Daily Mashriq


نا مناسب موقف

نا مناسب موقف

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کا یہ بیان مناسب نہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسمبلی بند کرکے عوام کے پیسے بچائے جائیں۔ حسن اتفاق اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بیان کے عین موقع پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کی خاتون رکن کو ہیلتھ کیئر کمیشن میں اہم آسامیوں پر ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے بات کرنے کی خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے اجازت نہیں دی۔ قبل ازیں تحریک انصاف کے وزراء ' مشیروں اور پارلیمانی سیکرٹریوں کو اسمبلی اجلاس میں آئے بغیر تنخواہوں اور مراعات کی وصولی پر حزب اختلاف کے اراکین کااحتجاج اور وصول شدہ رقوم کو حرام قرار دینے کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ صرف خیبر پختونخوا اسمبلی پر کیا موقوف قومی اسمبلی سمیت دیگر صوبائی اسمبلیوں کی صورتحال ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کو بند کرنے کی تجویز دینا مناسب نہیں۔ اسمبلیوں کی بندش کی نوبت صرف بدترین دور آمریت اور مارشل لاء ہی میں آتی ہے۔ تحریک انصاف کے قائد کو ممبران اسمبلی پر تنقید اور حکومت پر لعن طعن کرنے کا پورا حق حاصل ہے مگر ایسا کرتے ہوئے ان کو جمہوریت کا ستون گرانے کی تجویز نہیں دینی چاہئے۔ اگر اصلاح مقصود ہے تو اس کا زیادہ بہتر طریقہ خیبر پختونخوا اسمبلی اور حکومتی ممبران اسمبلی کی اصلاح ' ان کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی نمائندگی کے کردار پر پورا اترنے کے قابل بنانا ہے۔ سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ باہم اختلافات اور چپقلش میں جمہوری اداروں اور جمہوریت کے ستونوں کو تختہ مشق بنانے کی بجائے اصلاحات اور بہتری کے اقدامات پر توجہ مبذول کریں۔ ایوان کی بندش مسائل کا حل نہیں۔ ایوان میں موثر قانون سازی اور عوام کی نمائندگی سے مسائل میں کمی لانا ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں