Daily Mashriq

طلبہ یونینز کی بحالی ایک موہوم امید

طلبہ یونینز کی بحالی ایک موہوم امید

کی تاریخ بتاتی ہے کہ فوج کی براہ راست حکمرانی اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ثابت ہوئی۔ بحرانوں اور آویزش کو ختم کرنے کے نام پر برسراقتدار آنے والے غیر منتخب حکمران جب پردے سے ہٹ گئے تو اندازہ ہوا کہ غیر منتخب حکمرانی کی تہہ میں ایک بحران پلتا رہا ہے ۔ان حکمرانوں کو اپنے اقتدار میں ایک مخصوص کلچر پسند ہوتا ہے ۔وہ کلچر ہے سکوت ِمرگ،قبرستان جیسی خاموشی ۔طلبہ چونکہ گرم خون رکھتے ہیں اور رگوں میں دوڑتا ہوا لہو درحقیقت بے چین انقلاب ہوتا ہے۔جو زمانوں کو اُلٹ پلٹ اور سب کچھ تہس نہس کردینا چاہتا ہے۔اس لہو کو پابندیاں راس اور گوارا نہیں ہوتیں۔یہ ہر دم مچلتا تڑپتا ہے ۔اس طرح غیر منتخب حکمران یا آمر کی پہلی نظر معاشرے کی جن زندہ ومتحرک قوتوں کی طرف معاندانہ انداز میں اُٹھتی ہے طلبہ اور نوجوان طبقہ اس میں سرفہرست ہوتے ہیں۔دونوں کی ضرورتیں اور تقاضے دو نوں کو بہم ایک نہیں ہونے دیتے ۔ پاکستان کے فوجی حکمران معاشرے کی اس متحرک قوت کو زنجیر کرنے کے لئے جانے کب سے گھات لگائے بیٹھے تھے مگر جنرل ضیاء الحق کے دور میں طلبہ تنظیموں اور یونین سازی پر پابندی کی خواہش کا یہ تیر چلا ہی دیا گیا ۔ جس کے خلاف ملک میں شدید ردعمل ہوا اور جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کی بنیادیں اس احتجاج کے باعث ہل کر رہ گئیں۔بعد میں جمہوریت تو بحال ہوئی مگر طلبہ یونین سازی کے حق سے محروم ہو گئے ۔ اب سینیٹ میں طلبہ کو یونین سازی کے حق میں کچھ توانا آوازیں بلند ہو نے لگی ہیں ۔ایک خبر کے مطابق چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں ہونے والے سینیٹ کی فل ہائوس کمیٹی کے اجلاس نے طلبہ یونیز پر پابندی کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے یونینز کی بحالی کے لیے قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔طلبہ یونینز کی بحالی کی قرارداد دو ہفتوں میں تیار کی جائے گی ۔سینیٹ کی فل ہائوس کمیٹی نے کہا کہ طلبہ تنظیموں پر پابندی عدالت کے 1993ئکے ایک فیصلے کے تحت عمل میں لائی گئی تھی لیکن عدالت کا فیصلہ پارلیمان کو قانون سازی سے نہیں روک سکتا ۔حکومت یونیز کی بحالی کے معاملے میں عدالت کے پیچھے چھپ رہی ہے ۔سینیٹ کی طرف سے طلبہ یونیز کی بحالی کے لئے آگے بڑھ کر اقدامات کرنے کا رویہ اس لحاظ سے اچھا ہے کہ ملک بری طرح ڈی پولیٹسائز ہو کر رہ گیا ہے ۔ملک اور معاشرے کے ڈی پولٹیسائز ہونے کے عمل کا آغاز پہلے مارشل لاسے ہوگیا تھا ۔کسی بھی آمر کی پہلی خواہش اور ضرورت عوام کے اندر سے سیاسی شعور کو کھرچنا ہوتی ہے۔باشعوراور بیدار عوام اور معاشرہ آمر کو کھٹکتے ہیں ۔آمریت جس کلچر کی نمائندہ ،ترجمان اور مظہر ہوتی ہے اس کا بنیادی تقاضا فرد واحد کی وفاداری یا چند افراد کے نام پر ایک حکمران اشرافیہ کی اطاعت اور فرماں برداری ہوتاہے ۔سیاست شعور انسانی کے پھلنے پھولنے کا نام ہوتی ہے۔اس لئے آمر ان تمام اداروں کا گلہ گھونٹنا اپنا فرض عین سمجھتا ہے جن سے حریت فکر کے چشمے پھوٹتے ہیں ۔طلبہ یونیزکا شمار بھی ان اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملک میں سیاسی شعور کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ طلبہ سیاست نے ملک کو کئی بڑے نام دینے کے علاوہ ملک میں سیاسی شعور کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ماضی کی طلبہ سیاست اور یونینوں سے اُبھرنے والے کئی معتبر نام آج بھی ملکی سیاست میں سرگرم ہیں ۔ان میں اکثر لوگ مڈل کلاس ہیں ،محنتی او ر دیانت دار ہیں ۔طلبہ تنظیموں اور یونین سازی پر پابندی کے بعد سے مڈل کلاس کے سیاست میں آگے آنے کا عمل رک گیا اور سرمایہ دار سیاست میں غلبہ حاصل کرنے لگے ۔ سیاست میں ''شارٹ کٹ ''پر یقین رکھنے والے آگے آتے گئے ۔سرمایہ داروں کے بعد اگر کوئی سیاست میں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا وہ اچھا منیجر تھا جسے عام فہم زبان میں کاری گر کہا جاتا ہے ۔اسی لئے پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے ادوار میں اچانک کچھ غیر مانوس اور اجنبی چہرے منظر پر اُبھرتے رہے ہیں اور پھر پوری حکومت پر ان کا کنٹرول اور اثر رسوخ بہت سوں کو حیران کردیتا رہا ہے ۔یہ کاری گری کا کمال ہوتا ہے ۔ معاشرے کے متحرک اور زندہ طبقات پر پابندیاںعوام کو ڈی پولیٹسائز کرتی ہیں۔لوگ پہلے سیاست سے اور بعدازاں ملکی اور معاشرتی معاملات سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔یہ لاتعلقی آگے چل کر بے حسی میں ڈھل جاتی ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آمریت کی پابندیوں کو کسی جمہوری حکومت نے ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اب اگر سینیٹ جیسے جمہوری ایوان نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ خوش آئند ہے ۔امید ہے جمہوری حکومت بھی سب سے بڑے جمہوری ایوان کی رائے کے عین مطابق طلبہ تنظیموں کو کچھ قواعد او ضوابط کے تحت بحال کرنے کی طرف پیش رفت کرے گی۔طلبہ یونینوں کی بحالی کا صاف مطلب یہ ہے کہ طلبہ تنظیموں کو تعلیمی اداروں میںد وبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کا موقع مل جائے گا۔طلبہ تنظیموں کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ اب سردجنگ کا زمانہ نہیں رہا ۔اب معاشرے کی ضرورتیں اور وقت کے تقاضے بدل گئے ہیں ۔تعلیمی مقابلے اور مسابقت ہر بات پر غالب آگئی ہے۔اس لئے آج کا طالب علم سیاست برائے سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔طلبہ تنظیموں کو کام کرنے کا موقع ملے توانہیںیونین سازی کے عمل کو بے مقصد سیاسی سرپھٹول میں ضائع کرنے کی بجائے نوجوان نسل کی قائدانہ صلاحیتوں کو اُبھارنے کی خاطر استعمال کرنا چاہئے ۔

متعلقہ خبریں