Daily Mashriq

دو ملاؤں میں مرغی حرام والا معاملہ

دو ملاؤں میں مرغی حرام والا معاملہ

خیبر پختونخوا کے مجوزہ نئے بلدیاتی نظام میں ماتحت محکموں کے معاملے پر محکمہ صحت اور محکمہ بلدیات میں کھینچاتانی کا بالآخر فیصلہ صوبائی حکومت نے ہی کرنا ہے۔ دونوں محکموں کے درمیان اگر ابھی سے کھینچاتانی کا سلسلہ شروع ہو تو آگے جا کر ان کے نتائج مثبت نہیں نکل سکتے۔ محکمہ صحت کی جانب سے سیکرٹری بلدیات کو ارسال کئے گئے مراسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ ساڑھے تین سال تک مقامی حکومتوں کے ماتحت محکمہ صحت کو لانے سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئے ہیں۔ ہر ضلع میں مقامی حکومتیں محکمہ صحت کو ترقیاتی اور جاری اخراجات کی مد میں فنڈز کی فراہمی میں تین سے 6ماہ تک تاخیر معمول بن گئی ہے جو شہریوں کو خدمات کی فراہمی میں مشکلات پیدا کررہی ہیں۔ دریں اثناء خیبر پختونخوا میں بنیادی صحت مراکز کو دوبارہ پی پی ایچ آئی یعنی پیپلز ہیلتھ کیئر انشی ایٹو کے حوالے کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں محکمہ صحت کی جانب سے مخالفت کرتے ہوئے اس منصوبے کو صحت کا نظام مزید خراب کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی پی ایچ آئی کے زیر انتظام صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں بنیادی صحت مراکز چل رہے تھے لیکن گزشتہ برس یہ انتظام واپس لیا گیا اور اس کی روشنی میں محکمہ صحت نے پی پی ایچ آئی کے تمام سٹاف کو ملازمت پر مستقل کیا جبکہ ہسپتال متعلقہ ڈی ایچ اوز کے سپرد کئے گئے تاہم محکمہ صحت کے بعض حلقوں کی جانب سے پی پی ایچ آئی کیساتھ بنیادی صحت مراکز کی حوالگی کا معاہدہ دوبارہ کرانے کی کوشش شروع کردی گئی ہے۔ محولہ صورتحال میں ان تجاوزیز واقدامات کے نافع یا غیرنافع ہونے سے قطع نظر غیر واضح معاملات‘ تجاویز اور تجربات کے باعث سرکاری اداروں کے درمیان روابط کا مربوط ہونے کی بجائے نامربوط اور اختلافات کا شکار ہو جانا کوئی نیک شگون نہیں اس سے سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوگا جو اپنے مسائل کے حوالے سے پہلے ہی سے مشکلات کا شکار ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ صوبے میں گزشتہ دور حکومت سے اب تک بار بار کے تجربات کئے جا رہے ہیں جس سے اچھا خاصا نظام بگڑ رہا ہے اور عدم توازن کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے چونکہ اس قسم کے فیصلے اولاً فی الفور ممکن نہیں اور دوم اگر اتفاق رائے اور مفاہمت سے فیصلے نہ ہوں تو دو ملاؤں میں مرغی حرام والی صورتحال کا خطرہ ہے بلکہ اس کا کئی جگہوں پر تجربہ بھی ہو چکاہے۔ ہمارے تئیں اضلاع کی سطح پر جواب دہی اور سرکاری افسران اور عملے کو مقامی سطح کی منتخب قیادت کے ماتحت کرنا اس وقت ہی احسن ہوگا جب ایک مربوط نظام وضع ہو اور نظام وضع کرنے والے اس نظام کو احسن طریقے سے چلانے کے بھی قابل ہوں۔

قلعہ بالاحصار کی محدود سیاحت بے سود ہوگی

گورنر ہاؤس کے بعد قلعہ بالاحصار کو بھی عام شہریوں کیلئے کھول دینے کا تاثر اس لئے درست نہیں کہ جن مقامات پر شہری آزاد طور پر آمد ورفت نہ رکھ سکیں اور وہ عام آدمی کی باآسانی دسترس میں نہ ہو اس کی جزوی افادیت تو ہوسکتی ہے لیکن اجتماعی افادیت ممکن نہیں۔ بہرحال گورنر ہاؤس میں مشروط داخلے کی محدود اجازت کے بعد اب شہری ہفتہ اور اتوار کے روز صبح 10بجے سے 4بجے تک قلعہ بالاحصار کا دورہ کر سکیں گے۔ قلعہ بالاحصار انتظامیہ کے مطابق دورہ کے خواہشمند شہریوں کو ایک ہفتہ قبل درخواست جمع کرانی ہوگی۔ ایک ہفتہ کے دوران سیاحوں کی سیکورٹی کلیئرنس ہوگی، سیکورٹی کلیئر ہونے کے بعد سیاح کو ایس ایم ایس کے ذریعے آگاہ کر دیا جائے گا۔ 18سال سے کم عمر بچوں کیلئے فارم ب لازمی ہوگا۔ اس جیسی اور دیگر سخت شرائط اور خاص طور پر غیر ملکی سیاحوں کیلئے مزید سخت شرائط اور طریقہ کار کا مطلب انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے والا معاملہ ہوگا۔ سیاحت کیلئے سیاحوں کی آزادانہ آمد ورفت اور باآسانی وسہل رسائی سیر وسیاحت کی ایک لازمی ضرورت ہے جو قلعہ بالاحصار جانے کے خواہشمندوں کو میسر نہیں۔ ایک محدود اور پابندی کے ماحول میں سیاحوں سے یہ توقع کہ وہ دلچسپی کیساتھ تاریخی قلعہ بالاحصار کی سیاحت کرسکیں گے موزوں امر نہ ہوگا۔ جہاں تک قلعہ بالاحصار کی اہمیت اور سیکورٹی کے معاملات بلکہ سیکورٹی کی مجبوریوں کا سوال ہے اس سے ذرا بھی اختلاف کی گنجائش نہیں۔ کسی اہم فوجی نوعیت کے مقام کی عام افراد کی سیر وسیاحت کیلئے کھولنے کی حمایت نہیں کی جاسکتی بہرحال اس طرح سے سوائے چند ایک خاندانوں اور افراد کو ہی بالاحصار کا ایک گھنٹے کا دورہ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس دوران بھی وہ جہاں جانا چاہیں اور جو کچھ دیکھنا چاہیں وہ بھی ممکن نہ ہوگا۔ یوں سیاحت بھی ادھوری رہے گی اور سیاح تشنہ ہی واپس آئیں گے۔ قلعہ بالاحصار کو سیاحوں کیلئے اس طرح کھولنا سیاحت کا تقاضا نہیں بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وزیراعظم کے اعلان اور خواہش کے مطابق یہاں سے ایف سی ہیڈکوارٹر شفٹ کیا جائے اور قلعہ بالاحصار کو سیاحوں کیلئے پوری طرح کھول دیا جائے خواہ اس کا انتظام ایف سی ہی کے سپرد رہے۔

متعلقہ خبریں