Daily Mashriq


اینکرز کے نرغے میں گھری صحافت

اینکرز کے نرغے میں گھری صحافت

دنیا کا سب سے اچھا انسان مسلمان ہے بشرطیکہ وہ صحیح معنوں میں مسلمان ہو۔ آج کے مہذب انسانوں نے بُرے بھلے کی تمیز کے لیے کچھ پیمانے بنائے ہیں جب کہ بحیثیت مسلمان ہمارے معیار ان سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ جدید دنیا میں ہتک عزت کا قانون آج ہمیں دکھائی دیتا ہے اور اس تناظر میں وہاں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا خاصے محتاط ہیں ، دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیغمبر ﷺ نے اس ضمن میں ہمارے لیے ابدی اصول وضع کیا ہے اور چودہ سو برس قبل کہا: ’’بدترین زیادتی کسی مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ ہے۔‘‘ (ابوداؤد) ۔ آج مہذب اقوام کا رواج ہے کہ وہ خبر کی اشاعت سے قبل خوب تحقیق کرتی ہیں لیکن ہم مسلمان ہو کر کیا کرتے ہیں اُس کا ایک نمونہ چند روز قبل ہمارے سامنے آیا جب بنا تحقیق ایک اینکر صاحب نے کچھ انکشافات کیے اور ٹی وی چینلز و اخبارات نے بھی اپنی ذمہ داری نبھانے کی بجائے بغیر جانچ پڑتال کے اس خبر کی نمایاں طور پر نشر و اشاعت کی۔ بحیثیت مسلمان سورہ الحجرات میں ایک اصول ہمارے لیے موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی خوب تحقیق کر لیا کرو۔‘‘ کیا ہم نے یہ تحقیق کرنا گوارا کی اور کیا ہمارے پیش نظر کبھی یہ رہا ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہم پرزیادہ احتیاط برتنے کی ذمہ داریاں عائد ہیں۔ اقبالؒ نے کہا تھا

خرد نے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

معصوم زینب کے قاتل کے جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں نجی ٹی وی چینل کے اینکر نے اپنے پروگرام میں جو انکشافات کیے اس پر پنجاب حکومت اور سپریم کورٹ کا نوٹس لینا تو سمجھ میں آتا ہے مگر اخبارات نے جس طرح ہیڈ لائنز لگائیں اور چینلز پر جس انداز سے پروگراموں اور خبروں میں اس خبر کو کوریج دی گئی اُس کو صحافت کا دیوالیہ پن کہا جا سکتا ہے۔ یہ لکھنے کی بجائے کہ ملزم عمران کے بارے میں نئے انکشافات ہوئے ہیں اور ان کی تحقیق جاری ہے ‘ خبروںکی ہیڈ لائنز ان الفاظ پر مشتمل تھیں۔ ’’بچوں سے زیادتی … عالمی مافیا ملوث‘ وزیر مقامی چیف‘ عمران کے 37بینک اکاؤنٹس‘ قاتل بین الاقوامی گروہ کا رکن‘ دوسرپرست وزراء کے نام عدالت میں پیش وغیرہ وغیرہ‘‘ اگلے دن جب سٹیٹ بینک کی رپورٹ آ گئی تو سب لگے بغلیں جھانکنے۔ سارا مدعااینکر پر ڈال کر سارے بری الذمہ ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ اینکر صاحب کی حرکت اور قومی میڈیا کی ذمہ داری کے حوالے سے مجھے ایک پرانا قصہ یاد آگیا ہے۔کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں ایک تھانیدار تفتیش کے لیے گیا۔ تفتیش کے عمل میں رات ہو گئی۔ تھانیدار صاحب کو ٹھہرانے کا بندوبست ہو گیا تو گاؤں کے میراثی نے کہا تھانیدار صاحب اپنا گھوڑا میری حفاظت میں دے دیں۔ تھانیدار نے پس و پیش سے کام لینا چاہا تو میراثی بولا اپنی جان سے بڑھ کر آپ کے گھوڑے کی حفاظت کروں گا۔ اگر گھوڑے کو کچھ ہو گیا تو آپ مجھے ’’در فٹے منہ ‘‘ کہنا۔ صبح ہوئی تو گھوڑا غائب تھا۔ گاؤں کے چوہدری سمیت سب کے ہاتھوں کے طوطے اُڑے ہوئے تھے۔ سب فکرمند اور پریشان حال کھڑے تھے کہ میراثی تھانیدار سے بولا… صاحب مجھے تو ’’دُرفٹے منہ‘‘ کہو میں تو جاؤں!! اینکر صاحب کو در فٹے منہ کہہ کر کیا اب اُس نقصان کا ازالہ ہو جائے گا جو بحیثیت مجموعی صحافت کو ہوا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی ساکھ کو اینکر صاحب نے جس طرح نقصان پہنچایا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے مگر اخبارات جن کا ادارتی کنٹرول ہمیشہ سخت رہا ہے کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ نے عوام کو ایک جھٹکے سے دوچار کیا ہے۔جہاں تک الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا کردار ہے تو وہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ نیوز چینلز اور چند اینکرز صاحبان اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے الاپ شلاپ بولتے ہیں اور جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ فریڈم آف ایکسپریشن کا استعمال شاید ہی دنیا کے کسی ملک میں یوں ہوتا ہو گا جیسا کہ پاکستان میں دکھائی دیتا ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ ہر کام اور ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ آزادی کی اولین شرط اس کی ’’حد‘‘ ہے ۔ آزادی کا یہ مفہوم کہیں نہیںکہ آپ کے منہ میں جو آئے وہ آپ باہر اُگل دیں۔ قائدہ قانون آخر کس بلا کا نام ہے ‘ ضابطوں کے بغیر تو دنیا کا نظام نہیں چل سکتا لیکن یہاں یہ عالم ہے کہ جس کی مرضی ہو پگڑی اچھال دیں آپ کو پوچھنے اور روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ شریف لوگ کسی جنجال میں نہیںپڑنا چاہتے مگر ریاست نے جو ادارہ اس نظام کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنایا ہے وہ کیا کر رہا ہے؟؟ اُس کی بھی آخر کوئی ذمہ داری بنتی ہے؟ جو اینکر صاحبان ’’ مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ کے بخار میں مبتلا ہو کر اول فول بولتے ہیں ان کو ضابطے اور قاعدے کی گرفت میں لانا از حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کیس اپنی جگہ اہم ہے میں تو اس بہانے مجموعی اصلاح احوال کی بات کر رہا ہوں۔ جو خواتین و حضرات اینکرز کے روپ میں آئے دن ڈرامائی صورت حال پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اور جنہوں نے اپنی ’’مقبولیت‘‘ کے سہارے اپنے میڈیا ہاؤسز کی ادارتی پالیسی کو عملاً یرغمال بنا رکھا ہے ان کے احتساب کے لیے پیمرا سمیت ان تمام اداروں کو بروئے کار آنا چاہیے جو پاکستان کی سلامتی کے ذمہ دار ہے۔ ویسے تو ہمارے ٹی وی چینلز کا باوا آدم ہی نرالا ہے ‘ دنیا میں انٹرٹینمنٹ کے نام پر یہ کھیل تماشا نہ ہوتا ہو گا جو ہمیں اپنے نیوز و انٹرٹینمنٹ چینلز پر نظرآتا ہے۔ فحاشی و بے راہ روی کا ایک طوفان ہے اور مقصدیت نام کی شے دور دور تک اپنا وجود نہیں رکھتی۔ بریکنگ نیوز کے جھٹکوں سے لے کر انٹرٹینمنٹ کے نام پر بے راہ روی کے تماشوں تک کوئی نظریہ ‘ کوئی خیال اور کسی مثبت سوچ کا عمل دخل نہیں ہے۔ ٹی وی ڈراموں کے ذریعے جو کلچر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندر عام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اس پرکسی اور کالم میں اظہارِ خیال کروں گا۔

متعلقہ خبریں