Daily Mashriq

کہانی میں نیا موڑ

کہانی میں نیا موڑ

کہانی میں ایسے کسی ٹوسٹ کی نشاندہی تو نہیں ہوتی‘ وہ تو سیدھی سیدھی بس یہی تھی کہ باغبان نے چاروں دوستوں کو اپنا باغ اُجاڑنے یعنی بغیر کسی اجازت کے پھل توڑ کر کھانے کی پاداش میں پکڑ کر پہلے گاؤں کے میراثی کے بیٹے کو یہ کہہ کر اس کی مرمت کی کہ باقی تینوں میں سے ایک گاؤں کے چوہدری کا بیٹا‘ دوسرا نمبردار کا‘ تیسرا گاؤں کے مسجد کے پیش امام کا بیٹا ہے جن کی اس کے دل میں قدر ہے‘ مگر تو تو میراثی کا بیٹا ہے‘ تو نے کیا سوچ کر پھل کھائے۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد مولوی صاحب کے بیٹے کی باری آئی اور اسے کہا‘ تمہارا والد دوسروں کو وعظ ونصیحت کرتا رہتا ہے مگر خود اپنے بیٹے کو حلال حرام کی تمیز نہیں سکھائی۔ اس کی دھنائی کے بعد نمبردار کے بیٹے کو کہا تیرا باپ زمینوں کے معاملات میں بھی گڑبڑ کرتا ہے اور حالیہ آبیانہ وصولی میں کوئی لحاظ پاس نہیں رکھتا۔ اب تو بغیر اجازت کے لوگوں کے باغ اُجاڑ رہا ہے۔ آخر میں چوہدری کے بیٹے کی باری آئی حالانکہ یہ سب اس وقت خوش ہو رہے تھے جب کسی دوسرے کی باری آتی اور وہ محفوظ تھے‘ مگر ایک ایک کر کے سب کی باری آتی چلی گئی اور بقول شاعر

میں اگر زد پہ ہوں تو تو بھی خوش گمان نہ ہو

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

کہانی میں یہ بھی کہیں نہیں لکھا کہ وہ ایک دوسرے کیخلاف استعمال ہو رہے تھے یا پھر انہوں نے باہم طے کر رکھا تھا کہ مصیبت آتے ہی سب اکٹھا ہو کر مقابلہ کریں گے۔ اس لئے اب جو تازہ داستان رقم کی جا رہی ہے اس کے کئی پہلو ہیں کہ پہلے نہ صرف ایک کو دوسرے کیخلاف استعمال کیا گیا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کام ایک عرصے سے یوں ہی کیا جا رہا ہے‘ کبھی ایک دوسرے کیخلاف اور کبھی دوسرے کو پہلے کیخلاف کٹھ پتلیوں کی طرح نچایا جاتا رہا۔ بارے مسلسل نقصان اُٹھانے کے ہنگام تھوڑی سی عقل ٹھکانے آئی تو میثاق جمہوریت کا ڈرامہ رچایا گیا۔ ڈرامہ اس لئے کہ ایک جانب میثاق کیا گیا تو دوسری جانب نہایت خاموشی اور رازداری سے این آر او کا ڈول ڈالا گیا اور سچ پوچھو تو میثاق تو ایک بہانہ تھا بلکہ ایک ایسی چال تھی جو دوسرے فریقوں نے کھیلی یعنی جنرل مشرف اور محترمہ نے ملکر ایک دوسرے کیلئے جال بچھایا‘ محترمہ نے مشرف کو اپنے ڈھب پر لانے کیلئے میثاق‘ میثاق کھیلا تاکہ این آر او پر دستخط ہو جائیں اور جب میاں صاحب کو اصل گیم کا پتہ چلا تو بعد میں انہوں نے بھی میثاق کی ایک شق کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے مہم چلائی اور پھر زرداری حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں کوئی کسر بھی اُٹھا نہ رکھی۔ حالات جس نہج پر چلتے رہے ان میں اگرچہ سطح آب پر حالات پُرسکون دکھائی دیتے رہے یہاں تک کہ دھرنوں کے دوران پیپلز پارٹی نے لیگ (ن) کی حکومت کا ساتھ دیکر اسے گرنے سے بھی بچایا تھا تاہم سطح آب کے نیچے طوفان کی موجیں موجود تھیں اور زرداری نے اپنے پتے سینیٹ انتخابات سے کچھ پہلے بلوچستان حکومت کا دھڑن تختہ کرکے واضح کر دئیے تھے تاہم بے چارے کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اصل گیم تو باغبان کے ہاتھوں میں ترپ کے پتے کی موجودگی کی وجہ سے خود زرداری کے ہاتھ سے بھی نکلنے والا ہے۔ سینیٹ میں لیگی حکومت کو ہزیمت سے دو چار کرتے ہوئے زرداری نے جو بڑھکیں ماریں وہ اب خود پیپلز پارٹی کی جڑوں میں پانی بھرنے کے کام آرہی ہیں کہ باغبان نے دونوں کو علیحدہ کرکے باری باری دونوں کی ٹھکائی کا جو بندوبست کیا تھا اس کی وجہ سے اب پیپلز پارٹی والوں کی بھی چیخیں نکل رہی ہیں۔ اس سے پہلے میاں صاحب مجھے کیوں نکالا کا تاریخی بیان داغ کر خود کو داغ لگا چکے ہیں اور اب پیپلز پارٹی کی باری لگ چکی ہے۔ اب وہ لاکھ کہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ نہیں مانتے یا لاڈلے کے پھٹے ڈھولوں کا مقابلہ کریں گے‘ ہونا ہوانا کچھ بھی نہیں بلکہ 24دسمبر سے بچ نکلنے کے بعد اب جو 31دسمبر کی تاریخ کے بارے میں کچھ بیانات وائرل ہوچکے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ یہ دن بھی خیریت سے گزر جائے گا یا پھر چیخیں حلقوم ہی میں گھٹ کر اپنی موت آپ مر جائیں گی اور کسی آہنی سیل کا دروازہ کھل جائے گا اور وہاں فرصت کے لمحات میں سوچتے ہوئے انہیں معلوم ہوگا کہ

بساط وقت پہ جو کھیلنا تھی جم کے مجھے

وہ بازی ہار گیا تھا میں پہلے داؤ میں

باغبان نے جو بساط بچھائی تھی زرداری اس کی زد میں آگئے۔ لیگ(ن) کو جو زک موصوف نے بلوچستان اسمبلی میں کارروائی، سینیٹ انتخابات میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین کی نشستوں میں اپنی جادوگری دکھانے، یہاں تک کہ انتخابات کے ہنگام سرائیکی صوبے کے حوالے سے فارورڈ بلاک اور قومی اسمبلی میں اس سب گیم کے فوائد جس طرح پھسل کر ان کے ہاتھ سے نکلتے چلے گئے اور جن کی اصل غرض وغایت دونوں بڑی جماعتوں کو الگ الگ کرکے ’’آسانی‘‘ سے شکار کرنا تھا۔ اب باری بالآخر پیپلز پارٹی کی لگ ہی گئی ہے۔ ایک بات البتہ یاد رکھنے کی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ آج لیگ (ن) کے بعد پیپلز پارٹی کی باری لگ گئی ہے تو کھیل ختم ہو جائے گا، ہرگز نہیں۔ یہ سلسلہ جاری بھی رہ سکتا ہے کیونکہ کوزے کو دو چھید ہونے کے طعنے دینے والوں کی اپنی جھولی میں بھی چھاننی کی مانند کئی چھید موجود ہیں جو سند کے طور پر بوقت ضرورت کام آسکتے ہیں۔

چراغوں کو غلط فہمی ہوئی ہے

ہوا ساکت نہیں سہمی ہوئی ہے

متعلقہ خبریں