Daily Mashriq


وجہ کیا ہے؟

وجہ کیا ہے؟

دنیا کے جس خطے میں پاکستان واقع ہے، اس کو انگریز سونے کی چڑیاکہا کرتے تھے۔یہ خطہ کل بھی سونے کی چڑیا تھی اور آج بھی ہے۔ مگر اس کے باشندے کل بھی غربت زدہ، افلاس کے مارے اور لاچار تھے اورلمحہ موجود میں بھی حالات میں کچھ زیادہ تبدیلی نظرنہیں آتی۔ لگ بھگ آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر محیط پاکستان دنیا کے بیشتر ممالک سے رقبے میں بڑا ہے۔ اس کی زراعت مثالی ہے اور یہ دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں سے بھی ایک ہے جہاں بہترین نہری نظام موجود ہے۔ دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے بھی پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا اور عالمِ اسلام کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ چاول کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے دس بڑے ملکوں میں سے ایک اور چاول برآمد کرنے والے ممالک میں دنیا بھر میں تیسرے نمبر پرہے۔ گیس کی پیداوار کے لحاظ سے چھبیس ویں نمبر پر ہے۔سستے لیبر کیلئے دنیا میں اگر تیسرے نمبر پر ہے تو پھلوں کے بادشاہ آم کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا بھر میںپاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ کاٹن کی پیداوار کے لحاظ سے بھی چوتھے نمبر پر ہے۔ نمک کی پیداوار میں ہمارا نمبر بائیسواں ہے۔ دنیا میں بلند ترین چوٹیوں کے لحاظ سے ہم دوسرے نمبر پر ہیں اور اسی طرح ان پہاڑوں میں صاف پانی کے ذخائر اور پھر اس سے بجلی بنانے کے امکانات لامتناہی اگر نہیں تو بے شمار ضرور ہیں۔ یہ وہ پاکستان ہے جو ہمیں ملا تھا ۔ اصل پاکستان اور وسائل سے مالا مال پاکستان۔لیکن ان تمام وسائل کے با وجود بجائے اس کے کہ ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہوں ۔پتہ نہیں کیوں آگے کی بجائے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ میں مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا اور نا ہی نا امیدی پر یقین رکھتا ہوں ۔ مگر بڑے بڑے ڈیموں اور پانی کے بہترین وسائل کے باوجود مملکتِ خداداد میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے۔ بجلی کی تو خیر بات ہی چھوڑئیے۔پینے کے پانی کا جو حال ہے وہ تو بیان کرنا محال ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جن میں زیادہ تر لوگوں کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں، پاکستان کا نمبر پانچواں ہے۔جس کی وجہ سے پھیلنے والی خطرناک بیماریوں سے ہر سال لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ہر سال کروڑوں خرچ کر کے بھی سب سے زیادہ ناخواندہ ممالک میں ہمارا نمبر ستائیسواں ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں سات سے سولہ سال تک کی ان بچیوں کی شرح کم و بیش ساٹھ فیصد ہے جو سرے سے سکول جاتی ہی نہیں۔ دعویٰ تو ہم ایک زرعی ملک ہونے کا کرتے ہیں لیکن حال یہ ہے کہ اگر گنے کی پیداوار زیادہ ہوجائے تو پھر گندم ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اور اگر گندم زیادہ اگائیں تو پھر چینی ناپید ہو جاتی ہے۔ دودھ اور غذائی اجناس میں ایک طرف ملک کی پیداواری صلاحیت کو دیکھیں اور دوسری طرف ان کی قیمتیں توشبہ ہونے لگتا ہے تا ہے کہ ہم یہ چیزیں خود پیدا کر رہے ہیںیا باہر سے منگوا رہے ہیں۔ اور پھر یہ سوال کہ کیا ہماری پی آئی اے اب بھی لاجواب ہے، کیا ہمارے ریلوے کسی یورپی ملک کے سو سالہ پرانی ریلوے کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ کیا ہماری سٹیل مل آج بھی اسی طرح ہے جس طرح کہ چند عشرے پہلے تھی۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔یہ تو ایک زاویہ ہے ، آگے جاتے ہیں اور سوچ کے دائرے کو تھوڑا وسیع کرکے عالمی برادری اور خصوصاً پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں جھانکتے ہیں تو تصویر اوربھی خراب دکھائی دینے لگتی ہے۔چند عشرے پہلے عالمی برادری اور پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کیسے تھے اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ جس خطے کا امن مثالی تھا،آج اس کی بد امنی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔سائنسی میدان میں کل کہاں تھے اور آج کہاں۔ہاکی میں ایک وقت تھا کہ ہمارے گول میں بال پھینکنا مخالفوں کے لئے جوئے شیر لانے کے برابر تھا، آج کی حالت سب کے سامنے ہے۔ کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم آج اس حالت کو پہنچ گئی ہے کہ آئندہ ورلڈ کپ میں حصہ لینے کی اہل ہوگی یا نہیں۔اسی طرح سکواش، فلم انڈسٹری اور درجنوں دوسری چیزیں جن میں کبھی ہم رستم ِ زماں تھے، آج اگر راندہ رگاہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ رہی بات سیاست کی تو آج کل اس کی حالت دیکھ کر دیگر چیزوں کی حالت پر شکر ادا کرنے کو دل چاہتا ہے۔ جس میدان میں کبھی منطق، دلیل اور عقل کو برتری حاصل تھی، آج اس میں الزام تراشی، کردار کشی اور عدم برداشت کا بول بالا ہے۔ ساری صورتحال اور ماضی اور حال کی تصویر آپ کے سامنے ہے۔ کچھ بھی نہیں کر سکتے تو چلیں ایک سوال اٹھاتے ہیں کہ اتنے وسائل اور سب کچھ ہونے کے باوجود ہماری حالت اتنی خراب کیوں ہے۔یا جیسا کہ پشتو میں کہتے ہیں کہ '' د لوڑی نہ پہ داو ولی یو''۔ ہم گلہ کرتے اور نہ کوئی بات دل پہ لیتے اگر ہمارے بعدبننے والے یا آزادی حاصل کرنے والے ممالک ہم سے آگے نہ نکل گئے ہوتے ۔ آخر کون سی چیز ہے جو ہمیں روک رہی ہے۔ ہماری کونسی غلطی یا کوتاہی ہے جو ہمیں دن بہ دن پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ سوال اگر چہ مشکل ہے لیکن اگر اربابِ اختیار عارضی پالیسیوں کے بجائے مستقل پالیسیوں کو اپنائیں ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دیںاور منصوبوں اور سوچ میں تسلسل لائیں تو وہ دن دور نہیں جب ہم نہ صرف اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لیں گے بلکہ دوسروں کے لئے مثال بھی بن جائیں گے۔اور اگر سنجیدہ روئیے سے احتراز برتاگیااور وقت سے کچھ سیکھا نہیں تو خدا نخواستہ ہمارے ہاتھ افسوس کے سِوا کچھ نہیں آئیگا۔

متعلقہ خبریں