Daily Mashriq


کابل میں دہشت گردی کے اندوہناک واقعات

کابل میں دہشت گردی کے اندوہناک واقعات

کابل میں دہشت گردی کی ایک اور اندوہناک واردات ہوئی ہے جس میں شہر کے سفارتی علاقے میں خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے لدی ہوئی ایمبولینس گاڑی کو وزارت داخلہ کے دروازے پر دھماکے سے اُڑا دیا۔اس دھماکے میں ایک سو کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے اور ایک سو ساٹھ کے قریب زخمی بتائے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبان نے اس سنگین واردات کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حکومت پاکستان نے اس بہیمانہ دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ دھماکہ چند دن کے دوران کابل میں دہشت گردی کی دوسری بڑی واردات ہے۔ چند دن پہلے کابل کے ایک ہوٹل پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس میں مقیم امریکی باشندے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ افغانستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی لہر سنگین مضمرات رکھتی ہے ۔ اس پر پاکستان کی تشویش بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ افغان حکومت یا امریکہ کی ہو سکتی ہے جس کی فوجیں افغانستان میںمقیم ہیں۔ ان دہشت گرد حملوں کا مقصد افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے جو پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی تشویش کا باعث ہے جتنا افغان حکومت یا امریکہ کے لیے کیونکہ افغانستان میں عدم استحکام افغانستان سے باہر سب سے پہلے پاکستان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے حملوں سے پاک افغان تعلقات میں بہتری آنے کی امیدوںکو بھی نقصان پہنچتا ہے کیونکہ افغان حکومت کا فوری ردعمل ان حملوں کے لیے پاکستان میں مبینہ طور پر مقیم افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کی قیادت کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور پاکستان سے یہ غلط توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں کہ پاکستان افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کو زور زبردستی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات اور صلح جوئی پر آمادہ کر سکتا ہے۔ جب کہ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک اگر کوئی ہے تو اس کی اپنی سیاست ہے اور اس کا تعلق افغانستان کے اندر کے حالات سے ہے۔ ایسی ہی توقعا ت پاکستان سے امریکہ بھی وابستہ کرتا ہے حالانکہ افغانستان کے اندر افغان سیاست جو بھی رُخ اختیار کرتی ہے اس میں پاکستان کا کوئی کردار نہیںہے۔ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ افغانستان ایک مستحکم ہمسایہ ہو تاکہ خطے میں امن وامان قائم ہو اور اس امن و امان سے پاکستان بھی مستفید ہو۔ پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام کسی طور پر پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان پر ایسے الزام عائد کرنا کہ افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے افغان مسئلے کو مزید الجھانے اور گمبھیر بنانے کے متراد ف ہے۔ افغان مسئلہ کے حل کی کلید افغانوں کے پاس ہے۔ ان کے ملک میں طرز حکمرانی کیا ہو یہ افغانوںکا اپنا مسئلہ ہے۔ ان کے ملک میں آئین میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں اور کیا لائی جا سکتی ہیں یہ افغان حکومت اور طالبان ہی طے کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ان دونوں عناصر کے ایسے مذاکرات ضروری ہیں جو تادیر جاری رہیں اور جن میں ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لیے تفصیلات کا جائزہ لیا جائے۔ پاکستان ایسی کوشش کر چکا ہے جس کو خود افغان حکومت کے انٹیلی جنس کے ادارے نے سبوتاژ کر دیا۔ پاکستان نے خطے کے ممالک کو بھی افغانستان میں ایسے مذاکرات کی ضرورت پر قائل کیا ہے اور خطے کے ممالک خصوصاً چین نے بھی افغان مسئلہ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام چین کو بھی متاثر کرتا ہے جس کی سرحد افغانستان کے ساتھ ملتی ہے۔ امریکہ کا خطے سے جغرافیائی‘ ثقافتی یا سماجی کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے وہ سات سمندر دور بیٹھ کر خطے کے حقائق کے بارے میں صحیح تفہیم تک نہیں پہنچ سکتا۔ خطے کے حقائق خطے کے اپنے ممالک پر زیادہ واضح ہیں جو ایک دوسرے کے ملکوں کی روایات اور رویوں سے بھی واقف ہیں۔ وہی افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان پل کا کام انجام دے سکتے ہیں۔ افغان حکومت کا اولین فرض افغانستان کو عدم استحکام سے بچانا اور افغان عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ خواہ ان کا تعلق طالبان کے حامیوں یا کسی اور گروپ سے ہو۔ اس لیے اب بین الافغان مذاکرات کے لیے پہل کاری مقامی افغان حکومت کی طرف سے آنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں