Daily Mashriq

نیب کی کارکردگی اور چند سوال

نیب کی کارکردگی اور چند سوال

چیئر مین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کہتے ہیں رواں سال کے دوران الماریوں اور فائلوں سے نکال کر 400ریفرنس دائر کئے۔ میگا کرپشن اور وائٹ کالر کرائم مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ترجیح ہے۔ دھمکیوں کے ذریعے نیب کو خاموش نہیں کروایا جاسکتا۔ قانون کے دائرے میں رہ کر ہر قدم اٹھا رہے ہیں۔ ملک سے بد عنوانی کاخاتمہ کریں گے۔ پشاور نیب ہیڈ کوارٹر میں دی گئی بریفنگ کے بعد خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ کرپشن ‘کمیشن اور وائٹ کالر کرائم کے خاتمے پر دو آراء ہرگز نہیں‘ ان کے خاتمے کے بغیر تعمیر و ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہے نا ایک ایسے صاف ستھرے نظام کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جس میں ہر خاص و عام یکساں حیثیت کا حامل ہو اور انصاف و مساوات بالا دست طبقات کی دہلیزوں سے بندھے ہوئے نہ ہوں۔ المیہ یہ ہے کہ اپنے قیام سے اب تک نیب کا ادارہ غیر جانبداری‘ قانون کی پاسداری اور بلا امتیاز احتساب کے دعوے تو کرتا آرہا ہے مگر عمومی صورتحال یہ ہے کہ ہر دور میں اس کے احتساب کی زد میں حکومت کے مخالفین ہی آئے۔ خیبر پختونخوا میں نیب نے پچھلے پانچ سال کے دوران کیا کارنامے سر انجام دئیے؟ اس سوال کا جواب تو شاید نیب کے ذمہ داران کبھی نہ دے پائیں۔ اب بھی ملک بھر میں عمومی صورت یہ ہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے جن لوگوں کے خلاف نیب میں انکوائریاں ہیں ان میں سے جس کو تفتیش کے لئے بلایا جاتا ہے وہ تو واپس لوٹ جاتا ہے لیکن انکوائریز کے دوران ہی اپوزیشن کے رہنما گرفتار کرلئے جاتے ہیں۔

جب تک نیب اس دو عملی سے نجات حاصل کرکے سب سے یکساں برتائو نہیں کرتا سوالات بھی ہوں گے‘ انگلیاں اٹھتی رہیں گی اور تحفظات بھی ظاہر کئے جاتے رہیں گے۔ ثانیاً یہ کہ نیب کے بعض قوانین اور خود اسے حاصل اختیار پر بھی تحفظات ہیں‘ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے ریمارکس بھی موجود ہیں مثلاً پلی بارگین کا قانون لوٹ مار کے اجازت نامے کے سوا کچھ نہیں۔ 90 دن کا ریمانڈ انسانی حقوق کے حوالے سے غلط ہے۔ کیوں ایک لٹیرے کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ دس بیس کروڑ یا اس سے زیادہ کی کرپشن کرلے۔ پکڑا جائے تو پلی بارگین کی درخواست دے دے۔ اس حوالے سے چند نہیں درجنوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کے کس ملک میں احتساب کے قوانین میں پلی بارگین کی گنجائش موجود ہے؟ بد عنوانی کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہوسکتا ہے جب قانون پر عمل درآمد ہو ملزم یا مجرم سے رو رعایت نہیں۔ 90روزہ ریمانڈ کے حوالے سے موجود تحفظات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس سے اہم معاملہ کسی انکوائری کے حوالے سے شروع کرایا جانے والا میڈیا ٹرائل ہے۔ میڈیا ٹرائل میں چور ثابت کیاگیا فرد اگر عدالتی عمل میں بری ہو جاتا ہے تو نیب اور میڈیا کے ہاتھوں تار تار ہوئی عزت کہاں سے واپس لائے گا۔ فائلوں میں سے نکال کر جو ریفرنس دائر کئے گئے وہ فائلوں میں دب کیوں گئے تھے۔ کیا چیئر مین نیب نے اس بابو گیری کا نوٹس لیا۔

نیب کو دھمکیاں کون دے رہا ہے اس کی وضاحت بلکہ نشاندہی ہو جاتی تو بہتر تھا کیوں کہ نیب پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے عام انتخابات میں آزادانہ طور پر جیتنے والوں پر غیر محسوس انداز میں تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے دبائو ڈالا۔ حال ہی میں پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے نون لیگ سے تعلق رکھنے والے جو سربراہان حکمران جماعت کو پیارے ہوگئے ان کی وفاداریاں تبدیل کروانے میں نیب کے کردار پر بھی سیاسی حلقے انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ کیا یہ دریافت کرنا غلط ہوگا کہ نیب نے پرویز خٹک‘ علیم خان‘ اعظم خان اور دوسرے ان افراد کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی جن کا حکمران جماعت سے تعلق ہے؟ چیئر مین نیب اگر اپنے ادارے بارے منقسم آراء پر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو ان پر یہ دو چند ہوجائے گا کہ نیب کے موجودہ نظام و طریقہ کار اور 1990ء کی دہائی والے احتساب سیل کے نظام اور طریقہ کار میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ یہ تاثر غلط ہے تو اسے کوئی آسمانی ہدایت دور نہیں کرے گی اپنے عمل اور اقدامات سے نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک غیر جانبدار ادارہ ہے یہ اس صورت ممکن ہے جب احتساب کاعمل بلا امتیاز ہو اور تحقیقات کے دوران سب سے مساوی برتائو کیا جائے۔ نیب اگر اپنے معاملات کو درست رکھے قانون کی پاسداری کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام اس کے ساتھ نہ کھڑے ہوں۔ چیئر مین نیب بطور جج اچھی شہرت کے حامل رہے ہیں۔ لوگوں کو ان سے توقعات تھیں اور ہیں لیکن لگتا ہے کہ وہ نیب کا غیر جانبدارانہ کردار اجاگر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پشاور میں انہوں نے لاہور میں پیش آنے والے ایک حالیہ افسوسناک واقعہ کے حوالے سے جو وضاحت کی وہ بجا ہے مگر کیا ان کے ادارے کا فرض نہیں تھا کہ جب سرگودھا یونیورسٹی کے سابق لاہور کیمپس کے سی ای او کی ہتھکڑیوں میں جکڑی نعش سامنے آئی تھی وہ تحقیقات کروا کے حقائق لوگوں کے سامنے لاتے۔ نعش کو ہتھکڑی اگر سازش کے تحت لگوائی گئی اور مقصد نیب کو بدنام کرنا تھا تو کرداروں کو کس نے بے نقاب کروانا تھا؟

ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بلا امتیاز احتساب کے ذریعے ہی کرپشن اور وائٹ کالر کرائم ختم ہوسکتے ہیں۔ حکومتی سیاسی یا مذہبی بلیک میلنگ اور دبائو کو قبول کرنے سے نیب کی رہی سہی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ ان کے ادارے کے اندر کرپشن اور اقربا پروری کے حوالے سے جو شکایات ہیں ان کے ازالے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے انہوں نے بطور سر براہ کیا قدم اٹھایا؟ مکرر عرض ہے شکایات و تحفظات کو دھمکیاں نہ سمجھا جائے ضروری ہے کہ ان پر توجہ دی جائے اور بہتری کے لئے اقدامات پر توجہ بھی۔

متعلقہ خبریں