Daily Mashriq

کوٹ لکھپت جیل کا قیدی نمبر4470

کوٹ لکھپت جیل کا قیدی نمبر4470

جس رات سابق وزیراعظم محمد میاں نواز شریف اڈیالہ جیل دوبارہ پہنچے اور رات وہاں گزاری تو تقدیر و قسمت ونصیب وغیرہ پر پکا یقین رکھنے کے باوجود عین الیقین حاصل ہوا کہ کسی نے سچ کہا ہے کہ جس کی جو رات قبرمیں لکھی ہو وہ قبرسے باہر نہیں ہو سکتی اور جس کی قبرسے باہر لکھی ہو وہ قبر کے اندر نہیں ہو سکتی ۔ اس کے ساتھ ہی قرآن کریم میں بیان شدہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ قوت وطاقت کا اظہار دل ودماغ میں تازہ ہواکہ مالک دوجہاں نے سچ وحق فرمایا ہے کہ وہی ذات ہے جو چاہے تو شاہ کو گدا بنادے اور گدا کو شاہ بنادے۔ تمام اختیارات کا مالک وہی ہے۔

حضرت ابن عباسؓ اور حضرت انسؓسے روایت ہے کہ جب رسول اللہؐ نے مکہ المکرمہ فتح فرمالیا تو آپؐ نے اپنی اُمت کو فارس اور روم کے فتح ہونے کی خوش خبری دی۔ یہ سُن کر یہودیوں اور اُن کے ساتھی منافقوں نے کہا۔۔اجی انہیں فارس اور روم کیسے مل سکتے ہیں! وہ تو سپر پاورز ہیں اور بڑے غلبہ اور قوت والے لوگ ہیں ۔ کیا محمدﷺ کو یہ کافی نہیں کہ مکہ اور مدینہ مل گیا ہے ۔ اس پر بس نہیں کرتے جو آگے بڑھ کر فارس اور روم کی خوشخبریاں سُنانے پر آگئے ہیں ۔ اس بات پر اللہ تعالیٰ نے سورہ ال عمران کی وہ آیت کریمہ نازل فرمائی جس کی عملی تفسیر گزشتہ چودہ سو برسوں میں دنیا کے ہر ملک و خطے میں دیکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ؐ کو خطاب فرمایا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعا کریں کہ:’’اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک!توجسے چاہے بادشاہی(ملک) دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔کہ ساری خیر و بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں‘‘۔ ماضی قریب میں عالم اسلام(بالخصوص عرب دنیا) میں صدام حسین ، معمر قذافی زین العابدین، حسنی مبارک اور شام و افغانستان میں جو کچھ ہوا، کیا کسی کے وہم وگمان میں بھی تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ صدام حسین اور معمر قذافی ایسی بے بسی اور کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے یوں عبرت ناک موت بھی مریں گے۔

اپنے وطن عزیز میں آج تک ستر برسوں میں جتنے بھی حکمران آئے اور گزرے، اُن میں الا ما شاء اللہ بہت کم ہی عزت ووقارکے ساتھ اقتدار سے رخصت ہوئے ہیں۔ جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی میں یہی ہوتا ہے ۔ ان میں جو اس وقت حیات نہیں ، وہ تاریخ کا حصہ ہیں ، جب تک پاکستان قائم ہے ،اُن سے اتفاق واختلاف والے لوگ ہوں گے ۔ اسی طرح موجودہ منظر میں جو صورت حال ہے ۔ اس میں عمران خان اور محمد نوازشریف اور زرداری کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان سیاسی جماعتوں کے پیروکاروں کے درمیان بھی اختلاف وتنائو موجود ہے ، لیکن جمہوریت میں اختلافات کے باوجود حسن یہی ہے کہ ملک کو نقصان نہ پہنچے ۔ بس ہم اس بات پر یقین رکھیں کہ ملک وبادشاہی واقتداراللہ تعالیٰ کی امانت ہے وہ جسے چاہے دے۔لیکن یہ بات بھی تاریخی طور پر حدیث کے مطابق ثابت ہے کہ جو آدمی اللہ کی امانت(اقتدار) کا صحیح استعمال نہ کرے اللہ تعالیٰ اُس سے اقتدار کسی وقت بھی چھین سکتا ہے۔ن لیگ اور پی پی پی کا آئینی حق ہے کہ عدالتی اور حکومتی فیصلوں کے خلاف تحریک چلائیں لیکن ایک بات بس یاد رکھنی ہے کہ عوام اور ملک کے نقصان کی قیمت پر کسی صورت کسی کو تحریک کا حق نہیں پہنچتا۔میاںنواز شریف قانونی جنگ ہار گئے اور سات برس جیل میں گزارنے پڑییں گے یا اگر وہ واقعی بے قصور ہیںجیسا کہ اُن کا مئوقف ہے کہ ’’میرا ضمیر مطمئن ہے کہ کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘ تو کسی وقت بھی رہا ہو کر دوبارہ ملک واقتدار حاصل کر سکتے ہیں ۔ جیل کی زندگی اگر چہ کسی طور بھی پسندیدہ زندگی نہیں ہوسکتی ۔ لیکن جن لوگوں کا ضمیر مطمئن ہو وہ یوسفؑ کی طرح خود بھی جرم کے مقابلے میں جیل جانا ہی پسند کرتے ہیں ۔نواز شریف نے خبر کے مطابق قرآن کریم، دینی وادبی مطالعے کے لئے منگوائی ہیں۔ کاش میری یہ بات اُن تک پہنچے کہ ایام اسیری میں سید قطبؒکی تفسیر قرآن(اردو ترجمہ)’’فی ظلال القران‘‘ کا مطالعہ ضرورکریں۔ اس کے علاوہ اپنی سیاسی زندگی کے نشیب وفراز، تاثرات ومشاہدات اور احساسات وجذبات کو کاغذ پر اُتاریں۔ دنیا کی سولہ بہترین کتب جیلوں میں لکھی گئی ہیں ۔مولانا ابو الکلام آزاد کی’’غبار خاطر‘‘اور نیلسن منڈیلا کی ’’کنورسیشن ود مائی سیلف‘‘ (خود کلامی) اس مد میں شاہکار کتابیں ہیں۔ لہٰذا مطالعہ کرنے کی تجویز ہے۔ سر والٹر کی ہسٹری آف دا ورلڈ‘‘ اُن کی تیرہ سالہ زمانہ اسیری کی یادگار وشاہکار کتاب ہے ۔ ہنری ڈیوڈ نے میکسیکو کے خلاف جنگ کے لئے ٹیکس دینے سے انکار پر ایک رات جیل میں گزاری تھی جس نے اُسے سب سے مشہور مضمون (Essay)’’سول نافرمانی‘‘لکھنے پر مجبور کیا۔ اس کے علاوہ اور بھی دنیا کے سیاسی، مذہبی اور دانشور اور فلاسفر رہنمائوں نے جیلوں میں رہ کر اپنی قوم اور انسانیت کی رہنمائی کے لئے یاد گار تصانیف چھوڑی ہیں ۔ محمد نواز شریف سے بھی اور نہ سہی یوسف رضا گیلانی کی چاہ یوسف سے صدا‘‘ کی تقلید میں ’’میںہوں مجبور پر اللہ تو مجبور نہیں‘‘ ٹائپ کوئی کتاب ضرور آنی چاہیئے۔

متعلقہ خبریں