Daily Mashriq


پاکستانی سینما گھروں میں بھارتی فلموںکی نمائش

پاکستانی سینما گھروں میں بھارتی فلموںکی نمائش

گزشتہ دو تین دن سے پاکستان کے سینما گھروں میںبھارتی فلموںکی نمائش کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایک ٹی وی کے ٹاک شو کے دوران کمپیئر نے کہا کہ حکومت نے پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے دی ہے اور اس پر ٹاک شو میں شریک ایک وزیر مملکت کو اس فیصلہ پر تبصرہ کرنے کی دعوت دی۔ ایک دوسرے ٹی وی چینل نے پٹی چلائی کہ بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ایک تیسرے چینل نے پٹی چلائی کہ چوبیس گھنٹے میں بھارتی فلموںکی نمائش کی اجازت دیے جانے کا امکان ہے۔ لیکن تفصیلی خبر کہیں شائع نہیں ہورہی۔ ٹاک شو میں شریک وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے کہا کہ نہ حکومت نے بھارتی فلموں کی نمائش کسی حکم نامے کے ذریعے روکی تھی نہ کسی حکم نامے کے ذریعے دی ہے۔ سینما گھروں نے خود ہی بھارتی فلموں کی نمائش بند کی تھی اگر وہ خود ہی بھارتی فلموں کی نمائش کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان مخالف بھارتی رویے کی بنا پر وہ ذاتی طور پر پاکستان میں بھارتی فلموں کی دوبارہ نمائش شروع کرنے کی حمایت نہیں کرتے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ہیں جو ایسا ہی رویہ رکھتے ہیں لیکن بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پراگر پابندی تھی تو اس کے باوجود لوگ دوبئی سے منگوا کر پرائیویٹ طور پر بھارتی فلمیںدیکھتے ہیں اور کمپیوٹر پر یہ کام اور بھی آسان ہے۔ طارق فضل چوہدری نے بھی اس صورت حال کا حوالہ دیا کہ جب لوگ پرائیویٹ طور پر بھارتی فلمیں دیکھتے ہیں تو ان کی نمائش کی اجازت دینے میں کیا حرج ہے۔لیکن بھارتی فلموں کی نمائش اگراچھی بات نہیں تو اس بات کی عام اجازت دینے کی کیا ضرورت ہے جو اچھی بات نہیں۔ اس سے صرف یہ ہو گا کہ بھارتی فلموں کی مارکیٹ اور بڑی ہو جائے گی اور بھارتی فلم انڈسٹری کو پاکستان سے بھی آمدنی ہوگی۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے نوجوان جب سے نوجوانی کی عمر کو پہنچے ہیں۔ انہوں نے بھارتی فلمیں ہی دیکھی ہیں۔ اس کے اثر میں وہ بعض ہندی الفاظ بھی گفتگو میں استعمال کرتے ہیں اور بعض تو ''خ' کو ''کھ'' کی طرح بولتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں کے رسوم و رواج کی نسبت بھارت کے رسوم و رواج سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ اسے بھارت کی ثقافتی یلغار کہا جاتا ہے جو ایک حقیقت ہے۔ اس طرح پاکستان میں پاکستان کی ثقافت اظہار نہیں پا رہی ہے۔ پاکستان کے خاص طور پر نوجوانوں کے سامنے بھارتی فلموں کے سوا کوئی متبادل ہے ہی نہیں۔ مجھے یاد ہے لاہور میں ایجنٹ سینما میں جب بھارتی فلم ''جال'' چلائی جا رہی تھی ، سینما کے باہر پاکستانی فلم انڈسٹری کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں نے ایک بڑابھاری احتجاج کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ بھارتی فلموں کی نمائش بند کی جائے ۔ یہ بحث چلی اور دلیل یہ بھی پیش کی گئی کہ بھارت کی فلموں کی مارکیٹ بہت بڑی ہے انکی آمدنی زیادہ ہے ، وہ اپنے اداکاروں ' ڈائریکٹروں اور کارکنوں کو زیادہ معاوضہ دے سکتے ہیں اور قیمتی سیٹ لگا سکتے ہیں۔ اس لیے بھارتی فلموں کی نمائش پاکستانی فلم انڈسٹری کو تباہ کر رہی ہے۔ اسے تحفظ دیا جائے تو پاکستان کی فلمی صنعت پنپ سکتی ہے۔ بھارتی فلموںپر تو پابندی لگ گئی لیکن پاکستانی فلم انڈسٹری نہ پنپ سکی۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے ۔پاکستان میںبہت اچھے ٹی وی ڈرامے پروڈیوس ہوئے ہیں جو بھارت میں بہت مقبول رہے ہیں۔ آج بھی پاکستان کے ٹی وی ڈرامے بھارت میں بہت مقبول ہیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کی تباہی کے ذمہ دار خود پاکستان کے فلم ساز ہیں جو معیار سے بے پروا بلکہ ناآشناہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی فلم انڈسٹری میں تعلیم یافتہ ' مہذب اور شائستہ لوگوںکا گزر نہیں۔ اس وجہ کو نظرانداز کرکے آج بھارتی فلموں کی درآمد کی اجازت دینے کے حامی لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھارتی فلمیں آئیں گی تو پاکستانی فلم انڈسٹری کے ساتھ مقابلے کی فضا پیدا ہو گی اور پاکستانی فلم انڈسٹری بڑھے پھولے گی ۔ لیکن بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندی سے پہلے بھی تو مقابلے کی فضا موجود تھی اس میںپاکستانی فلم انڈسٹری نے شکست قبول کر لی اور بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندی لگوائی ۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بھارتی فلموں کی درآمد سے پاکستان فلم انڈسٹری پر کوئی اچھا اثر پڑے گا۔ پاکستانی ٹی وی ڈرامے اس لیے کامیاب ہیں کہ ان کے لیے پڑھے لکھے دانشور لوگ کام کرتے ہیں ۔ ان کے ہدایت کار شائستگی کا خیال رکھتے ہیں ، ان کی پروڈکشن پر بھی خطیر رقم خرچ نہیں ہوتی اس کے باوجود ٹی وی ڈرامے کامیاب ہیں۔ پاکستانی فلم میں نہ کہانی مضبوط ہوتی ہے نہ ہدایت کاری ۔ ڈائیلاگ میں ابتذال کا سہارا لیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ لوگ یہی پسند کرتے ہیں۔'' لوگوںکی پسند'' کا تعاقب کر کے فلم کا معیار پست ہو گیا حالانکہ پاکستان میں بھی اچھی اور معیاری فلمیں بنی ہیں ۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بھارتی فلموں کی درآمد سے پاکستانی فلم انڈسٹری پر کوئی اچھا اثر پڑے گا۔ فلم ایک ایسی کھڑکی ہے جس سے کسی معاشرے کی ثقافت ، رویے اور معاملات کو دیکھنے کے زاویہ نظر کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی فلمیں بھارتی نقطۂ نظر' بھارتی رویہ اور بھارتی ثقافت پاکستان میںلائیں گی اور پاکستانی نوجوانوں کو اس کی طرف راغب کریں گی۔ بھارتی معاشرے کا اپنا معیار مسرت ہے۔ مذہب، ثقافت کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہے جس کا اظہار بھارتی فلموں میں بھی ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ کئی ہزار سال تک بھارت اور پاکستان کے لوگ ایک ہی سرزمین پر رہتے رہے ہیں لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ان کئی ہزار سال کے دوران ایک ہی خطے میں مسلمان اور بھارت کے غیر مسلم اپنے اپنے مذہب ' اپنی اپنی ثقافت اور اپنے اپنے رہن سہن کے مطابق الگ الگ زندگی گزارتے رہے ہیں۔ اصل سوال پاکستان کی ثقافت کی پہچان ہے جس کا دارومدار معیار مسرت کی دریافت پر ہے۔ اس پر آئندہ نشست میں بات ہوگی۔

متعلقہ خبریں