوئے جبکہ اس عرصے میںمیاں شہباز شریف پی ٹی آئی کی رینج سے باہر ہی رہے ۔ اب جبکہ نون لیگ کی سیاسی قیادت میں ممکنہ تبدیلی دیکھی جاسکتی ہیں تو پی ٹی آئی بھی آئندہ انتخابات میں شہباز شریف کو آؤٹ کر کے واک اوور کاضرور سوچ رہی ہوگی ۔ اسی لیے موجودہ سیاسی صورتحال میںعلامہ طاہر القادری کی اہمیت بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے پہلی بار علامہ طاہر القادری سے ہاتھ ملایا ہے ۔ جبکہ اگلے روز عمران خان نے بھی کہہ دیاہے کہ’’ انسانی مسئلے ‘‘پر زرداری کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار ہیں ۔ ظاہر ہے کہ وہ انسانی مسئلہ ماڈل ٹاؤن کے واقعے کو قرار دے رہے ہیں ۔ اب اگر اس ’’انسانی مسئلے ‘‘ پر عمران خان اور آصف علی زرداری ، علامہ کا ساتھ دینے پر ایک پیج پر آجاتے ہیں تو یقینا نون لیگ اور بالخصوص شہباز شریف کے لیے یہ انسانیمسئلہ واقعی مسئلہ بن سکتا ہے ۔اس حوالے سے آصف زرداری کو تو عمران خان کے ساتھ بیٹھنے سے شاید کوئیمسئلہ نہ ہو کیونکہ ان کا تو یہ ٹریک ریکارڈ رہا ہے کہ وہ سیاسی مخالفین سے بخوشی ہاتھ ملالیتے ہیں اسی حکمت عملی پر چلتے ہوئے انہوں نے پانچ سال صدارت کی تھی ،لیکن خود خان صاحب کو ضرور طعنے سننے کو مل سکتے ہیں کہ ماضی میںوہ آصف زرداری کے حوالے سے سخت زبان استعمال کرچکے ہیں اب انہی کے ساتھ بیٹھنے پر مخالفین کو تنقید کرنے کا ایک نیا موقع ضرور مل جائے گا۔ اگرچہ سیاست میں یہ سب باتیں چلتی رہتی ہیں یہاں دوستی اور دشمنی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے ۔ اس ساری صورتحال میں دیکھا جائے تو دونوں پارٹیوںکو فائدہ ہی پہنچے گا ۔ پی پی پی اچھے برے وقتوں میں بھی سندھ سے اپنا ووٹ نکال لیتی ہے لیکن جب بھی اس پارٹی نے پنجاب سے سیٹیں نکالی ہیں اسے مرکز میں حکومت ملی ہے ۔ ماڈل ٹاؤن کی چنگاری میں اگر یہ دونوں پارٹیاں آگ بھڑکانے میں کامیاب ہوجاتی ہیںتو اس سے شہبازشریف ہی متاثر ہوں گے ۔ جس سے پنجاب میں ویکیوم پیدا ہوسکتا ہے کہ جس سے پیپلز پارٹی فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔ جبکہ پی ٹی آئی یہ سوچ رہی ہوگی کہ گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار دوسرے نمبروں پر آئے تھے اب کے پہلے نمبر پر آسکنے کی امید پیدا ہوسکتی ہے ۔ نون لیگ کے خلاف اپوزیشن کا یہ سپیل بہت زیادہ جارحانہ ہوسکتا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ الیکشن میں وقت کم ہے، دوسرا اس بارپی ٹی آئی اکیلی نہیں ہوگی بلکہ ساتھ پیپلز پارٹی بھی شامل ہوگی ۔ اور اب پیپلز پارٹی کے سر پر ڈاکٹر عاصم اور ایان علی جیسے کیسوں کی تلوار بھی نہیں لٹک رہی ۔ تیسر ی بات یہ کہ پیپلز پارٹی کی بقاء کے لیے اگلا الیکشن بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ اس لیے اسے جیسے بھی اتحاد میسر ہو ، ضرورکرے گی تاکہ اس کا جیالا سیاسی میدان میں بھرپور طریقے سے انوالو ہوسکے۔اس نئے اتحاد سے البتہ ایم ایم اے کے اتحاد کو ضرور کنفیوژن ہوگی ۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام نون لیگ کے حوالے سے اپنی واضح پوزیشن رکھتی ہیں ۔ ان دونوں پارٹیوں کی یہ پوزیشن ان کے پارٹی اتحاد کو ایک ساتھ کیسے چلا پائے گی اس کا جواب بھی اگلے دنوں میں آجائے گا۔ اب دیکھنایہ ہے کہ نون لیگ مخالف قوتیں کس انداز میں ماڈل ٹاؤن کے واقعے کو دوبارہ زندہ کرسکتی ہیں اور خود نون لیگ اس حوالے سے کیا پیش بندی کررہی ہوگی ۔ نون لیگ کو سب سے زیادہ اس بات کا سوچنا ہوگا کہ اس کی کون سی ٹیم مخالفین کا جواب دے گی ۔ کیونکہ پانامہ کیس میں سب سے زیادہ نقصان نون لیگ والوں کے جذباتی بیانات نے پہنچایا تھا ۔میڈیا والوں کو بھی ایک نئے سیاسی ’’ملاکھڑے ‘‘ کو کور کرنے کا نیا موقع مل جائے گا ۔ عوام تو ہے ہی تماش بین سو اسے ایک نیا تماشہ دیکھنے کو مل جائے گا ۔ دیکھتے ہیں سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ ماڈل ٹاؤن کو بنیاد بنا کر یہ نیا سیاسی سپیل آئندہ دنوں میں بڑی اہمیت حاصل کرلے گا ۔

متعلقہ خبریں