Daily Mashriq

خاموش لوگ بلا کے خطیب ہوتے ہیں

خاموش لوگ بلا کے خطیب ہوتے ہیں

دنیا میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک وہ جو تقریر کرنا جانتے ہیں اور ایک وہ جنہیں تقریر کرنانہیں آتی یا لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے انہیں خوف محسوس ہوتا ہے۔ وہ لوگ جنہیں تقریر کرنا آتی ہے یا آپ اپنی سہولت کے لیے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جنہیں تقریر کرنے کا شوق ہوتا ہے انہیں تو بس سٹیج پر بولنے کا موقع چاہیے ہوتا ہے۔ یہ جب ایک مرتبہ شروع ہوتے ہیں تو پھر رکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ہمارے ایک مہر بان اس حوالے سے اچھی خاصی شہرت کے مالک ہیں صاحب مطالعہ ہیںپڑھتے پڑھتے علمی بدہضمی کی تمام حدود پھلانگ چکے ہیں۔وہ جب بولنے پر آتے ہیں تو بس بولتے ہی چلے جاتے ہیں ان کی باتیں سن کر علم میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے مگر وہ جو کہتے ہیں کہ جب ایک چیز اپنی حد سے بڑھ جائے تو پھر وہ اپنی ضد میں تبدیل ہوجاتی ہے کچھ دیر تک تو ان کی باتیں بہت لطف دیتی ہیں لیکن جب وہ بغیر رکے بولتے ہی چلے جاتے ہیں تو سننے والے بور ہونے لگتے ہیں۔ بوریت بھی عجیب چیز ہے اس کا اظہار مختلف لوگ مختلف طریقوں سے کرتے ہیں آپ نے بڑے بڑے سیمینارز میں اس قسم کے مناظر بہت دیکھے ہوں گے کہ مقرر صاحب تو دل و جاں کی ساری توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ارسطو و افلاطون کی روحوں کو لرزا رہے ہوتے ہیںلیکن یار لوگ بڑے مزے سے آپس میں گپ شپ کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں ۔ہمارے خیال میں یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مقرر کو اپنی تقریر ایک خوبصورت موڑ پر ختم کردینی چاہیے۔ بعض علمی تقریبات میں سٹیج پر آکر طویل مقالے پڑھنے ہوتے ہیں۔ اب ایک صاحب موٹے شیشوں کی عینک لگائے ایک انتہائی سنجیدہ اور خشک موضوع پر مقالہ پڑھ رہے ہیں نظرکچھ زیادہ ہی کمزور ہے اس لیے مقالے کے صفحات بالکل نگاہوں کے قریب لا کر اپنی منحنی سی آواز میں مقالہ پڑھا جارہا ہے۔ اب مقالہ بھی سنجیدہ اور خشک ہو اور اوپر سے پڑھنے والا بھی بغیر کسی اتار چڑھائو کے یکسانیت سے پڑھ رہا ہو اور پھر مقرر کاحاضرین کے ساتھ eye contactبھی نہ ہو تو حاضرین پر جو کچھ گزرتی ہے بس وہی جانتے ہیں۔کچھ دیر بعد ہال میں لوگ آہستہ آہستہ ایک دوسرے کی طرف جھک کر سرگوشیاں شروع کردیتے ہیں انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مقالہ پڑھنے کے دوران آپس میں بات چیت کرنا خلاف تہذیب ہے اس لیے وہ تبادلہ خیال میں احتیاط برتتے ہیں۔ لیکن جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ صاحب مقالہ صفحات سے نظریں اٹھائے بغیر اپنی رو میں بہے چلے جارہے ہیں تو اب ہال میں مکھیوں کی بھنبھنا یٹ اور تیز ہوجاتی ہے۔ ہمیں حیرانی صاحب مقالہ کی محویت اور یکسوئی پر ہوتی ہے کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ وہ ہال میں موجود لوگوں کو سنا رہے ہیں یا خود ہی پڑھ اور سن کر اپنے لکھے ہوئے سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

اب ایک اور چلن بھی عام ہور ہا ہے۔ انتظامیہ صاحب مقالہ کو کہہ دیتی ہے کہ وقت کی کمی کے پیش نظر آپ اپنے مقالے کے چیدہ چیدہ حصے سنا دیجیے۔ اس کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ لوگ مقالے کے اہم نکات پوری توجہ سے سن لیتے ہیںویسے اپنے لکھے ہوئے یا اپنی تخلیق کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے میں جو لطف آتا ہے وہ اہل نظر ہی جانتے ہیں۔شاعر حضرات جس ذوق و شوق سے اپنا کلام احباب کے گوش گزار کرتے ہیں حیرت ہوتی ہے۔ ایک واقعہ اس حوالے سے سننے کو ملتا ہے کہ ایک شاعر صاحب کی ایک شاگرد سے سر راہ ملاقات ہوگئی استاد اور شاگرد دونوں شاعر تھے استاد صاحب نے آئو دیکھا نہ تائو اپنے شاگرد کو اپنی ایک تازہ غزل سنادی شاگرد نے استاد کا کلام بڑے صبرو تحمل سے سنا(صبرو تحمل سے اس لیے کہ شاعر کلام سنتے نہیں ہیں بس اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں) اور پھر اللہ دے اور بندہ لے شاگرد نے جو غزلوں کی چاند ماری کی تو استاد صاحب کو مجبوراًجوتے ہاتھ میں اٹھا کر وہاں سے کچھ اس طرح بھاگنا پڑا کہ آگے آگے استاد اور پیچھے پیچھے شاگرد! ایسے واقعات میں صداقت نہ بھی ہو تو یہ کسی بات کا مفہوم سمجھانے میں اچھے خاصے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اب تھوڑا سا تذکرہ ان لوگوں کا بھی ہوجائے جو کم گو ہیں جنہیں تقریر کرتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے جو اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں ویسے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ چپ رہنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے جو لوگ بظاہر خاموش نظر آتے ہیںوہ دراصل اپنے ساتھ بات چیت کر رہے ہوتے ہیںخاموش لوگ بلا کے خطیب ہوتے ہیں۔ وہی اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے والی بات ہوتی ہے۔ مرد حضرات میںکم گو تو بہت مل جاتے ہیں لیکن خواتین میں کم گوئی تو کالے گلاب کی طرح نایاب ہے ایک دن ہمارے ایک مہربان ہم سے بڑے افسوسناک لہجے میں یوں گویا ہوئے : یار زندگی کا ساتھی کم گو ہو تو زندگی عذاب ہوجاتی ہے!آپ کی بھابھی کی کم گوئی کا یہ عالم ہے کہ پچیس برس سے ہم ایک دوسرے کے جیون ساتھی ہیں اگر کہو تو اس کے بولے ہوئے گنتی کے چند جملے ابھی لکھ کر بتادوں! جب ہنی مون پر گئے تھے تو اس وقت یہ خیال آیا تھا کہ ابھی ازدواجی زندگی کا آغاز ہے کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں! مگر کم گوئی کا طلسم ٹوٹنے ہی نہیں پاتا۔ہم نے بڑی حسرت کے ساتھ ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ کی قسمت پر رشک آتا ہے کہ آپ ایک عدد کم گو بیوی کے شوہر ہیں!

متعلقہ خبریں