Daily Mashriq


اپنے منہ میاں مٹھو بننا

اپنے منہ میاں مٹھو بننا

جہاں دو چار دوست مل بیٹھتے ہیں وہاں اپنے ملنے جلنے والوں، اپنے ساتھ دفاتر میں کام کرنے والوں، پڑوسیوں اور دوسرے مہربانوں کی شان میں قصیدہ خوانی شروع ہوجاتی ہے سب اپنے آپ کو پاک صاف سمجھتے ہیں اور دوسروں کی ذات میں سے کیڑے نکال کر ایک طرح کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ان کی انگلیاں ہمیشہ دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں ۔اپنے گریبان میں کسی کو جھانکنے کا وقت نہیں ملتا یا پھر کوئی اپنی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہتا ۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح لطف بہت آتا ہے اپنی شخصیت ہر قسم کی غلطیوں سے مبرا نظر آتی ہے ہمارا ذاتی تجربہ بھی یہی ہے آپ گھنٹوں دوسروں کی غیبت کرتے رہیں کیا مجال ہے جو کسی بھی قسم کی تھکاوٹ یا اکتاہٹ ظاہرہو اس کے علاوہ گفتگو کالطف اس وقت بھی دوبالا ہوجاتا ہے جب اپنی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اردو میں اس کیفیت کے حوالے سے کہا جاتا ہے اپنے منہ میاں مٹھو بننالیکن اس سے بات پوری طرح واضح نہیں ہوتی میاں مٹھو کی شخصیت سے تو سب کو آشنائی نہیں ہوتی اس لیے لوگوں پر اس ضرب المثل کی معنویت پوری طرح سے نہیں کھل پاتی۔ انگریزوں نے انگریزی میں اس کا اچھا متبادل دریافت کر رکھا ہے۔ اس سے بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔ گورے کہتے ہیں self praise no recommendationاگر اردو میں اس کا سادہ سا لفظی ترجمہ کیا جائے تو کچھ یوں ہوگا:’’اپنی ذات کے حوالے سے کی گئی تعریف کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا‘‘ہمارے یہاں بھی کہا جاتا ہے کہ تعریف تو وہ ہوتی ہے جو دوسرے کرتے ہیں۔ ویسے ہم نے اس کا ایک عذر لنگ دریافت کر رکھا ہے۔ جب ہمیں اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا شوق چراتا ہے تو ہم اپنی زنبیل میں ہاتھ ڈال کر کچھ ایسے واقعات نکال لیتے ہیں جن میں ہماری تعریف کا کوئی نہ کوئی پہلوضرور نکلتا ہے۔ یہاں ہماری طرف سے چالاکی یہ کی جاتی ہے کہ ہم ان واقعات کو بیان ہی نہیں کرتے جنہیں بیان کر کے دوسروں کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑے۔اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری واردات بڑی حکمت کے ساتھ کی جاتی ہے اور دوسروں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مقصود اپنی تعریف نہیں ہے لیکن جب آپ نے بات شروع کی ہے تو ہم بھی اس حوالے سے اپنا فرض ادا کرچکے ہیں مثلاًہمارے سامنے کوئی صاحب کسی سیاستدان کی ذات شریف میںسے کیڑے نکالنے کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیںجیسے ہی ان کی بات ختم ہوتی ہے ہم بڑے انکسار سے کہتے ہیں آپ نے بڑی اچھی بات کی ہے ہم تو اس پر ایک عدد کالم بھی داغ چکے ہیں۔ لیکن کیا کریں ہم ایک مردہ معاشرے میں رہ رہے ہیں زندہ معاشروں میں تو کالم نگار اور کالم کی بڑی حیثیت ہوتی ہے۔ اچھے کالم نگاروں کے کالم پڑھ کر حکومت اپنی پالیسیاں ترتیب دیتی ہے۔ کالم نگاروں کے مشوروں پر عمل کیا جاتا ہے جس وقت ہم یہ بات کر رہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے ذہن میں اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہماری ساری دلچسپی اس بات میں ہوتی ہے کہ ان صاحب کو پتہ چلے کہ ہمارے دل میں کتنا درد ہے اور ہم کیسے کیسے اہم مسائل پر خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں۔ بات اپنی تعریف کی چلی ہے تو یہ بھی پڑھتے جائیے کہ ہم نے کسی زمانے میں چند مہینے باکسنگ کی تربیت حاصل کی تھی۔ اس کے بعد باقاعدہ کالج میں باکسنگ رنگ بنایا اور طلبہ کو کچھ عرصہ باکسنگ سکھاتے رہے۔ اب آپ خود ہی انصاف کیجیے یہ کوئی آسان کام تو نہیں ہے ! پہلے باکسروں کے ساتھ دوتین میل دوڑ لگانا پھر باکسنگ رنگ میں punching bagپر مسلسل مکے برسانا اس کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ باکسنگ کی مشق کرنا اس سارے کام کے لیے اچھے خاصے دل گردے کی ضرورت ہے۔ اب یہ کتنی زیادتی ہے آپ خود ہی انصاف کیجیے کہ ہم اپنے احباب کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے ان کو اپنی شخصیت کے اس شاندار پہلو سے بے خبر رکھیں ! یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً ہمیں جب بھی موقع ملتا ہے ہم اپنی باکسنگ کے زمانے کے کچھ تجربات ضرورشیئر کرتے ہیںجبکہ بنیادی مقصد انہیں اپنے کارناموں سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔اپنی تعریف سے بچنے کے لیے بندے کا اعلیٰ ظرف ہونا بہت ضروری ہے ہمیں ایسے احباب کی محفل میں بھی بیٹھنے کا اتفاق ہوتا ہے جو اپنی تعریف میں ایک لفظ نہیں کہتے کسی کی غیبت نہیں کرتے۔ اگر آپ نے کسی کے حوالے سے کوئی بات کی تو مسکرا کر چپ کی چادر اوڑھے رکھتے ہیں !ہم جیسے چھوٹے لوگوں سے تو یہ سب کچھ نہیں ہوتا ہم جب تک اپنے دل کی بھڑاس نہ نکال لیں ہمیں چین نہیں آتا!ایک پروفیسر دوست نے ایک واقعہ سنایا تھا کہ ایک مرتبہ کسی کیڈٹ کالج میں کو رکمانڈر دورے پر تھے ایک کلاس میں انہوں نے ایک طالب علم سے اس کے والد صاحب کی ملازمت کے حوالے سے پوچھا تو اس نے کہا جناب میرے والد صاحب سپاہی ہیں جب کو رکمانڈر کلاس سے باہر آئے تو انہیں ٹیچرز نے بتایا کہ جناب یہ فلاں جنرل کا بیٹا ہے! جنرل بھی تو سپاہی ہوتا ہے لیکن جنرل باپ کو سپاہی کہنے کے لیے بہت بڑے ظرف کی ضرورت ہوتی ہے ۔

متعلقہ خبریں