Daily Mashriq


نسلِ نو کی فکر کیجئے

نسلِ نو کی فکر کیجئے

بچے والدین کی بات نہیں مانتے ،ہر وقت موبائل فون ،لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر پر گیمز میں مصروف رہتے ہیں ،آج کل کے بچے پڑھائی میں دلچسپی سے زیادہ غیر نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہیں یہ اور اس جیسی دیگر بیسیوں قسم کی شکایات تقریباً ہر گھر کا مسئلہ ہے، والدین بچوں کے مستقبل کو لے کر پریشان دکھائی دیتے ہیں کیونکہ قوموں کی شناخت ان کی اقدار ، تہذیب ، تمدن اور روایات سے ہوتی ہے، جو اقوام اپنے تاریخی ورثے کے زیر سایہ اپنی نسل کو پروان چڑھاتی ہیں وہ ہمیشہ زندہ و جاوید رہتی ہیں، کیونکہ ہر قوم کی بقا وسا لمیت اسی میں ہے کہ وہ اپنی روایات واقدار اپنی نئی نسل کو درجہ بہ درجہ منتقل کرتی رہے، کیونکہ روایات تہذیب وتمدن ہی قوموں کی شناخت ہوتی ہیں اور نوجوان ملک وقوم کو بام عروج پر پہنچانے کے ساتھ تہذیب و تمدن کے بھی وارث و محافظ ہوتے ہیں، ہماری نسلِ نو اس وطن عزیز کا اہم حصہ ہے جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ باشعور بھی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بڑی محنت و لگن کے ساتھ تمام شعبوں میں آگے بڑھ رہی ہے ، لیکن انہیں اپنی درخشاں تاریخ، ثقافت، زبان وتہذیب سے آگہی بھی ضرور ہونی چاہیے۔کیا بچے کو اپنے گھر سے ،اپنے آس پاس کے ماحول سے اور اپنے بزرگوں سے اپنی تہذیب وروایات سے متعلق سیکھنے کو کچھ مل رہا ہے؟کیونکہ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے، جہاں وہ زندگی کا پہلا سبق سیکھتا ہے ، اخلاقی تربیت حاصل کرتا ہے، وہ جس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے جس طرح کی پرورش پاتا ہے، اس کا ا ثر اس کی شخصیت اور سوچ پر بھی پڑتا ہے، وہ ابتدا میں اپنے والدین کی عادات واطوار ان کی حرکات وسکنات کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے والدین جیسا ماحول اسے مہیا کرتے ہیں وہ اس میں ڈھلنے کی کوشش کرتا ہے، اس ضمن میں والدین کی مثال ایک کمہار کی سی ہوتی ہے وہ جس سانچے میں بچے کو ڈھالیں گے وہ اسی سانچے میں ڈھل جائیں گے جب دور حاضر میں والدین یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ نسلِ نوان کی بات نہیں سنتی ، کہنا نہیں مانتی یا بد اخلاق ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ملنے والی تربیت میں کمی ہے، اگر نوجوان اخلاقی پستی کا شکار ہیں تو اس حوالے سے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچپن ہی میں اپنی اولاد کو ایسی تربیت دیں کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اطوار کے مالک ہوں، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ گھر کے تمام افراد کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے۔کھانے پینے کے آداب، بڑوں سے بات کرنے کا طریقہ، پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں انہیں اچھی طرح سمجھانا چاہیے، اگر والدین اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے انجام دیتے ہیں، اپنی اولاد کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ نوجوان غیر مہذب یا اپنی تہذیب سے نا آشنا ہوں، والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ نسل نوکی اخلاقی تربیت کریں، انہیں صرف درسی تعلیم نہ دیں بلکہ اپنی تہذیب وتمدن اور روایات سے بھی آشنا کرائیں۔اچھے استاد کی صحبت کسی بھی انسان کی زندگی بدل سکتی ہے، ایک استاد بچے کی کردار سازی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، اساتذہ سے صرف درسی تعلیم ہی نہیں حاصل کی جاتی بلکہ وہ اخلاقی تربیت بھی کرتے ہیں، ان کی ہر بات کا طلباء پر گہرا اثر ہوتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ استاد کو اپنا کرداراور اپنی شخصیت ہمیشہ مثالی رکھنی چاہیے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل نہ استاد اپنی ذمہ داریاں بہتر طور سے ادا کررہے ہیں اور نہ ہی نوجوان ان کا ادب کرتے ہیں مگر اس میں صرف نوجوان کو مورد الزام ٹھہرانا قطعی طورپردرست نہیں ہے۔آج کل بچے بھی یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے والدین کے پاس ان کے لیے مناسب وقت ہی نہیں ہے، ظاہر ہے جب تک والدین اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دیں گے، ان کے ساتھ وقت نہیں گزاریں گے، انہیں تمیز وتہذیب نہیں سکھائیں گے تب تک نسلِ نو اپنی تہذیب ، اقدار یا روایات کیسے سیکھے گی۔ یہ وہ چند وجوہات ہیں جن کی وجہ سے نوجوان تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں جب گھر میں ساز گار ماحول نہیں ملتا تو وہ انٹرنیٹ، موبائل فون وغیرہ کی طرف مائل ہوجاتے ہیں تو والدین شکایت کرتے ہیں کہ نوجوان ان کی بات نہیں سنتے۔ہم اپنی اقدار وتہذیب کو اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کررہے ہیں۔ نسل نو تک ہماری روایات اقدارو تہذیب منتقل نہیں ہورہی ہیں، اس ضمن میں نوجوانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کیلئے وقت نکالیں، کچھ دیر گھر کے بزرگوں اوربڑوں کے ساتھ گزاریں، ان کے تجربات کی روشنی میں زندگی گزارنے کے اطوار سیکھیں، اپنے اندر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ بڑوں یا اساتذہ کی ڈانٹ کو غنیمت جانیں اور اپنی اصلاح کریں، ہماری ثقافت ہماری پہچان ہے اسے زندہ رکھنا ہر فرد بالخصوص نسلِ نو کی ذمہ داری ہے۔بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر کلی طور پر پابندی لگانے کی بجائے اس کے مثبت استعمال کے فوائد اور منفی استعمال کے نقصانات بتائیںاور بچوں سے وقت نہ دینے کا شکوہ کرنے کی بجائے بچوں کیلئے خود وقت نکالیں کیونکہ یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے اور اپنی روایات و تہذیب کو اسی صورت نسل نو میں منتقل کیا جا سکتاہے جب والدین اور بزرگ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں ،اگر والدین ،اساتذہ اور بزرگوں نے وقت کی نزاکت کو نہ پہچانا تو نسل نو جدید تہذیب کے سیلاب میں بہہ جائے گی اور اس کے ذمہ دارہم خود ہوں گے۔

متعلقہ خبریں