Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

آبادی‘ بربادی

حکومت اس امر پر تسلسل کیساتھ زور دے رہی ہے کہ آبادی میں بے لگام اضافہ بھی عوام کی بہبود میں رکاوٹ ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ آبادی کم سے کم رکھی جائے اس لحاظ سے شادی پر پابندی ہونی چاہئے کیونکہ جوڑے بنیں گے تو جوڑوں میں درد تو اُٹھے گا اور آبادی میں اضافہ ہوگا۔ اگر آبادی میں اضافہ مطلوب نہیں تو پھر یورپ والا طریقۂ کار اختیار کرنے کا راستہ باقی بچتا ہے وہ بھی ہم جیسوں کیلئے مشکل راستہ ہے۔ یہاں تو گویم مشکل ونگویم مشکل والی صورتحال بنتی ہے۔ یہ معاملہ ہی اس قدر نازک ہے کہ کسی کو اعتدال کا کہو تو بندہ منہ کی طرف دیکھے گا کہ بھلا عناصر میں اعتدال کہاں۔ دنیا کے کتنے ممالک ایسے ہیں جہاں جوڑے بننے اور بچے پیدا کرنے کیلئے اب لالچ اور انعامات دینے کی نوبت آگئی ہے مگر مجال ہے کہ کوئی آنکھ اٹھا کر ان کی طرف دیکھے۔ معاشرے میں جوانوں کے مقابلے میں بوڑھوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بوڑھوں کے معاشروں میں بچوں کی آمد مفقود، نتیجے میں آبادی گھٹ نہیں مٹ رہی ہے۔ دوسری طرف ہمارے ہاں دیکھا جائے تو ہمارے لوگوں کو تو سوائے اس کام کے کوئی اور کام آتا بھی نہیں۔ صبح شام دیہاڑی لگتی ہے اور کھیتی اُگتی ہے، بچوں کو دو سال دودھ پلانے کا انتظار تک نہیں کیا جاتا، نتیجے میں دو دو تین تین بچے اکٹھے فیڈر پی رہے ہوتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے بندگان خدا کوئی دوسرا کام نہیں تھا کیا بس یہی رہ گیا تھا۔ یہ مولوی حضرات بھی پوری بات نہیں کرتے آدھی بات کرتے ہیں اسلام میں دو سال کی رضاعت کی تکمیل کا مقصد ہی تین سال کا وقفہ ہے ہم لوگ جہاں کھانے کا وقفہ اور چائے کا وقفہ کرتے ہیں اور جلدی جلدی کرتے ہیں یہاں بھی عدم توقف کی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ اب تو نہانے کے پانی کی بھی فلٹر کی بازگشت اُٹھنے لگی ہے خدا خیر کرے۔ رزق دینے والی ذات واقعی بڑی مہربان ہے کہ جتنی آبادی بڑھتی ہے اس قدر خوراک بھی پیدا ہوتی ہے، ٹھیک ہے بعض علاقوں میں کمی بھی دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہم میں سے ہزاروں لاکھوں کھاتے بھی ہیں اور ضائع بھی کرتے ہیں۔ اسراف بھی کرتے ہیں اور ریا بھی۔ اگر ہر آدمی بقدر ضرورت خوراک کھائے تو خوراک بہت، ہر آدمی پانی کا ضیاع نہ کرے تو پانی بہت، قدرت کہیں کہیں دامن تنگ کرتی ہے تو وہ بھی ہمارے ہی ردعمل میں وگرنہ ہر چیز وافر ہے، یہاں تک کہ آبادی بھی وافر ہوگئی ہے۔ یورپ والے جانیں ان کے کام جانیں یہاں تو تہیہ ہے ہر جوان کا کہ وہ آبادی میں اضافے کا اپنا حصہ ضرور ڈالے گا اور کوئی موقع ضائع نہ ہوگا۔ بہرحال کچھ مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اگر ضائع کیا جائے تو بعد میں آسانی رہتی ہے۔ سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں