Daily Mashriq

امتحان سے کھلواڑ

امتحان سے کھلواڑ

زمانے میں ایک گیت کے یہ بول بہت مقبول تھے ’’ زندگی امتحان لیتی ہے دل جلوں کی جان لیتی ہے ‘‘ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زندگی اور امتحان کا آپس میںچولی دامن کا ساتھ ہے ساری زندگی امتحان ہی تو ہے یہ کارگہہ حیات شیشہ گر کی دکان ہی تو ہے جہاں ہر قدم ہر سانس پھونک پھونک کر لینا پڑتا ہے ۔

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ امتحان ہی بڑا بودا ثابت ہوتا ہے اللہ کے بندے اس قسم کے امتحان کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی محنت کرتے ہیںمردانہ وار آگے بڑھ کر امتحان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے چاروں شانے چت کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں مگر ان کی ساری محنت جذبہ اور جوش و خروش خود ہی اس لیے چاروں شانے چت ہوجاتے ہیں کہ امتحان ہی میں جان نہیں ہوتی۔ آج ہم جس امتحان کا ذکر کرنے جارہے ہیں اس نے دل جلوں کی جان تو نہیں لی لیکن ان کے دلوں کو جلا کر راکھ کر دیا ان کے سارے خواب چکنا چور کر دیے ان کے دلوں میں پروان چڑھتی امیدوں کو ریت کے کمزور گھروندوں کی طرح مسمار کردیا آج یہ ارباب اقتدار سے ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیںکہ ہمارے ساتھ کون سا کھیل کھیلا گیا ہے ہمیں کس جرم کی سزا دی گئی ہے ؟آج جس امتحان کا تذکرہ ہے یہ ایک سادہ سا امتحان ہوتا ہے جس کا انتظام و انصرام ہمارے ایک مقتدر ادارے پبلک سروس کمیشن کی طرف سے کیا جاتا ہے اس میں کامیاب ہونے والے امیدوار لیکچرار سے اسسٹنٹ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسر سے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوجاتے ہیں ۔لیکن کھیل اس وقت بگڑ جاتا ہے جب اس امتحان کو ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے جن کا متعلقہ مضمون سے دور دور تک کا کوئی تعلق ہی نہ ہو وہ اس مضمون کی روح سے ہی نا آشنا ہوں انہیں اس بات کا علم ہی نہ ہو کہ اس امتحان کی غرض و غایت کیا ہے ؟ابھی حال ہی میں پبلک سروس کمیشن نے بہت سے مضامین جن میں اردو، اکنامکس، انگلش ، تاریخ، پولیٹیکل سائنس، لاء اور دوسرے بہت سے مضامین شامل ہیں کا جب سکرین ٹیسٹ لیا تو پرچہ دیکھ کر امیدوار وں کو بڑی مایوسی ہوئی اس قسم کے سوالات دیے گئے تھے جن سے امیدوار کی قابلیت کا اندازہ لگانا تو دور کی بات ہے بلکہ ان سوالات کو اوٹ پٹانگ سوالات کے زمرے میں باآسانی شامل کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں ایک امیدوار نے اردو کے پرچے کے حوالے سے بتایا کہ یہ پرچہ اردو ادب کی بجائے شماریات اور تاریخ کا پرچہ لگتا تھا اس میں املا کی بے تحاشہ غلطیاں تھیں کئی سوالوں کے جوابات غلط تھے پانچ غلطیوں کا اقرار تو امتحانی عملے نے بھی کیا ۔ سوالات میں ناموں، تاریخوں اور اعدادوشمار کی بہتات تھی مثلاً فلاں شاعر نے کتنے اشعار، سلام، قطعات، رباعیات،قصائد اور غزلیں لکھیں؟ سارا پرچہ اس قسم کے سوالات سے بھرا ہوا تھا اب آپ خود انصاف کیجیے یہ تو خود شاعر بھی نہیں جانتا کہ اس نے کتنی غزلیں لکھی ہیں؟ اور اس قسم کے سوالات میں ممتحن کس قسم کی قابلیت کو جانچ رہا ہے ؟ غالب کے سسر کا کیا نام تھا؟ غالب کی شادی کس عمر میں ہوئی تھی ؟ اس قسم کے سوالات تھے جن کا ادب سے کوئی تعلق تھا ہی نہیں ! اکثر سوالات کا تعلق حافظے سے تھا علمیت ، ذہانت اور ادب کی سمجھ سے نہیں تھامواد صرف قدیم شعری اصناف سے چنا گیا تھا جیسے مثنوی ، مرثیہ،قصیدہ ، نظم اور غزل! اقبال ،نثر، افسانوی ادب اور جدید یعنی آج کے ادب کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا تھامزید یہ کہ ادب میں objectivesکا کیا کام ؟یہاں تو تجزیہ،تبصرہ اور تنقید ضروری ہے ۔ معروضی سوالات سائنس، تاریخ اور شماریات کے لیے تو فائدہ مند ہوسکتے ہیں ادب کے لیے ہر گز نہیں ! مثلاًفلاں شاعر کے کتنے اشعار ہیں کی بجائے شاعر کے کلام کی خصوصیات پر بات کرنا ادب کے طالب علم کا کام ہے ۔ایک پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں ان کی ذاتی لائبریری ہے جس میں تین ہزار کتابیں ہیں لیکن وہ ساری کتابیں میرا سارا علم آج میرے کسی کام نہیں آیا کیونکہ پرچہ بازار میں امتحانی غرض سے چھپنے والی گائیڈوں کی مدد سے تیار کیا گیا تھا جن میں غلطیوں کی بھرمار ہوتی ہے ۔ قانون پڑھانے والے ایک معزز پروفیسر صاحب نے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بنیادی طور پر ٹیچر ہیں کالج میں لاء کا مضمون پڑھاتے ہیں وہ وکیل نہیں ہیں اور انہیں عدالت میں کسی بھی قسم کا کیس لڑنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ practicing lawyer نہیں ہیںان کے پرچے میں موجود سارے سوالات قانون کی پریکٹس کے حوالے سے تھے وہ کالج میں اسلامی فقہ اور constitutional lawپڑھاتے ہیں اور اس حوالے سے پیپر میں ایک سوال بھی نہیں تھا ۔ اردو کے پرچے میں ایک سوال تھا کہ ’’ غالب، میر، درد، آتش ان میں سے کون سا شاعر غزل گو تھا ‘‘اب یہ سارے ہی غزل گو شاعر ہیں اب بیچارا امیدوار اس سوال کا کیا جواب دے گا؟یہ سوال ہی غلط تھا ہمار اخیال ہے کہ یہ پرچہ جات متعلقہ محکمے کے بابوئوں نے بازار میں بکنے والی گائیڈوں کی مدد سے تیار کیے تھے جنہیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ کس سوال کا انتخاب کرنا ہے اور اہمیت کس سوال کی ہے؟ وہ سوال کی روح، امتحان کی روح سے مکمل طور پر ناآشنا تھے ہماری متعلقہ محکمے سے درخواست ہے کہ وہ اس قسم کے امتحانات کی تیاری کے لیے محکمہ تعلیم کی خدمات حاصل کرے اور برائے مہربانی اس قسم کے اہم امتحانات کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے! ۔

متعلقہ خبریں