Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت حبیب عجمی ؒ مشہور ولی گزرے ہیں ۔ تو بہ سے پہلے بڑے مالدار تھے اور اپنا مال سود پر اہل بصرہ کو دیا کرتے تھے ۔ ایک روز اپنے مال کی طلب کے لئے ایک گھر میں گئے وہ قرض دار گھر میں نہ تھا ، اس کی بیوی نے کہا کہ میرا خاوند گھر میںنہیں اور میرے پاس کچھ نہیں ۔ ہاں میں نے آج ایک بھیڑ ذبح کی تھی ، اس کی گردن میرے پاس ہے ، اگر آپ چاہیں تو وہ لے جائیں ۔ حبیب نے کہا اچھا دے دو ۔ وہ سری لے کر اپنے گھر آئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ سری سود میں آئی ہے ، اسے پکائو ۔ بیوی نے کہا روٹیاں اور لکڑ یاں نہیں ہیں ۔ حبیب نے کہا میں ابھی جا کر سود میں روٹیاں اور لکڑیاں لے کر آتا ہوں ۔ بیوی نے ہانڈی چڑھائی ، جب ہانڈی پک گئی تو چاہا کہ پیالے میں نکالے کہ ایک سائل نے دروازے پر آکر سوال کیا اور راہ خدامیں کچھ مانگا ۔ حبیب کہنے لگے : واپس جائو ، اس لئے کہ تجھے جو کچھ ہم دیں گے تو اس سے امیر نہ ہو جائے گا ۔ مگر ہم فقیر ہو جائیں گے ۔ سائل لوٹ گیا ۔ حبیب کی بیوی نے جو ڈوئی ہانڈی میں ڈالی تو کیا دیکھتی ہے کہ اس میں سب خون ہی خون ہے ۔ اپنے خاوند کو بلایا اور دکھا کر کہنے لگی کہ دیکھئے ، یہ آپ کی بد بختی سے کیا ہوگیا ۔ حبیب نے جب یہ حال دیکھا تو دل پر ایک ایسا اثر ہوا کہ دل کی حالت بدل گئی اور کہنے لگے اے میری بیوی تو گواہ رہ کہ میں نے آج ہر برے کام سے توبہ کر لی ، پھر آپ باہر نکلے تاکہ قرض داروں کو تلاش کر کے اپنامال وزر ان سے واپس لیں اور پھر سود پر نہ چلائیں ۔ جمعہ کا دن تھا لڑکے کھیل رہے تھے ، ان لڑکوں نے جب حبیب کو دیکھا تو کہنے لگے دیکھو سود خور آرہا ہے ، الگ ہو جائو ، ایسا نہ ہو کہ اس کے پائوں کی گرد ہم پر پڑے اورہم بھی اسی طرح بد بخت ہو جائیں ۔ جب یہ آواز حبیب کے کانوں تک پہنچی تو بڑے رنجیدہ ہوئے اور سیدھے حضرت حسن بصری ؒ کی مجلس میں پہنچے ۔ حضرت حسن ؒ نے ان کو کچھ پند ونصائح بیان کیں تو حبیب کی کایا پلٹ گئی اور جب وہاں سے نکلے تو خدا کے محبوب بن کر نکلے ۔ واپس آتے ہوئے آپ کا ایک مقروض آپ کو دیکھ کر بھاگا تو آپ نے اسے آواز دی اور فرمایا بھائی اب تو مجھ سے نہ بھاگ ۔ اب مجھے تجھ سے بھاگنا چاہیئے ۔ یہ کہا اور گھر کی طرف لوٹے ۔ راستے میں پھر وہی لڑکے کھیلتے ملے تو انہوں نے جب حضرت حبیب کو دیکھا تو آپس میں کہنے لگے کہ الگ ہو جائو ، حبیب تو بہ کر کے آرہا ہے ۔ اب ہماری گر دس پر پڑگئی تو ایسا نہ ہو کہ ہم گنہگار ہو جائیں ۔

حضرت حبیب نے یہ جملہ سنا تو کہنے لگے اے رب غفور ! عجب تیری رحمت ہے کہ اس ایک روز میں جو تجھ سے صلح کی تو اس کا اثر مخلوق کے دل میں پہنچا دیا اور میری نیک نامی مشہور فرمادی ۔ پھر آپ نے آواز دی کہ جس نے حبیب کا کچھ دینا ہو ، وہ آئے اور اپنی دستاویز واپس لے جائے ۔ یہ آواز سن کر سب مقروض جمع ہوگئے اور آپ نے جو مال جمع کیا تھا ، وہ لوگوں میں بانٹ دیا ، یہاں تک کہ آپ کے پاس کچھ باقی نہ رہا ۔ (تذکرہ اولیاء ص59)

متعلقہ خبریں