Daily Mashriq


مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیوں؟

مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیوں؟

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ قصرابیض میں صدارتی کرسی پر برا جمان ہونے کے باوجود بھی انتخابی مہم کا ساطر ز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں جس کی دنیا بھر میں ہی نہیں خود امریکہ کے اندر بھی بڑے پیمانے پر مخالفت فطری امر اس لئے ہے کہ امریکی صدرامریکہ کے آزاد اور رواداری پر مبنی معاشرے میں کچھ ایسے اقدامات اور روایات کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں جن کی امریکی معاشرے میں گنجائش کم ہی ہے ۔ دنیا بھر سے لوگوں کی امریکہ مراجعت اور نائن الیون کے واقعات کے بعد من حیث المجموع قوانین اور حالات دونوں ہی امریکی ویزے کے اجراء اور امریکہ میں داخلے کے وقت کی سخت ترین مشکلات جن کو اگر تو ہین آمیز بھی گردانا جائے تو غلط نہ ہوگا ، رائج ہیں۔ امریکی ویزے کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف رہا ہے اور امریکہ میں داخلے پر سیکورٹی کے نام پر جن مراحل سے لوگوں کو گزارا جاتا ہے اس کی درست تشریح وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کو اس سے وا سطہ پڑا ہو ۔ امریکی صدر اگر سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے حکمنامے پر دستخط کریں یا نہ کریں پاکستان اور افغانستان کے شہر یوں کیلئے امریکہ میں داخلہ مشکل سے مشکل تر بنا دیا جائے یا نہ بنا دیا جائے ایسے مزید کیا سخت اقدامات ممکن ہیں جو امریکی صدر کو مطلوب ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ویزے کی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ان سات اسلامی ملکوں کا انتخاب کس بنا پر کیاہے اور باقی اسلامی ملکوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کرنے کی وجوہ کیا ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام ان کے انتخابی وعدے پورے کرنے کی شروعات ہیں۔ اس ابتداء کے بعد مزید کیا اقدامات کیے جائیں گے اور یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا یہ مستقبل ہی بتائے گا تاہم مسلمان تارکین وطن پرپابندی ٹرمپ کے مسلمانوںکے بارے میں رویے کی نشان دہی کرتی ہے۔یہ صدر ٹرمپ کی مسلمانوں کے حوالے سے امتیازی پالیسیوں ہی کا رد عمل ہے کہ سابق وزیر خارجہ میڈ یلین البرائیٹ نے رد عمل میںاحتجاجاً خود کو بطور مسلمان رجسٹرڈ کرانے کا اعلان کیا ہے بعید نہیں کہ مزید اہم شخصیات اور افراد بھی اس کی تقلید کریں۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کی امریکی مسلمانوں کی جانب سے مخالفت اور رد عمل اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ان پالیسیوں سے ٹھیس پہنچنا اپنی جگہ خود امریکی معاشرے میں ان کے اقدامات کو غیر مسلم امریکی شہریوں کی جانب سے بھی ناپسند یدگی سے دیکھنا اور مسلما نوں سے اظہار یکجہتی ٹرمپ کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔ امریکی صدرنے مسلمانوں کے حوالے سے جورویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے مسلم دنیا اور امریکہ کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوگی ۔ جہاں تک امریکہ کو محفوظ بنانے اورا س کو تحفظ دینے کے اقدامات کا سوال ہے یہ بجا طور پر امریکی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سیکورٹی اقدامات کے ضمن میں امریکی پالیسیوں پر تنقید تو کی جا سکتی ہے لیکن ان کو بلاوجہ اور یکطرفہ قرار نہیں دیا جا سکتا مگر امریکہ کو محفوظ بنانے کے نام پر مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی یا اسے ناممکن بنانا بلا جواز اس لئے ہوگا کہ خود امریکہ کے لاکھوں شہری ہی مسلم ممالک میں موجود نہیں بلکہ مسلم ممالک پر امریکہ کی تجارت صنعت و حرفت کا بڑا دارومدار بھی ہے۔ امریکہ کی جانب سے بعض مسلمان ملکوں کے شہریوں کے حوالے سے امتیازی قوانین اختیا ر کئے جانے کو مسلما نوں کے خلاف بر ملا تعصب برتنے پر محمول کیا جائے گا اور دنیا بھر میں امریکی مفادات اور امریکی شہری ان قوانین اور سلوک کے رد عمل میں غیر محفوظ ہو سکتے ہیں ایسا کرنا خود امریکہ کے مفاد میں نہ ہوگا ۔امریکہ افغانستان ، عراق ، شام ، فلسطین اور مسلم دنیا کے حوالے سے کردار کے باعث اب بھی کوئی پسندیدہ ملک نہیں امریکہ کو درپیش خطرات بڑی حد تک اس کی پالیسیوں کا رد عمل ہیں۔ جیسے جیسے ان پالیسیوں میں سختی آتی جائے گی تیسے تیسے اس کا رد عمل بھی سامنے آنے کے خطرات میں اضافہ ہوگا ۔آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا ۔جہاں تک بعض مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی اور سختی کا سوال ہے وہ تو اب بھی آسان نہیں اس وقت بھی مسلم شہری با آسانی امریکہ کا ویزا حاصل نہیں کرسکتے ۔ ہمارے تئیں بجائے بعض مسلم ممالک کے شہریوں کا خاص طور پر تذکرہ اور ان پر پابندی عائد کرنے جیسے اقدامات کی بجائے امریکی حکومت اگر اپنے سفارتخانوں کو ویزے کے اجراء کے ضمن میں مزید احتیاط برتنے کا مشورہ دے تو زیادہ مناسب ہوگا اور بات بھی تقریباً وہی ہوگی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مد عاہے ۔ امریکہ سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات میں جو عناصر ملوث پائے گئے ہیں کم و بیش وہ اسی ملک اور معاشرے ہی کی پیداوار تھے وہ مغربی تعلیم و تمدن ہی کے پر ور دہ تھے اور وہیں بیٹھ کر ہی انہوں نے منصوبہ بندی کی اور اپنے منصوبوں پر عمل در آمد کرنے کی سعی کی ۔ اس لئے کسی مسلم یا مغربی معاشرے کو دوش دینے کی بجائے اگر ایک خاص ذہنیت اور اس کی طرف مائل ہونے کے مضمرات کا جائزہ لیکر ان کا سدباب کرنے پر توجہ دی جائے تو امریکہ سمیت پوری دنیا زیادہ محفوظ ہوگی ۔

متعلقہ خبریں