Daily Mashriq

خوراک کے نام پر زہر خورانی کی مکمل روک تھام کی ضرورت

خوراک کے نام پر زہر خورانی کی مکمل روک تھام کی ضرورت

کے نام پر ہم کیا کر رہے ہیں یہ خود ہم کو بھی نہیں معلوم، خوراک سے صحت وتوانائی کا اب تصور مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ توانائی اور صحت کی بجائے بات صرف پیٹ بھرنے تک بھی نہیں بلکہ بدقسمتی سے ہم خوراک کے نام پر غذا کی بجائے زہر کھا رہے ہیں لیکن اس کا چند ایک کے سوا شاید ہی کسی کو ادراک ہو۔ اس سے بڑھ کر تشویش کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اب ہمیں قدرتی خوراک اور غذا میسر نہیں۔ سبزی عام آدمی کی خوراک ہے لیکن اب کئی اعتبار سے سبزیاں بھی زہر آلود اور مضر صحت ہوگئی ہیں۔ سبزیوں پر جراثیم کش سپرے کے اثرات باقی رہتے ہیں، مصنوعی کھاد سے سبزیوں کی نشو ونما تو ہوتی ہے لیکن قدرتی غذائیت متاثر ہوتی ہے۔ سبزیاں صاف پانی کے کھیت کی ہوں تو ان کو بازار میں لانے سے قبل آلودہ پانی سے دھو کر گندہ بنا دیا جاتا ہے۔ اب تو گندے اور نکاسی کے پانی سے سبزیوں کو پانی دینے، کارخانوں میں استعمال شدہ پانی سے سبزیاں سیراب کرنے کا خطرناک عمل سبزیوں کو بھی زہرآلود اور مضر صحت بنا دینے کا باعث بن رہا ہے۔ پولٹری کی صنعت کو فروغ دینے کے نام پر جو برائلر چکن ہر گھرانے اور خاص طور پر بچوں کی من پسند غذا بن گئی ہے چالیس دن میں فروخت کے قابل بنانے اور زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لالچ میں فارمی چوزوں کو ایسی غذا دی جا رہی ہے جس پر شرعی حوالے سے بھی اعتراضات اٹھتے ہیں اور اس کے مضر صحت ہونے کے حوالے سے پوری طرح اتفاق ہے۔ بچے پروسسڈ فوڈ کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ نوڈلز سے لیکر مضر صحت تیل میں حفظان صحت کے اصولوں کے سراسر منافی ماحول میں تیار کئے جانے والے چپس اور اس جیسی دیگر اشیاء نہ تو غذائیت بخش ہیں اور نہ ہی صحت بخش بلکہ اُلٹا مضر صحت اور بچوں کی نشو ونما روک دینے اور ہارمونز کے توازن کو بگاڑنے کا باعث ہیں۔ ستم بالائے ستم دودھ کیمیکل سے بنا ہوا اور گوشت انجکشن لگا کر پانی بھر کر گائے بھینسوں کو انجکشن لگا لگا کر مصنوعی طریقے سے دودھ حاصل کرکے پھر اس دودھ میں بھی ملاوٹ کرکے اور پانی ملا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے حالات اور صورتحال میں خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی اگر دو چار ریسٹورنٹس پر چھاپہ مارنے کو کافی سمجھتی ہے تو کیا کہا جاسکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو فوڈ اتھارٹی نے ابتداء میں جس قسم کی فعال کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور شہر کے معروف ریسٹورنٹس کے کچن کا معائنہ کرکے صارفین کو ان کا اصل چہرہ دکھایا تھا اگر اس قسم کی بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہتیں تو بھی اس کی کارکردگی کو معقول قرار دیا جاسکتا تھا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور اور صوبے کے بڑے شہروں میں اگر دیکھا جائے تو زرعی اراضی اور باغات کی جگہ آبادی اُگ رہی ہے۔ عمارتیں کھڑی ہو رہی ہیں‘ کاشت کی زمین اور باغات کا رقبہ گھٹ رہا ہے۔ آبادی ہی نہیں بڑھ رہی ہے بلکہ آلودگی‘ کثافت اور غلاظت میں بھی اسی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ساری صورتحال ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اور پیوست ہے۔ اس ساری صورتحال کا مفصل جائزہ لینے اور اصلاح احوال اور اصلاح عمل کیلئے جس قسم کی مربوط کوششوں کی ضرورت ہے اس میں صرف حکومت اور حکومتی ادارے ہی نہیں عوام کا بھی بڑا کردار وحصہ ہونا چاہئے۔ حکومت کو جہاں مضرصحت اشیاء کی فروخت کی روک تھام کی ذمہ داری نبھانی چاہئے وہاںیہ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم مضر صحت مرغیاں‘ کولڈ ڈرنکس اور اس قسم کی دیگر مشروبات اور اشیائے خوردنی سے خود کو اور اپنے گھر والوں کو محفوظ رکھنے کی سعی کریں۔ اگرچہ متبادل خوراک کا معاملہ بھی کچھ آسان نہیں لیکن بہرحال بڑی حد تک ممکن ضرور ہے۔ اگر ہم من حیث القوم اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ کونسی اشیاء ومشروبات کا استعمال ترک کرنا ہے اور اس پر قائم رہیں تو ان کی پیداوار پر لازمی اثر پڑے گا اور یہ کاروبار ترقی کرنے کی بجائے زوال پذیر ہوں گے۔ ایسا کرنے کے بعد ہی ہمیں متبادل خوراک اور مشروبات کی طلب ہوگی جس کی پیداوار پر سرمایہ کاری فطری امر ہوگا۔ جب تک ہم عوام اپنی صحت کا آپ خیال رکھنے کا رویہ اختیار نہ کریں اور صرف حکومت اور حکومتی اداروں کو ذمہ دار ٹھہراتے رہیں تو یہ مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوں گے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مختلف اداروں خاص طور پر فوڈ اتھارٹی‘ صحت اور تعلیم سے متعلق اس قسم کے اداروں کے دفاتر کا دورہ کرکے صورتحال سے براہ راست آگاہی اور متعلقہ حکام کی گزارشات سن کر اس کے مطابق مفاد عامہ کیلئے جہاں ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہو وہ اور جہاں تنبیہہ وتنقیح ضروری ہو وہاں سختی کا مظاہرہ کرکے بہتری اور تبدیلی کی سعی کریں گے۔ اس قسم کے اقدامات سے ہی اصلاح کا راستہ سہل اور مخالف راستوں کی بندش ممکن ہوگی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ خیبر پختونخوا میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کردہ اشیائے خوردنی اور مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانے اور مضرصحت اشیاء کی فروخت کی مکمل روک تھام کے ضمن میں جلد سنجیدہ اور نظر آنے والے اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں