Daily Mashriq


’’ووٹ دو گھر لو‘‘

’’ووٹ دو گھر لو‘‘

ایک معاصر نے سابق وزیر عظم نواز شریف کی جڑانوالہ میں جلسہ عام سے تقریر کی خبر پر سرخی جمائی ہے ’’اب لوگوں کو گھر دیں گے۔‘‘ متن میں کہا گیا ہے کہ ہم نے عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا میرے دور میں ڈرون حملے ختم ہو گئے تھے اب پھر شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں لوگوں کو باعزت روز گار ملے گا۔ روشنیاں لوٹ آئیں گی‘ توانائی کا بحران قصہ پارینہ ہو جائے گا۔ ہر شخص کو اپنا گھر اور ذاتی چھت دیں گے جس کے پاس رہنے کے لیے گھر نہیں اور وہ کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبور ہے۔ ان مکانات کے مالکانہ حقوق کے بدلے وہ انتہائی کم رقم بصورت قسط مقرر کریں گے تاکہ جس طرح کوئی شخص اپنے مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے اسی طرح وہ کوئی اضافی رقم ادا کیے بغیر کرائے کی رقم بطور قسط جمع کروا کر مکان کی ملکیت کا حق دار ہو گا۔میاں نواز شریف نے تین بار وزیر اعظم رہنے کے بعد بے گھروں کو مکانوں کا مالک بنانے کی سکیم کا اعلان کیا ہے۔ یہ سکیم پہلے بھی حکومت کے سامنے پیش کی جا چکی ہے ۔ خاص طور پر اسلام آباد کے سرکاری مکانوں کے رہائشی ایسی سکیمیں پیش کرتے رہے ہیں۔ لیکن ایسی سکیموں پر کیوں عمل درآمد نہ ہو سکا یہ وجوہ معلوم نہیں۔ البتہ اب میاں صاحب نے کہہ دیا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کی حکومت ایک بار پھر بنی تو اب کے وہ کرائے کے برابر قسط پر بے گھر لوگوں کو مکان دیں گے۔ اس کے لیے انہوں نے شرط یہ ظاہر کی ہے کہ عام انتخابات میں ان کی پارٹی کو عوام ووٹ دیں اور ان کی پارٹی کی حکومت بنے۔ اگر یہ وعدہ ہے تو بہت بڑا وعدہ ہے۔ بہرحال میاں صاحب نے بے گھر عوام کو پیش کش کر دی ہے کہ عام انتخابات میں ان کی پارٹی کی فتح یقینی بنائیں تو انہیں گھر فراہم کرنے کی سکیم پرعمل ہو گا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اب تک ایسی کسی سکیم پرکیوں عمل نہیںہو سکا حالانکہ ایسی کوئی سکیم ہر بے گھر کی خواہش رہی ہے اور بار بار میڈیا میںایسی تجاویز آتی رہی ہیں۔ فرض کیجئے ایسی کوئی سکیم بنائی جاتی ہے تو اس کے لیے بہت دوررَس سوچ بچار کی ضرورت ہو گی ۔ یہ اعداد و شمار دستیاب نہیں کہ اس وقت پاکستان میںکتنے فیصد لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہیں اور کتنے کرائے کے مکانوں میں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ بے گھروں کی تعداد روز بروز بڑھتی جائے گی۔ جو لوگ دیہات سے آ کر شہروں میں ملازمت کرتے ہیں ان کی خواہش ہو گی کہ ان کا گھر شہر میں بھی ہو اور کرائے کے برابر قسط میں اس مکان کی ملکیت انہیں حاصل ہو جائے ، اس طرح ہر سال نئے مکانوں کی ضرورت بڑھتی جائے گی۔ اگرچہ یہ ناممکن نظر نہیں آتا لیکن یہ سوال اہم نظر آتا ہے کہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں اور مسلم لیگ ن کے پچھلے تین ادوار میں بھی تو مکانوں کا مسئلہ بہت شدید رہا ہے ‘ ان ادوار میں کیوں ایسی کوئی سکیم رائج نہ ہو سکی۔ کیا میاں صاحب کی آئندہ حکومت کے سامنے بھی وہ مشکلات اور مسائل آئیں گے جو ان سے پہلے کی حکومتوں کو پیش آتے رہے ہیں؟ ۔ میاں صاحب نے اس سکیم پر لوگوں کو قائل کرنے کے لیے بتایا ہے کہ اس سے پہلے جو وعدے انہوں نے کیے تھے وہ پورے کیے ہیں۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی ہے ، لیکن سب جانتے ہیں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان سارے ملک کے لیے نہیں کیا گیا ہے۔ اس اعلان سے وہ علاقے مستثنیٰ ہیں جہاں کے لوگ حکومت کے قول کے مطابق بجلی کے بل ادا نہیںکرتے۔ دوسرے یہ اعلان سردی کے موسم میں کیاگیا ہے جب پنکھے اور ایئر کنڈیشنز استعمال نہیںہوتے اور بجلی کی کم کھپت ہوتی ہے۔ تیسرے بجلی کی پیداوار میں جس اضافے پر انحصار کیا گیا ہے وہ بجلی تیل ‘ گیس اور کوئلے سے بنائی جائے گی جس پر پن بجلی‘ ہوا بجلی اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی سے کہیں زیادہ مسلسل خرچ آتا ہے ۔ اس طرح یہ بجلی صارفین کو زیادہ قیمت پر ملے گی۔ جب کہ خیبر پختونخوا کے تیز رفتار پانیوں میں بجلی پیدا کرنے کے متعدد کارخانے لگائے جا سکتے ہیں اور پن بجلی یقینا سستی پڑتی ہے۔ میاں صاحب نے ایک طرف کہا ہے کہ اگر ان کی پارٹی ایک بار پھر برسرِاقتدار آئی تو بے گھروں کو گھر دے گی لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ اگلا الیکشن پاکستان کے لیے ریفرنڈم ہو گا ‘ اگر یہ ریفرنڈم ہو گا تو اس میں سوال کیا ہو گا جس پر عوام سے رائے لی جائے گی۔ کیا ریفرنڈم کا سوال بے گھروں کے لیے گھر بنانے کی سکیم کے سوال پر ہوگا۔ ریفرنڈم میں ملک کے بالغ شہریوں سے کوئی ایک سادہ سوال پوچھا جاتا ہے جس پروہ ہاں یا ناں کی صورت میں ووٹ دیں۔ لیکن میاں صاحب آئندہ الیکشن کو ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میاں صاحب کی پارٹی آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو گئی تو وہ اسے اپنے کسی بھی دعوے کو ریفرنڈم کا فیصلہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کر سکے گی۔ ریفرنڈم کسی عدالتی فیصلے کو بدلنے کے لیے نہیں ہوتا۔ عدالتی فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہوتے ہیں ‘ یہ ووٹ سے متاثر نہیں ہوتے۔ میاں صاحب نے وعدے پورے کرنے کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے دور میں ڈرون حملے بند ہو گئے تھے جو اب پھر شروع ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ دور بھی تو انہی کی پارٹی کا اور ان کا اپنا ہی ہے۔ خود وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ اصلی وزیر اعظم تو نواز شریف ہی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میاں صاحب کے نزدیک ان کی اپنی ذات ہی پارٹی ہے ۔ جہاں تک ڈرون حملے رکنے کی بات ہے تو ایسا کوئی معاہدہ ماضی میں نظر سے نہیں گزرا جس میں ڈرون حملے نہ ہونے کو میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے مشروط کیا گیا ہو۔

متعلقہ خبریں