Daily Mashriq


ذکر مردان کی علاج گاہوں کا

ذکر مردان کی علاج گاہوں کا

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ایک پرائیویٹ چینل پر اسی چینل کے عملے کی مردان میڈیکل کمپلیکس پر چھاپے یا دھاوے کی آپ اسے کوئی نام بھی دے سکتے ہیں تفصیلات بتائی جا رہی تھیں۔ پروگرام کے میزبان بڑے تیز و تند الفاظ میں ہسپتال کی غیر تسلی بخش کارکردگی کو نمایاں کررہے تھے۔ پروگرام میں مختلف وارڈز کی حالت زار کا نقشہ پیش کیا جا رہا تھا۔ بیڈز پر پڑے مریضوں کے تاثرات پوچھے گئے۔ مختلف وارڈز میں ڈیوٹی سے غائب عملے کی نشاندہی کی گئی۔ میڈیکل کمپلیکسکے منتظم اعلیٰ اپنے طور پر ہسپتال میں طبی سہولتوں کے فقدان کی توجیہات بیان کر رہے تھے۔ اس سنسنی خیز پروگرام کو ہم نے بھی بڑی دلچسپی سے دیکھا۔ ہم ہسپتال میں مریضوں کو درپیش مسائل سے انکار نہیں کرتے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان مسائل کی ساری ذمہ داری ہسپتال کے عملے پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ ہسپتالوں پر پرائیویٹ ٹی وی چینل کے چھاپوں سے ایک سنسنی خیز قسم کا پروگرام تو تیار کیا جاسکتا ہے۔ ہسپتال کے منتظم اعلیٰ کو عوام کی عدالت میں کھڑا کرکے ان سے پوچھ گچھ تو کی جاسکتی ہے لیکن اس نوع کے پروگرام طبی سہولتوں کے فقدان کا مستقل حل نہیں بن سکتے۔ ہمیں ماننا چاہئے کہ سرکاری علاج گاہوں کاعملہ سرکار کی جانب سے فراہم کئے جانے والے محدود فنڈز میں وہ جو پشتو میں کہتے ہیں للو پتو کرتے رہتے ہیں۔ مردان اس وقت آبادی کے لحاظ سے صوبے کا دوسرا بڑا شہر ہے اور یہاں کی شہری آبادی 7لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ یہاں فی الوقت دو بڑے ہسپتال ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تقسیم سے قبل قائم کیا گیا تھا اور اس وقت کی محدود آبادی کے لئے کافی تھا۔ میر افضل خان جب وزیر اعلیٰ بنے تو ان کی کاوشوں سے شیخ ملتون کے قریب جدیدطبی سہولتوں سے آراستہ میڈیکل کمپلیکس کی بنیاد رکھی گئی اور گزشتہ اے این پی کے دور میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر مردان کی بوسید عمارت کی از سر نو تعمیر کے لئے 5ارب کی خطیر رقم فراہم کی گئی۔ ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ موجودہ چیف ایگزیکٹو کے پہلے دور حکومت میں مردان میڈیکل کمپلیکس کی ضروری مشنری ایبٹ آباد منتقل کردی گئی تھی کیونکہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کا تعلق وہاں سے تھا۔ اس وقت مردان کا یہ میڈیکل کمپلیکس شنید ہے 300 بیڈز پر مشتمل ہے جو بالیقین 7لاکھ کی آبادی کے شہر کی طبی ضروریات کے لئے کسی طور بھی کافی نہیں۔ سرکار نے کچھ عرصہ پہلے صوبے کے کچھ ہسپتالوں کو بورڈ آف گورنرز کے تحت چلانے کا تجربہ کیا ہے جو عملاً ناکام ہوچکاہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں طبی سہولتوں میں بہتری پیدا ہو نے کی بجائے علاج معالجے کی سہولتوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ طبی شعبے میں اصلاحات کے نام پر صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ ہسپتالوں سے گلو خلاصی کی بجائے اگر صوبائی حکومت موجودہ ڈھانچے کے اندر ان میں بہتری لانے کی کوشش کرتی تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔ شنید ہے کہ ہسپتالوں کو بورڈز آف گورنرز کے حوالے کرنے کی وجہ سے بہت سے تجربہ کار معالج ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس سے مریضوں کے لئے مزید دشواریاں پیدا ہو جائیں گی۔ نت نئے تجربوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ان کے لئے سنجیدہ اقدامات ضروری ہوتے ہیں جس کے لئے ہسپتالوں کو ان کی ضروریات بروقت فنڈز کی فراہمی ' تجربہ کار طبی عملے کی تعیناتی سے ہی مریضوں کی شکایات کا ازالہ ممکن ہوسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ روزانہ مردان میڈیکل کمپلیکس کے کم و بیش ہر وارڈ میں ایک انچارج سینئر ڈاکٹر اور اس کا ایک ماتحت جونیئر ڈاکٹر ہزاروں کی تعداد میں مریضوں کو نمٹانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ مردان میڈیکل کمپلیکس کے پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کے کارندوں سے ہمیں جان کر حیرت ہوئی کہ وہ روزانہ کم و بیش 500 مریضوں کے لیبارٹری ٹیسٹ کرتے ہیں جو اس شعبے کے گنتی کے چند ٹیکنیشن کے لئے مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔ 

500مریضوں کے اوسطاً ایک ہزار لیبارٹری ٹیسٹ انسانی طور پر اس نا ممکن کام کو پیتھالوجی کا عملہ پوری دیانتداری سے ممکن بنانے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتا ہے اور مریضوں کو بھی ان کی کارکردگی سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔ پیتھالوجی کے شعبے کی اس مثال سے مردان میڈیکل کمپلیکس کے تمام طبی شعبوں میں معالجین کی مشکلات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان مشکلات کا حل نہ تو ہسپتالوں پر پرائیویٹ چینلز کے چھاپوں سے حاصل کیاجاسکتاہے اور نہ بورڈ آف گورنرز کے تجربے سے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی مشکلات کم ہوسکتی ہیں۔ اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ سالانہ بجٹ میں ہسپتالوں کی ضرورت کے مطابق فنڈز کی فراہمی اور مریضوں کی تعداد کے مطابق دیگر سہولیات سے ہی سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ہاں البتہ اگر ہمارے معالج دوست مریضوں کو جینوئن دوائیں تجویز کریں اورمردان میڈیکل کمپلیکس کے باہر سڑک کو کار پارکنگ والوں سے وا گزار کرا دیا جائے تو یہ ہسپتال کے منتظم اعلیٰ کی ایک اضافی مہربانی ہوگی۔ بہر حال ان مسائل پر ہم کسی دوسری نشست میں بات کریں گے۔

متعلقہ خبریں