Daily Mashriq

سیاسی نقشے کی ممکنہ صورت گری

سیاسی نقشے کی ممکنہ صورت گری

سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف احتساب عدالت میں زیر سماعت دو اہم مقدمات العزیزیہ کیس اور فلیگ شپ کیس میں دو مختلف فیصلوں کے نتیجے میں ایک بار پھر سات سال کے لئے جیل پہنچ گئے ۔فلیگ شپ کیس میں عدالت نے انہیں بری کیا تو العزیزیہ کیس میں سات سال قید بامشقت سنادی گئی۔ عدالت نے میاں نوازشریف کو جیل بھیجنے کے لئے بھرپور قانونی نکات اور جواز پیش کئے اب ان کے سقم نوازشریف کے وکیل اپیلوں میں تلاش کریں گے کہ یہ ایک طویل قانونی جنگ کا حصہ ہوگا ۔نوازشریف جیل کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے تو ان کے برادر اصغر شہباز شریف کے لئے جیل کا پھاٹک اور روزنِ زنداں رفتہ رفتہ کھلتا جا رہا ہے ۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی جو سربراہی ان کے لئے شجر ممنوعہ تھی اور حکومت اس نکتے پر کوئی سمجھوتہ کرنے سے قطعی انکاری تھی وہ شہباز شریف کو مل چکی ہے ۔ عہدوں اور مناصب کی وجہ سے ان کی قید آسان بھی ہو گی اور وہ آزاد دنیا اور ذرائع ابلاغ کے ساتھ رابطوں کی سہولت کے حامل بھی ہوں گے ۔ایک سیاست دان کو بات کہنے اور منظر پر رہنے کی جو سہولت درکار ہو تی ہے شہباز شریف کو وہ سب کچھ حاصل ہوگا۔پارلیمنٹ کے اندر بھی انہیں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی ’’پیٹی بند بھائیوں‘‘ کی حمایت اور ہمدردی کی سہولت بھی حاصل ہے جن میں سپیکر اسد قیصر سر فہرست ہیں ۔اسد قیصر کے نزدیک ان کے منصب اور عہدے کا بنیادی تقاضا اور کردار ہی یہ ہے کہ ایوان کی کارروائی چلتی رہے ۔ایک پروفیشنل سپیکر کو ایسا ہی ہونا بھی چاہئے اور اسی انداز سے سوچنا بھی چاہئے ۔چوہدری نثار جو مریم نواز کے ٹویٹس اور پرویز رشید کے طعنوں اور نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے مسلم لیگ ن سے کھسک کر شاید آخری سرحد بھی عبور کرچکے تھے اب خاموشی اور آہستہ روی کے ساتھ اس سرحد ی خلاف ورزی اور اپنی حد ود سے باہر نکل جانے کی تاویلات اور دلائل کے ساتھ اندر آرہے ہیں ۔شاید ان کا مطالبہ عالم ِغیب سے کچھ اس انداز سے پورا ہوگیا ہے کہ پارٹی کی سربراہی کسی’’ جونیئر ‘‘ اور ’’بچے ‘‘کی بجائے کہنہ مشق شہباز شریف کے ہاتھ میں آچکی ہے ۔ابھی تک یہ واضح ہونا باقی ہے کہ شہباز شریف کو سربراہی کے ساتھ فیصلہ سازی کا اختیار بھی ملا ہے یا نہیں ۔مسلم لیگ ن رفتہ رفتہ مسلم لیگ ش میں ڈھل سکتی ہے ۔مسلم لیگ ن میں کسی سیاسی مزاحمت اور احتجاجی تحریک کا دم خم باقی نہیں رہا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاست میں نظریاتی عنصر ختم ہو گیا ہے اورسیاسی کارکن کو مراعات اور تعیشات نے سہل پسند اور ابن الوقت بنا دیا ہے ۔جرنیل حکمرانوں نے سوسائٹی کو ڈی پولیٹیسائز کرنے کا جو کام دانستہ کیا تھا سیاسی حکمرانوں نے نادانستگی میں اسے آگے بڑھایا۔اس سے ایک غیر سیاسی کلچر وجود میں آیا جس میں ایک کارکن اپنے قائد کے لئے دن میں ایک سو ٹویٹس اور فیس بک اور واٹس ایپ پر اس کی دس تصویریں تو شیئر کر سکتا ہے مگر موبائل اور لیپ ٹاپ کی دنیا سے نکل کر وہ قائد کے لئے مار اور لاٹھیاں نہیں کھا سکتا۔ اگر وہ ایسا کرے گا بھی تو یہ سوشل میڈیا کی ضرورت کے لئے ہوگا تاکہ قربانیوں کی فائل میں سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے ۔مسلم لیگ ن کی قیادت کے جیلوں میں جانے سے اس ملکی سیاسی منظر پر خلاء اُبھرنے کا امکان اس لئے موجود نہیں کہ شہباز شریف رفتہ رفتہ منظر پر اُبھر رہے ہیں ۔اب وہ جیل جا کر بھی اپنی قیادت کا لوہا منوارہے ہیں۔آصف زرداری نے خود کو پیپلزپارٹی کے نالاں اور ناراض کارکن سے منوانے کے لئے برسوں کی قید کو ہی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ استعمال کیا تھا ۔ان کا ڈی میرٹ جیل کی طویل زندگی ہی پارٹی میں ان کامیرٹ بن گئی تھی اور وہ بے نظیر بھٹو کے منصب کے حقدار بنے تھے ۔پارٹی کے سینئر اور سربرآوردہ سیاسی راہنما اس ایک میرٹ کے آگے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوئے تھے ۔مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کی قیادت بھی اپنے مشاغل ،سرگرمیوں اور شوق کی دلدل میں دھنس رہی ہے ۔آصف زرداری نے بے نظیر بھٹو مرحومہ کو اپنی فکر وفلسفے کے آگے ہتھیار ڈالنے پر تو مجبور کیا تھا مگروہ اپنی اگلی نسل بلاول بھٹو کو بھی اچھا اور موافق ماحول نہ دے سکے اور اب آصف زرداری کی سوچ وفکر جواں سال بلاول کی راہ میں بچھے کانٹوں کی مانند ہو کر رہ گئی ہے ۔ بلاول ابھی سیاست کے پہلے زینے پر تھے ۔وہ بدلتے منظروں کا حصہ بن کر ملک کو اچھی اور متبادل قیادت فراہم کر سکتے تھے ۔ابتدائے سفر میں ان کا نام اومنی گروپ کی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنتا تو اچھا ہی ہوتا مگر آصف زرداری کی حکمت عملی نے بلاول کو نئے منظروں کا حصہ بننے کی بجائے ماضی کی بوجھل یادوں اور تاریخ کا حصہ بناڈالا۔ مسلم لیگ ن میں قیادت کا خلاء پر کرنے کے لیئے شہباز شریف موجود ہیں وہ بہت سے حوالوں سے اور بہت سے مواقعپر خود کو ایک الگ اور آزاد لگیسی ثابت کر چکے ہیں اور چوہدری نثار تو انہیں ایک الگ لگیسی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اس کے برعکس بلاول زردار ی لگیسی سے ہٹ کر اپنا امیج نہ بنا سکے اور آصف زرداری نے حکمت عملی کے تحت بھی اس کام میں دلچسپی نہ لی ۔شاید یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو ممکنہ خلاء پر کرنے کے لئے صنم بھٹو کی صورت میں بھولی بسری غیر سیاسی بھٹو لگیسی سے مددطلب کرنا پڑ رہی ہے ۔صنم بھٹوخلاء کو پر کرنے میں کامیاب ہو گئیں تواچھا ناکام بھی ہوئیں تو بھی وقت کا دھار آگے اور آگے بہتا چلا جائے گا ۔

متعلقہ خبریں